English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان ڈائری

القمر

ایلفا براوو چارلی کے ہیرو کیپٹن گل شیر کا انٹرویو

کرنل ر قاسم شاہ کو کون بھول سکتا ہے جن سب نے شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل سہنرے دن اور ایلفا براوو چارلی دیکھے ہیں وہ بنوں کے گل شیر کے کردار کو کیسے فراموش کرسکتے ہیں جو ایک حوالدار کا بیٹا ہوتا ہے اور فوج میں بطور کیپٹن کمیشن حاصل کرتا ہے۔ بھولا بھالا گل شیر بہت ایماندار اور محنتی ہوتا ہے۔ سہنرے دن میں ایک جوان کیڈٹ کی کہانی ہے جو نیا نیا پی ایم اے میں آتا ہے سخت ٹرینگ کا دور ہوتا ہے۔ ساتھ شرارتیں اور موج بےفکری کے دن بھی فلمائے گئے۔ اس کے بعد ڈرامہ سیریل ایلفا براوو چارلی میں کیپٹن گل شیر کا کردارنبھایا اور خوب داد سیمٹی۔ وہ فوج کے ساتھ منسلک رہے اور کچھ عرصہ قبل فوج سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔

کرنل ر قاسم المعروف کیپٹن گل شیر نے ٹی آر ٹی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ میانوالی میں پیدا ہوئے انکے والد کی وہاں پوسٹنگ تھی۔ انکی سکولنگ پشاور سے ہوئی اسکے بعد کھیوڑا رسالپوراسلام آباد پشاور کے سکولز میں وہ زیر تعلیم رہے۔پھر کالج کے بعد پی ایم اے جوائین کیا اور نسٹ سے انجینرنگ کی ڈگری مکمل کی۔

 قاسم شاہ کہتے ہیں

۱۹۸۹ میں پی ایم اے جوائن کیا وہاں سنہرے دن کی عکس بندی کا آغاز ہوا اور مجھے گل شیر کا کردار ملا۔ اکیڈمی کی ٹرینگ کے ساتھ میں نے گل شیر کا کردار نبھایا۔جب پاس آوٹ ہوا تو اسکے پندرہ دن کے بعد ڈرامہ ان ائیر ہوگیا۔  وہ قاسم سے گل شیر مشہور ہوگئے۔جب شہرت ملی تو بہت سی چیزیں عجیب ہوگئ آپ کی کوئی پرائیوئسی نہیں رہتی ہر وقت لوگوں سے ملنا پڑتا ہے۔ ہرجگہ لوگ گھیر لیتے ہیں میں اکثر شادیوں پر جانے سے پہلے کھانا کھالیتا ہوں کیونکہ لوگ وہاں باتوں میں ملنے ملانے میں مشغول رہتے۔ شہرت سے نجی زندگی ختم ہوجاتی ہے اس وقت موبائل کا زمانہ نہیں تھا تو آٹوگراف اور رول والے کیمرے سے تصاویر لی جاتی تھیں۔ فیملی اور دوست فینز کی وجہ سے فنکشنز میں نظر انداز ہوجاتے تو میں انکو سمجھاتا کہ فینز کو عزت دینا بہت ضروری ہے۔

وہ کہتے ہیں ایلفا براوو چارلی کے زمانے میں فوج میں میری تنخواہ ۶ ہزار تھی میرے پاس مہران گاڑی تھی اس کے سیٹ کور پھٹے ہوئے تھے میں نے سوچا اگلی تنخواہ پر نئے کور لگوالوں گا۔ اس دوران جتنے فین ملے میں گاڑی سے اتر کر شیشے کے آگے ایسے کھڑا ہوجاتا کہ کسی کو کور نا نظر آئیں۔

کرنل ر قاسم کے فیز بھی یہ کہتے ہیں کہ وہ جب بھی ملے اپنے فین عزت دی کبھی آٹوگراف یا تصویر سے منع نہیں کیا۔ ہمیشہ مسکرا کر ملے۔

