پاکستانی وزیر اعظم عمران خان چار روزہ دورے پرچین پہنچ گئے ہیں جہاں وہ سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت اور چینی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ البتہ چند حلقوں کی رائے میں دورے کے اصل مقاصد کچھ اور ہیں۔پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ خان کا دورہ دونوں ممالک کے مابین اسٹریٹیجک تعاون کو مزید تقویت بخشے گا۔ اس کے علاوہ مستقبل میں چین اور پاکستان کے رشتے کو مزید مستحکم بنانے کے ہدف تک پہنچنے میں بھی مدد فراہم کرے گا۔ پاکستانی وزیر اعظم کا یہ قریب دو سالوں میں چین کا پہلا دورہ ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بقول دورے کا ایک مقصد اپنے قریبی اتحادی ملک کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی ہے کیونکہ چند ملکوں نے سرمائی اولمپکس کا سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
پاکستانیوں نے تو اس دَورے پر نگاہیں جما رکھی ہی ہیں لیکن خاص بات یہ ہے کہ امریکا اور بھارت بھی اس دَورے پر اپنی نظریں مرتکز کیے ہُوئے ہیں۔ بھارتی میڈیا تو خان صاحب کے اس دَورے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے کئی ٹی وی پروگرام بھی نشر کر چکا ہے اور بھارتی اخبارات اس معاملے پر کئی مضامین ، خبریں اور تجزیے شایع کر چکے ہیں۔ جب کبھی پاکستان کی کوئی اہم ترین شخصیت چین کے دَورے پر روانہ ہوتی ہے ، امریکا اور بھارت کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اختلاف ایک طرف، عمران خان صاحب چونکہ ہم سب کے وزیر اعظم ہیں اور پاکستان کی پہچان ہیں ، اس لیے ہم سب بحیثیتِ مجموعی یہی چاہیں گے کہ اُن کا یہ دَورہ ہر لحاظ سے کامیاب و کامران ہو ۔ عمران خان کے دَورۂ چین کی خاطر خواہ کامیابی صرف پی ٹی آئی حکومت کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ یہ کامیابی سارے پاکستان اور سبھی پاکستانیوں کی شمار کی جائے گی ۔
تاہم سٹریٹیجک تعلقات کے علاوہ ہ چند حلقوں کی رائے میں دورے کے اصل مقاصد کچھ اور ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق اسلام آباد حکومت چین سے تین بلین ڈالر قرض اور چھ شعبوں میں چینی سرمایہ کاری کی خواہاں ہے۔ چین، امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ ایک مقامی روزنامے نے چند روز قبل رپورٹ کیا تھا کہ حکومت چین سے مزید تین بلین ڈالر کا قرضہ منظور کرنے کی درخواست پر غور کر رہی ہے، جسے چین کی اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف فارن ایکسچینج (SAFE) میں رکھا جا سکتا ہے تاکہ اس سے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے۔ عمران خان بھی بخوبی جانتے ہیں کہ اُن کا یہ دَورۂ چین ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وطنِ عزیز شدید قسم کے سیاسی و اقتصادی بحرانوں سے گزررہا ہے۔ جب ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر تیزی سے نیچے گررہے ہیں اور ان کا انحصار بھی زیادہ تر اووَرسیز پاکستانیوں کی بھجوائی گئی رقوم یا غیر ملکی قرضوں پر مشتمل ہے ۔ جب پاکستانی روپیہ تنزلی کا شکار ہو کر تقریباً بے وقعت ہو چکا ہے اور مہنگائی نے پاکستانیوں کی اکثریت کا کچومر نکال دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم کو چین سے اولمپک تقریبات میں شرکت کی دعوت ایک ایسے موقع پر آئی تھی جب اسے عالمی سطح پر شدید سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے برسر اقتدار آنے کے بعد عمران خان کو فون تک کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر قرض لینے کے لئے پاکستان کو ساڑھے پانچ سو ارب روپے کے مزید ٹیکس لگانے کے علاہ انتہائی متنازع سٹیٹ بنک بل منظور کروانا پڑا ہے۔ افغانستان کی دگرگوں حالت کی وجہ سے اسے افغان پناہ گزینوں کی آمد کی صورت میں شدید معاشی دباؤ کا اندیشہ ہے۔ ملکی معاشی پیداواری صلاحیت حکومتی دعوؤں کے باوجود اس قابل نہیں ہے کہ وہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور روزگار کی ضرورتوں کو بھی پورا کرے اور بیرونی قرض کی اقساط بھی ادا کرسکے۔ اس دوران چین اور سعودی عرب جیسے دیرینہ دوست ممالک کے ساتھ بھی سفاتی الجھنوں اور فاصلوں میں اضافہ ہؤا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی پیک جیسے اہم اقتصادی و اسٹریٹیجک منصوبے کا شراکت دار ہونے کے باوجود نہ کوئی چینی لیڈر گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان آیا اور نہ ہی پاکستانی وزیر اعظم کو چین کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی۔
اب اولمپکس کی تقریبات کے بہانے ہی سہی عمران خان کو چین جانے اور چینی قیادت سے معاملات طے کرنے کا ایک موقع ضرور مل رہا ہے۔ پاکستانی لیڈر چین سے پرانے قرضوں کی ادائیگی میں سہولت کی درخواست کریں گے ۔ اس کے علاوہ فوری طور سے زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لئے 3 ارب ڈالر حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ممکن ہے کہ دورہ کے دوران اس بارے میں کسی باقاعدہ معاہدہ کا اعلان بھی ہوجائے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس دورہ کو بے حد اہم اور پاک چین دوستی میں قابل قدر پیش رفت قرار دیا ہے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ’یہ دورہ چینی قیادت کی خصوصی دعوت پر کیا جا رہا ہے‘۔ کابینہ کے ارکان اور سرکاری افسروں کا ایک وفد بھی وزیر اعظم کے ہمرکاب ہوگا۔ اس دورہ میں دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا اور تجارتی و معاشی تعاون بڑھانے کے لئے بات چیت ہوگی۔ بیان کے مطابق خاص طور سی پیک کے حوالے سے معاملات زیر غور آئیں گے اور دونوں ملکوں کے لیڈر علاقائی اور عالمی پس منظر میں صورت حال کا جائزہ لیں گے۔ بیان کے مطابق یہ دورہ ’دونوں ملکوں کی آہنی دوستی کو نئی بلندیوں کی طرف گامزن کرنے کا سبب بنے گا۔
ہفتہ، 5 فروری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post عمران خان دورہ چین سے کیا حاصل کر سکتے ہیں؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.
