بھارت میں جاری حجاب تنازع سیکورٹی فورسز نے جمعہ کو کرناٹک کے تین شہروں اُوڈپی، چتردرگا اور ڈوڈابلا پورہ میں فلیگ مارچ کیا جبکہ طالبات پر کلاس میں حجاب لینے کے خلاف سختی دوسری ریاستوں تک پہنچ گئی ہے . گزشتہ روز راجھستان اور یوپی کے بھی کئی شہروں کے کالجز کی انتظامیہ نے ہندوتوا شدت پسندی کا اظہار کرتے ہوئے طالبات کو کلاسز لینے سے روک دیا.
متاثرہ شہروں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فلیگ مارچ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب یہ معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور عدالت نے کہا ہے کہ وہ پیر کو حجاب کی پابندیوں کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر دوبارہ غور کرے گی۔
قبل ازیں ہائی کورٹ نے حجاب تنازعہ سے متعلق زیر التواء درخواستوں پر ایک عبوری حکم جاری کیا تھا، جس میں ریاستی حکومت سے تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ ساتھ طالبات کو کلاس روم کے اندر زعفرانی شال، گلے کا رومال یا حجاب پہننے سے روک دیا ہے۔ مذہبی پرچم وغیرہ لے جانے کی بھی ممانعت کردی ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ حکم صرف ان اداروں پر لاگو ہوگا جہاں کالج ڈویلپمنٹ کمیٹی نے طلباء کے لیے ڈریس کوڈ یا یونیفارم نافذ کیا ہو۔
دوسری جانب کرناٹک حجاب تنازع دوسرے شہروں میں بھی سرابھار رہا ہے ، اطلاعات کے مطابق راجھستان اور یوپی (اترپردیش) کے شہروں میں بھی حجاب تنازعہ کی انٹری ہوگئی ہے۔
گزشتہ روز راجھستان کے شہر جے پورضلع کے چاکسو قصبے میں ایک پرائیویٹ کالج میں برقعہ اور حجاب کو لے کر انتظامیہ نے طالبات کو انٹری نہیں دی جس پر تنازع بڑھ گیا .اطلاع کے مطابق قصبے کے کستوری دیوی (کے ڈی ) کالج میں مسلم طالبات جمعہ کو صبح کالج میں برقعہ اور حجاب پہن کرپہنچیں تو کالج انتظامیہ نے انہیں ڈریس کوڈ نہیں پہن کر آنے پر مین گیٹ پر روک دیا۔ اور ہدایت کی کہ وہ گھر سے ڈریس کوڈ کے مطابق لباس پہن کر آئیں۔ طالبات نے اس کی اطلاع اپنے اہل خانہ کو دی۔
معاملہ طول پکڑنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور طالبات اور اہل خانہ کو سمجھا کر معاملہ ختم کرایا
تھانہ انچارج یشونت یادو نے اس معاملے میں کہا معاملہ آپسی سمجھداری کا ہے۔ لڑکیوں کے مستقبل کو دھیان میں رکھتے ہوئے غیر ضروری طول نہیں دینا چاہئے۔ اچھا ہوگا کہ بات چیت صرف طالبات کے سرپرستوں اور کالج انتظامیہ کے درمیان خوشگوار ماحول میں معاملہ حل ہو جائے۔
اترپردیش کے ایک کالج سے بھی حجاب پہننے والی طالبہ کونکال دیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پرہے جسکے سبب اترپردیش کے شہرجون پورکے ایک کالج میں بھی مسلمان طالبہ کوحجاب کرکے کالج آنے پرکلاس سے نکال دیا گیا۔پرنسپل اوراساتذہ نے بھی طالبہ کی مدد کرنے کے بجائے یونیفارم کے اصولوں کی پابندی کرنے کو کہا۔
کالج پرنسپل کا کہنا ہے کہ کالج میں سب کویکساں نظرآنے کے لئے اصولوں کی پابندی کرنا ہوگی۔
کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کے داخل ہونے پرپابندی عائد کردی گئی ہے۔حجاب پرپابندی کیخلاف بھارت کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا جارہا ہے۔
طالبات کے احتجاج کوروکنے کے لئے کرناٹک کے تعلیمی ادارے 16 فروری تک بند کردئیےگئے تھے تاہم عدالت نے عبوری حکم میں پیر سے تعلیمی ادارے کھولنے اور مسلم طالبات کو عدالتی فیصلہ آنے تک ڈریس کوڈ کی پابندی کے نام پر حجاب ترک کرنے کا حکم دیا ہے .
The post حجاب تنازع: کرناٹک میں فورسز کا فلیگ مارچ، یوپی و راجھستان میں بھی حجابی طالبات پر پابندی appeared first on Daily Jasarat News.
