English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اے آر وائی کے رپورٹر اقرار الحسن پر خفیہ ادارے کے اہلکاروں کا بدترین تشدد

القمر

نجی ٹیلی وژن اے آر وائی کے مشہور رپورٹر اقرار الحسن پر دوران کوریج خفیہ ادارے آئی بی کے اہلکاروں نے حملہ کر دیا، انھیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سندھ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث 5 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اقرار الحسن اپنے پروگرام کی کوریج کر رہے تھے کہ اچانک آئی بی کے اہلکاروں نے انھیں زدوکوب کرنا شروع کر دیا۔ انھیں شدید زخمی حالت میں عباسی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

صحافتی حلقوں نے اقرار الحسن کو تشدد کا نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام ملزموں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سلیم صافی نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اہل صحافت کے لئے جہنم بنتا جا رہا ہے۔ اقرار الحسن کو صحافتی ذمہ داریوں سے روکنا اور تشدد کا نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہیے۔ شکر ہے اقرار الحسن کی زندگی بچ گئی ہے۔ اللہ انہیں جلد صحت کاملہ عطا کرے آمین۔

 

اے آر وائے کے اینکر وسیم بادامی نے بتایا کہ ادارے کے کرپٹ افسر کے بارے میں اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا تو اسلحے کے زور پر دھمکا کر ٹیم کے کپڑے اتروا کر ویڈیو بنائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ذہنی طور پر صدمے سے گزر رہے ہیں۔ ٹیم کے سارے اراکین کے کپڑے اتروا کر ان پر تشدد کیا گیا۔ ان کی ٹیم کے اراکین کو برہنہ کرکے ناصرف ویڈیو بنائی گئی بلکہ نازک اعضا پر کرنٹ لگایا گیا۔

دوسری جانب اے آر وائے کی ایک پوسٹ میں اقرار الحسن نے دعویٰ کیا کہ انٹیلی جنس بیورو کے ایک انسپکٹر کی بدعنوانی بے نقاب کرنے پر انہیں اور ان کی ٹیم کو برہنہ کرکے ویڈیوز بنائی گئیں اور دھمکایا گیا کہ اگر کرپشن کی ویڈیو منظرِ عام پر لائی گئی تو ہماری ویڈیوز جاری کردی جائے گی۔

اینکر کا کہنا تھا کرپشن بے نقاب کرنے پر ٹیم سرِ عام کو 3 گھنٹوں تک مبحوس رکھا گیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کے 2 اراکین کے اعضائے مخصوصہ کو بجلی کے جھٹکے لگائے گئے جو اس وقت شدید تکلیف میں ہیں اور علاج جاری ہے۔

صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے ایک ٹوئٹر پیغام میں اقرار الحسن اور ان کی ٹیم پر ہونے والے حملے کی مذمت کی اور اے آر وائے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وفاقی ادارے کے 5 عہدیداروں کو معطل کردیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے