English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغانستان سے فوجی انخلاءکے لیے اچھا وقت کوئی نہیں تھا، بائیڈن

القمر

واشنگٹن:امریکی صدر جو بائیڈن نے ایسی میڈیا رپورٹیں مسترد کر دی ہیں کہ ملکی فوج میں ان کے افغانستان سے حتمی انخلاءکے فیصلے پر عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔

بائیڈن نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کے لیے کوئی بھی وقت اچھا وقت نہیں تھا۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اسی ہفتے اپنی طرف سے چھان بین اور امریکی فوج کے کئی کمانڈروں کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ملکی فوج میں اس وقت اور حالات کے حوالے سے بہت عدم اطمینان کے ساتھ ساتھ تنقید بھی پائی جاتی ہے، جن میں صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے گزشتہ برس موسم گرما میں افغانستان سے واشنگٹن کے مکمل فوجی انخلا کا فیصلہ کیا تھا۔اخبار کے مطابق امریکی فوج کے کئی کمانڈروں نے یہ الزام بھی لگایا کہ وائٹ ہاس اور ملکی وزارت خارجہ نے افغانستان سے فوجی انخلا کے مشن کی تیاریاں نہ صرف بہت تاخیر سے شروع کیں بلکہ ساتھ ہی طالبان کو حاصل ہونے والی عسکری کامیابیوں کو بھی نظر انداز کیا گیا۔

صدر بائیڈن نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایسی رپورٹوں اور ملکی فوجی کمانڈروں کی طرف سے کی جانے والی مبینہ تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا، ”نہیں، یہ وہ سب کچھ نہیں، جو مجھے بتایا گیا تھا۔ ڈیموکریٹ صدر بائیڈن اب تک متعدد مرتبہ اپنے فیصلوں کے حوالے سے ایسے الزامات کے خلاف دفاعی موقف اختیار کر چکے ہیں کہ افغانستان میں تقریبا بیس سال تک جاری رہنے والی امریکا کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ اور فوجی انخلا دونوں بہت جلد بازی میں کیے گئے۔

جیسے ہی افغان طالبان نے کابل کا محاصرہ کیا، شہر میں واقع امریکی سفارت خانے سے اس کا عملہ نکال لیا گیا۔ یہ تصویر پندرہ اگست کی ہے، جب امریکی چینوک ہیلی کاپٹر ملکی سفارتی عملے کے انخلا کے لیے روانہ کیے گئے۔ جرمنی نے بھی انخلا کے اس مشن کے لیے ہیلی کاپٹر اور چھوٹے طیارے روانہ کیے تھے۔جو بائیڈن نے این بی سی کو بتایا، ”افغانستان سے فوجی انخلا کے لیے کوئی بھی اچھا وقت تو کبھی تھا ہی نہیں۔

انہوں نے اس رائے کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا کہ مکمل فوجی انخلا کا واحد متبادل صرف یہی ہو سکتا تھا کہ مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجے جائیں، ”لیکن تب ہم پھر اسی جنگ کی طرف لوٹ جاتے، جو بتدریج غیر مثر ہوتی جا رہی تھی۔گزشتہ برس اگست میں افغانستان سے امریکی فوجی دستوں کا حتمی اور مکمل انخلا کافی انتشار کا شکار رہا تھا۔ اس کے تقریبا ساتھ ہی ہندوکش کی اس ریاست میں سخت گیر طالبان ایک بار پھر اقتدار میں آ گئے تھے، جنہیں امریکا نے دو عشرے قبل اس ملک پر فوجی چڑھائی کر کے اقتدار سے نکالا تھا۔تب اس پیش رفت کو سپر طاقت امریکا کی حوصلے پست کر دینے والی فوجی شکست سے تعبیر کیا گیا تھا۔ یہی نہیں تب امریکی حکومتی اقدامات اور افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آ جانے کی وجہ سے امریکا کے مغربی اتحادی ممالک کی طرف سے صدر جو بائیڈن پر شدید تنقید بھی کی گئی تھی۔

The post افغانستان سے فوجی انخلاءکے لیے اچھا وقت کوئی نہیں تھا، بائیڈن appeared first on Daily Jasarat News.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے