پاکستان اور بھارت کے مابین مقبوضہ کشمیر پر تناؤ اب واشنگٹن کے سفارتی حلقوں میں بھی واضح ہونے لگا ہے جب اسلام آباد نے اقوام متحدہ میں اپنے نمائندے کے طور پر ایک کٹٹر کشمیری کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے ایک ریٹائرڈ سفارت کار مسعود خان کو نومبر میں امریکہ میں نیا سفیر مقرر کیا تھا۔ امریکی صدر جو بائیڈن انتظامیہ نے تاحال ان کی تعیناتی کی اجازت دینی ہے۔ ایک بھارت نواز گروپ، ایک کانگریس مین اور ایک اسلاموفوبک تھنک ٹینک نے مسعود کو اس عہدے پر تعیناتی سے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 70 سالہ مسعود آزاد کشمیر کے صدر بھی رہ چکے ہیں جب کہ آزاد کشمیر کا دوسرا حصہ بھارت کے غیر قانونی قبضہ میں ہے جہاں بھارت نے بھاری فوج تعینات کر رکھی ہے۔
پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ امریکہ نے مسعود خان کی تعیناتی کو مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ جو بائیڈن کو لکھے گئے ایک خط میں، کانگریس رکن سکاٹ پیری نے امریکی صدر پر زور دیا کہ وہ مسعود خان کی تقرری کو مسترد کر دیں کیونکہ اس سے خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ تاہم پاکستان کے دفتر ِخارجہ نے بھارت کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ نے واشنگٹن کے لیے پاکستان کے نامزد کردہ سفیر مسعود خان کی سفارتی اسناد کی منظور ی کاعمل عارضی طور پرروک دیا ہے۔ پاکستان کے دفتر ِ خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے منگل کو ایک یبان میں کہا کہ مسعود خان ایک تجربہ کار سفارت کار ہیں اور ان کی سفارتی اسناد کی منظوری کا عمل امریکی نظام کار کے مطابق جاری ہے۔
بھارت کے مختلف ذرائع ابلاغ میں حال ہی میں شائع ہونے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسعود خان کے کشمیر کے حق اور بعض کشمیری علیحدگی پسند عناصر کی حمایت میں دیے گئے بیانات کی وجہ سے امریکہ نے مسعود خان کی پاکستان کے سفیر کے طور پر نامزدگی کی منظوری عارضی طور روک دی ہے۔سفیر مسعود خان اس سے قبل اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے اور چین میں اس کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ واشنگٹن میں سبکدوش ہونے والے پاکستانی سفیر اسد مجید خان کی جگہ لیں گے۔اگست 2021 میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد سے واشنگٹن کی پاکستان میں اتنی دلچسپی نہیں رہی ہے جس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات نسبتاً سرد مہری کا شکار ہیں۔
پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ مسعود خان کی نامزدگی معمول کے طریقۂ کار کے مطابق ہوئی ہے۔ انہوں کہا کہ ہر حکومت کا اختیار ہوتا ہے کہ کسی شخص کی بطور سفیر نامزدگی کو قبول کریں یا مسترد کریں۔اُن کے بقول حکومت نے مسعود خان کی نامزدگی سے قبل ان ممکنہ رکاوٹوں کا جائزہ لیا ہو گا ، لہذٰا اس معاملے پر قیاس آرائیاں نہیں کرنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ مسعود خان چین اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر کام کر چکے ہیں اس کے علاوہ وہ امریکہ میں کئی سال تک بھی پاکستان کے نائب سفیر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔مسعود خان کی نامزدگی کی توثیق میں تاخیر ایک ا یسے وقت ہورہی جب مبصرین کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے تعلقات افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے انخلا کے بعد بظاہر سردی مہری کا شکار ہیں۔
جنوبی ایشیا کے امور پر ماہر مائیکل کگلیمین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن مسعود خان کی تعیناتی کو مسترد بھی کر سکتا ہے اور اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یاد رہے کہ مسعود خان بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارت مظالم کے سخت نقاد ہیں اور جب 2019 میں نئی دہلی نے آئین میں تبدیلیاں کر کے مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کر دی تھی تو اس وقت بھی مسعود خان نے بھارت پر سخت تنقید کی تھی۔ اس وقت تک ہزاروں کشمیری بھارتی بربریت کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ پورے خطے میں بھارت نے جنگی زون میں تبدیل کر کے اسے جیل کی شکل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ مسعود خان نے 2020 میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو ایک خط میں لکھا تھاکہ سیکورٹی کونسل کو بھارتی مقبوضہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ تاہم بھارتی مقبوضہ کشمیر پر مسعود خان کا مؤقف وہی ہے جو تمام پاکستانی سفیروں اور حکومتی عہدیداران کا ہوتا ہے۔
