English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تجزیہ 23

القمر

داعش دہشت گرد تنظیم  نے شام کی تحصیل خاصیکہ میں  ایک دوسرے دہشت گرد تنظیم پی کے کے / وائے پی جی کے زیر ِ کنٹرول  سینا جیل   پر ایک وسیع پیمانے کا حملہ کیا۔ سینکڑوں  انسانوں کے ہلاک ہونے والی  جھڑپوں کے بعد  ذہنوں میں  داعش کے خطرات کے دوبارہ سے جانبر ہونے   کے سوالات ابھرنے لگے ہیں تو  PKK کو استعمال کرتے ہوئے  داعش کے خلاف جنگ  کرنے  کی غلطی  ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔

سیتا خارجہ پالیسی  محقق جان اجون کا مندرجہ بالا موضوع پر تجزیہ ۔۔

ماہ جنوری  کے اختتام کی جانب داعش  دہشت گرد تنظیم  سے وابستہ سیلز نے شامی  تحصیل خاصیکہ  میں  دہشت گرد تنظیم  پی کے کے /  وائے پی جی کے کنٹرول میں ہونے والی سینا جیل  پر وسیع پیمانے  کے  حملے کرنے شروع کر دیے۔  تنظیم کے بھاری تعداد میں سیلز نے  کاروائیاں کرتے ہوئے  جیل کو نشانہ بنایا تو  جیل میں  بند  داعش کے قیدیوں نے بھی  منظم طریقے سے بغاوت کا عمل شروع کر دیا۔  جیل سے باہر  موجود داعش کے کارندوں نے جیل کے شمالی  دروازے  پر  ایک کار بم دھماکہ کرتے ہوئے  قیدیوں کو منظم طریقے سے فرار ہونے کا موقع فراہم کیا۔ کہا جاتا ہے کہ  نام نہاد   داعش سرغنوں کے بھی  شامل  ہونے والے سینکڑوں  قیدی  جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔  داعش سیلز نے خاصیکہ  کے بعض محلوں پر قبضہ جما لیا ہے۔ ان جھڑپوں میں 2 سو سے زائد  کارندوں کا نقصان برداشت کرنے والی دہشت گرد تنظیم  پی کے کے / وائے پی جی   عناصر کے  کمزور پڑنے پر امریکی اور برطانوی خصوصی قوتوں نے بھی مداخلت کی۔  امریکی فضائی قوتوں نے داعش کے قبضے میں آنےو الی  سینا جیل اور جوار کے بعض محلوں پر بمباری کی۔

سینا بغاوت  آیا کہ کیا مفہوم رکھتی ہے؟

اولین طور پر  یہ صورتحال داعش کے ایک بار پھر  وائے پی جی کے علاقے میں طاقت پکڑنے  اور  دہشت گرد تنظیم پی کے کے / وائے پی جی    کے داعش کے برخلاف  قابل ذکر حد تک مزاحمت نہ کر سکنے کا مظاہرہ کر رہی ہے۔  داعش نے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ  نمایاں  حیثیت حاصل کرنی شروع کر دی ہے تو  تازہ  کاروائیوں کے  کہیں زیادہ پُر منظم طریقے سے اور کسی کمان کے ماتحت   وقوع پذیر ہونے  کا  پتہ  چلتا ہے۔  در اصل  سینا جیل  میں  قیدیوں کی بغاوت کی کوشش اور بعد کی پیش  رفت  نے ترکی کے  بنیادی نظریے  کہ’’ایک دہشت گرد تنظیم کو استعمال کرتے ہوئے کسی دوسری دہشت گرد تنظیم کے خلاف  جنگ نہ کیے جا سکنے‘‘ کو دوبارہ سے حق بجانب ٹہرایا ہے۔

اگر چہ بعض  فوائد حاصل ہوتے ہیں تو بھی   PKK/YPG جیسی دہشت گرد تنظیم کا استعمال کرکے داعش کے خلاف جنگ میں حقیقی کامیابی حاصل کرنا کبھی بھی ممکن نہیں ہے۔ اس کے برعکس، داعش شام میں دریائے فرات کے مشرق PKK/YPG کے تسلط کو ختم کررہی ہے اور اس عمل سے فائدہ اٹھا کر دوبارہ طاقت حاصل کرنے کی درپے ہے۔ PKK کے نسلی اور سیکولر مسلط، خطے کی سماجیات کے برعکس، داعش کی   اہم سطح پر پرورش  کررہی  ہے۔

داعش کے برخلاف کسی  حقیقی اور با معنی  جنگ کے لیے  علاقے  کے نسلی و مذہبی توازن کو برقرار رکھنے اور علاقائی سماجیاتی  ہم آہنگی کے حامل  اقتدار کی موجودگی لازم   و ملزوم  ہے۔  اس چیز کے  لیے شامی انتظامیہ کی قطعی تبدیلی اور ملک میں اصلاحات اور مشرقی فرات کے  علاقوں  کو پی کے کے / وائے پی جی کے چنگل سے نجات دلانے کی ضرورت ہے۔  وگرنہ  داعش  کی حقیقت کا سامنا کرنے کا عمل جاری رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے