ریاض: کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سعودی عرب نے بیرون ملک سے آنے والوں مسافروں پر سفری پابندیاں مزید سخت کردیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب آمد کے لیے ویکسینیشن اور منفی پی سی آر یا ریپڈ ٹیسٹ لازمی قراردیدیا گیا ہے اور یہ ٹیسٹ سعودی عرب روانگی سے 48 گھنٹے کے اندر اندر ہونا ضروری ہے۔
سعودی ایوی ایشن کی جانب سے جای کیے گئے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ 8 سال سے کم عمر کے بچے ویکسینیشن اور ٹیسٹنگ کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
اسی طرح سعودی عرب سے روانگی کے خواہشمند مسافروں کے لیے بوسٹر ڈوز لازمی قرار دی گئی ہے اور بوسٹر لگوائے ہوئے زیادہ سے زیادہ 3 ماہ ہوئے ہوں۔
سعودی ایوی ایشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سفری پابندیوں کا اطلاق بدھ 9 فروری سے ہوگا اور احکامات کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی جس میں مسافر کو بلیک لسٹ کرنا بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ سعودی وزارت داخلہ نے ماسک پہننے کی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے پر 1 ہزار ریال تک جرمانہ عائد کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم بار بار خلاف ورزی کرنے والے پر جرمانہ ایک لاکھ ریال تک بھی ہوسکتا ہے۔
سعودی عرب میں ماسک نہ پہننے پر ایک لاکھ ریال تک جرمانہ ہوگا
ریاض: سعودی عرب نے ملک میں کورونا کے نئے کیسز میں اضافے کے پیش نظر ماسک پہننا لازمی قرار دیا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر جرمانے کی رقم ایک لاکھ ریال تک بڑھا دی ہے۔
سعودی میڈیا کے مطابق ملک بھر میں کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت کورونا پابندیاں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں عوامی مقامات پر ماسک پہننا بھی لازمی ہے۔
سعودی عرب میں ماسک پہننے کی پابندی کی خلاف ورزی پر ایک ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جاتا ہے تاہم اب ایک ہی شخص کے دوسری بار خلاف ورزی پر یہ جرمانہ دگنا بھی ہوسکتا ہے۔
سعودی وزرت داخلہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص بار بار ماسک پہننے کی پابندی کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تو اس پر ایک لاکھ ریال تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا جاتا ہے کہ ماسک پہننے کا مطلب ناک، منہ اور تھوڑی کا مکمل طور پر ڈھانپنا ہوگا۔ غیر محتاط انداز سے ماسک پہننے والوں کو بھی جرمانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔
منبع: ایکسپریس نیوز
The post سعودی عرب کی بیرون ملک سے آنے والوں مسافروں پر سفری پابندیاں مزید سخت appeared first on شفقنا اردو نیوز.