پاکستان کے سابق سفیر شاہد امین کا کہنا ہے کہ سفارتی روایت رہی ہے کہ ایک ملک جب دوسر ے ملک میں کسی شخص کو اپنا سفیر نامزد کرتا ہےتو میزبان ملک کا یہ حق ہے کہ وہ اس تقرری کی منظوری دینے میں وقت لے سکتا ہے اور اس میں وقت لگ سکتا ہے۔لیکن ان کےبقول بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ مسعود خان کے معاملے میں امریکہ معمول سے زیادہ وقت لے رہا ہے جو ایک غیر معمولی بات ہے کیوں کہ ماضی میں ایسا کم ہی ہوا ہے۔شاہد امین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں امریکی محکمۂ خارجہ ہی وضاحت کر سکتا ہے کہ مسعود خان کے نام کی منظوری میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسعود خان پاکستان کے ایک کریئر سفارت کار رہے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر منتخب ہوئے۔شاہد امین کا یہ بھی کہنا ہےکہ کشمیر کی حمایت میں ان کابیان کوئی نئی بات نہیں ہے عمومی طور پر پاکستان کے عہدیدار ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں۔وہ نہیں سمجھتے کہ ان بیانات کی وجہ سے مسعود خان کی واشنگٹن میں پاکستان سفیر کی طور پر تقرری رک جائے گی۔
امریکی کانگریس کے رکن کے ایک اسلاموفوبک رکن اسکاٹ پیری نے امریکی صدر جوزف آر بائیڈن کے نام ایک خط میں اس کے خلاف نہ صرف احتجاج کیا ہے بلکہ اس کو خطرناک بھی قرار دیا ہے۔ اس خط میں میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے دہشت گردوں کے ہمدرد کی نامزدگی خطے میں ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے کام کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ہندوستانی اتحادیوں کی سلامتی کا بھی مسئلہ ہوگیا ہے۔امریکی کانگریس کے رکن نے مزید کہا کہ مسعود خان نے دہشت گردوں اور غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں – بشمول حزب المجاہدین کی سخت اور پریشان کن الفاظ میں تعریف کی ہے۔انہوں نےحزب المجاہدین کے سابق کمانڈر برہان وانی جیسے جہادی کی سراہنا کی تھی اورنوجوانوں کو تقلید کی ترغیب دی ہے۔ یاد رہے کہ اسکاٹ پیری کو امریکی قانون ساز الہان عمر نے اسلاموفوبک بیانات کی وجہ سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
مائیکل کگلیمن کے مطابق بھارت مسعود خان کے کشمیر کے ساتھ مضبوط تعلق کی وجہ سے پریشان ہے کیونکہ مسعود خان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر رہ چکے ہیں اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے کشمیریوں کے حقوق کی ایک مضبوط آواز ہیں۔ درحقیقت مسعود خان کی سابقہ وابستگی اور بھارتی مقبوضہ کشمیر پر سیاسی نظریات بھارت کے لیے پریشانی کا سبب ہیں۔ مسعود خان اس وقت مقبول ہوئے جب انہوں نے 2003 میں پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کی ذمہ داریاں سنبھالیں یہ وہ وقت تھا جب امریکہ افغانستان میں قدم جما رہا تھا۔ حتٰی کہ بھارت صحافی جو ان کہ ہفتہ وار پریس بریفنگ میں موجود ہوتے تھے وہ انہیں بہت حلیم الطبع اور دستیاب قرار دیتے تھے۔ تاہم مسعود خان 2005 میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہوگئے تاہم حکومت نے انہیں اہم پوسٹوں پر تعینات کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اس سے قبل وہ چین میں پاکستانی سیفر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب بھی رہ چکے ہیں۔
ہفتہ، 5 فروری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post کیا امریکہ پاکستانی سفیر کی تعیناتی میں جان بوجھ کر تاخیر کررہا ہے؟ شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.
