لکھنؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) اترپردیش اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت 11اضلاع میں 58نشستوں پر پولنگ ہو ئی،جس میں ٹرن آؤٹ 60فیصد سے زائد رہا۔ خبررساں اداروں کے مطابق حکمراں جماعت کے سیاہ کرتوتوں کے باعث ریاستی انتخابات مودی سرکار کے لیے کڑا امتحان بن چکے ہیں۔ انتخابات کے پہلے مرحلے میں 58 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی، جب کہ 345نشستوں پر رائے شماری باقی ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق امیدواروں میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے اور اس بار بی جے پی کو اپوزیشن سماج وادی پارٹی اور راشٹریہ لوک دل اتحاد سے اس کا براہ راست مقابلہ ہے۔ بعض حلقوں میں بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس کے امیدواروں نے بھی مقابلے کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے بھرپور انتخابی مہم چلائی اور وزیر داخلہ امیت شرما اور بی جے پی کے دیگر سیاستدان ووٹ مانگنے کے لیے گھروں تک پہنچ گئے۔ واضح رہے کہ پہلے مرحلے میں جن اضلاع میں ووٹ ڈالے گئے انہیں ’گنا بیلٹ‘ کہا جاتا ہے اور وہاں کسانوں کے بہت سارے مسائل ہیں۔ موجودہ بی جے پی حکومت نے ان کی شکایتوں کو دور کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کسان رہنماوں کا کہنا ہے کہ 5برس گزر جانے کے باوجود بیشتر مسائل اب بھی جوں کے توں ہیں۔ کسانوں کے احتجاج نے بی جے پی کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا اور انہیں منانے کے لیے اس نے مختلف حربے اپنائے۔
The post اتر پردیش میں انتخابات ، مودی کا امتحان شروع appeared first on Daily Jasarat News.