اگر انکے فوجی کرئیر کی بات کریں تو ان کی پوسٹنگ کراچی میں ہوئی وہ کہتے ہیں یہ گولڈن ٹائم تھا میں نے کراچی گھوما ڈیوٹی انجام دی، لوگوں سے ملا اسکے بعد ملتان پوسٹنگ ہوئی۔ چار سال انجینرنگ کی ڈگری مکمل کی اور دوبارہ سے شاگرد بن کر اچھا لگا۔ میں اس وقت معروف ہوچکا تھا اس لئے کلاس میں ہر سوال میری طرف آجاتا تھا۔ راولپنڈی میں چار سال اچھے گزرے۔ا س کے بعد جرمنی گیا وہاں سے کورس کیا۔ ملک کے باہر بہت سے سفر کئے سعودیہ عرب گیا اور متعدد ممالک دیکھے۔ پنوعاقل اور پنڈی پوسٹنگ ہوئی۔ مجھے بلوچستان میں مچھ کا ایریا بہت پسند ہے میں وہاں بہت جاتا تھا۔ اس وقت حالات خراب تھے آئی ڈی بلاسٹ ہوتے تھے میرے لئے بھی ایک بار بارودی مواد نصب کیا گیا تاہم میری ٹیم  نے اسکی نشاہدہی کرکے بارود زمین سے نکال دیا۔

اپنی نجی زندگی کے حوالے سے کرنل ر قاسم نے کہا کہ انکے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں انکے بیٹے نے حال ہی میں پی ایم اے جوائین کیا ہے۔ انہوں نے کہا یہ ہم سب کے لئے ایک قابل فخر لمحہ تھا باقی تینوں بچے سکول میں ہیں۔ انکی بیگم تعلیم کے شعبے کے ساتھ منسلک ہیں۔ تین سال پہلے انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی اب وہ ایک فرم کے ساتھ منسلک ہیں اور انہوں نے ایک برینڈ لانچ کیا ہے۔انٹرویو کے دوران وہ گھر کی شفٹنگ کررہے تھے کام کے ساتھ ساتھ وہ سوالوں کے جوابات دیتے رہے یہ ہم دونوں کے لئے ایک خوش گوار تجربہ تھا۔

وہ کہتے ہیں مجھے کام کی وجہ سے بہت سفر کرنا پڑتا ہے مجھے لوگوں سے مل کر اچھا لگتا ہے۔ انہوں نے کہا ابھی اپنا گھر بنانا ہے ایک برینڈ لانچ کیا ہے امید ہے کامیابی ہوگی۔ فارغ اوقات میں جم جاتا ہوں کھیلوں میں حصہ لیتا ہوں۔ اس ہی طرح چائے کافی پر دوستوں سے ملاقات اسکے بعد بھرپور فیملی ٹایم اور بچوں کے ساتھ گپ شپ ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں بھرپور کوشش کررہا ہوں اپنا بزنس شروع کیا جائے۔

انکے پاس ڈاگ ہے وہ انکا پسندیدہ ترین جانور ہے انکو دیگر جانور بھی بہت پسند ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جانور بہت پسند ہیں ان کے ساتھ وقت گزارتا ہوں اسکے ساتھ ٹریولنگ انکو بہت اچھی لگتی ہے۔ ٹی آر ٹی سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا میرا سیاست میں فلحال آنے کا کوئی امکان نہیں مستقبل کا اللہ کو پتہ ہے۔ وہ کہتے ہیں میں اپنے بچوں کو بار بار نماز کی تلقین کرتا ہوں اور اکیڈمی میں موجود بیٹے کو بطور خاص نماز کا کہتا ہوں۔

 ہم سب اس سبز پرچم کے سائے تلے رہ رہے ہیں جہاں بھی جائیں یہ یاد رکھیں ہم سب پاکستانی ہیں اور یہ ملک بہت قربانیوں سے حاصل کیا گیا۔ قائد اعظم اور تحریک پاکستان کے کارکنان کی انتہک محنت جہدوجہد کے بعد ہمیں آزادی ملی ہمیں اسکی قدر کرنا ہوگی۔ اس وقت ہمارے فوجی جوان ملک کے کونے کونے میں فرایض انجام دے رہے ہیں خنجراب پاس سے گوادر کا ساحل فوجی باڈر کی حفاظت کررہے ہیں تاکہ ہماری نئ نسل کو محفوظ مستقبل ملے۔ہمیں ان قربانیوں اور آزادی کی قدر کرنا ہوگی۔

وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ کرپٹ ہیں وہ ہماری نئ نسل کے مستقبل کو گروی رکھ رہے ہیں ہمیں ان سے محتاط رہنا ہوگا۔ ہم سب کو آج میں کل کے لئے کام کرنا ہوگا۔ ہمیں نئ نسل کو قرضوں والا ملک نہیں آزاد ملک دے کر جانا ہے۔انہوں نے ٹی آر ٹی صارفین کے لئے اپنے پیغام کہا کہ ہم سب کو نئ نسل کو ایک محفوظ مستقبل دینا ہوگا اور ہم سب کو آزادی کی قدر کرنا ہوگی۔ کرنل قاسم المعروف کیپٹن گل شیر کو آپ ٹویٹر پر فالو کرسکتے ہیں

Twitter @gulsher34

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے