واشنگٹن :امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ٹام ویسٹ نے خطے کے حوالے سے جو بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس افغانستان میں آگے بڑھنے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔
واشنگٹن میں واقع امریکی ادارہ برائے امن و امان میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ٹام ویسٹ نے طالبان کے ساتھ امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا، لیکن شکایت کی کہ اسلام آباد اکثر واشنگٹن کی تجاویز کو نظر انداز کردیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا پاکستانی رہنماﺅں کے ساتھ اچھا، ایماندار اور نتیجہ خیز تعلق رہا اور ان کو اپنے نظام میں افغانستان کے معاملات میں بہت مہارت حاصل ہے، میرا خیال ہے کہ ہمارے پاس پاکستان کے ساتھ آگے بڑھنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔اس سیشن میں ٹام ویسٹ واحد اسپیکر تھے جس کا مرکز طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکا کی طالبان، افغان شہریوں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مشاورت تھی۔تاہم سیشن کے ماڈریٹر و سابق امریکی مشیرِ قومی سلامتی اسٹیفن جے ہاڈلی نے امریکا ۔ پاکستان تعلقات، اسلام آباد اور کابل کے نئے حکمرانوں کے درمیان فرق اور ٹی ٹی پی اور ڈیورنڈ لائن پر طالبان کے موقف سے متعلق متعدد سوالات کیے۔
