بھارت کی عالمی شہرت یافتہ مصنفہ ارون دھتی رائے کا کہنا ہے کہ بھارت مسلمانوں اوردیگراقلیتوں پرجتھوں کی شکل میں تشدد کرنے والا ملک بن چکا ہے۔
بھارتی صحافی کرن تھاپڑ کو انٹرویو میں مصنفہ ارون دھتی رائے کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہندوقوم پرستی بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
بھارت گزشتہ 5 سال کے دوران ’جتھوں کی شکل میں تشدد‘ کرنے والی قوم بن چکی ہے۔ہندوانتہاپسند جتھے دن دھاڑے مسلمانوں اوردلتوں کوبدترین تشدد کا نشانہ بنا کرقتل کرکے ویڈیوز دیدہ دلیری سے یوٹیوب پرڈال دیتے ہیں۔
بھارت کی موجودہ صورتحال مایوس کن ہے۔ ہندوقوم پرستی کی وجہ سے بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیرکوآزادی حاصل ہونا چاہئیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کشمیری بھارت کا حصہ کیوں بننا چاہئیں گے۔آزادی نہ دی تو کشمیر ایشو بھارت کو کھا جائے گا.
ارون دھتی رائے کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اس وقت افراتفری، انتشار اورکنفیوژن کا شکارہے۔ایک وقت آئے گا کہ بھارت میں لوگ نریندرمودی اوربی جے پی کے فاشسزم کی مزاحمت کریں گے۔
میں اردو دھتی رائے نے بھارت کی موجودہ صورتحال کو انتہائی مایوس کن قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ کشمیری بھارت کا حصہ کیوں بنناچاہیں گے؟کشمیر بھارت کو کھا جائے گا، آزادی وہی ہے جو کشمیر کو حاصل ہونی چاہیے۔

