نئی دہلی/اترپردیش(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(پی جے پی) کی رکن اسمبلی بھی حجاب کیخلاف زہراگلنے لگیں۔ پریگیا ٹھاکرکا کہنا ہے کہ بھارت میں کسی کوحجاب نہیں پہننا چاہیے۔بھوپال میں بی جے پی کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنہیں خطرہ ہے وہ گھرمیں رہتے ہوئے حجاب پہنیں، بھارت میں کسی کوحجاب پہننے کی ضرورت نہیں۔ہندو انتہاپسند رکن اسمبلی کامزید کہنا تھا کہ بھارت میں ہندومعاشرہ ہے جہاں عورت کی عزت کی جاتی ہے اس لیے گھرسے باہرکسی کوحجاب نہیں پہننا چاہیے،جوگھریا مدرسے کے اندرحجاب پہنتا ہے اس پرہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن باہراس کی اجازت نہیں ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ پریگیا ٹھاکر پر بم دھماکوں میں ملوث ہونے پردہشت گردی کا مقدمہ چل رہا ہے اوروہ ضمانت پررہا ہیں۔کرناٹک اوردیگربھارتی ریاستوں میں تعلیمی اداروں میں حجاب پرپابندی عاید کی گئی جس کے خلاف مسلمان طالبات کا مقدمہ کرناٹک ہائیکورٹ میں مقدمہ زیرسماعت ہے۔علاوہ ازیں بھارت میں حجاب پر پابندی کے خلاف مہم کرناٹک کے بعد دیگر ریاستوں میں بھی شروع ہوگئی۔ اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں حجاب کے حق میں مظاہرہ کرنے والی خواتین پر پولیس نے بدترین لاٹھی چارج کیا اور ان کے سر سے اسکارف چھین لیے جبکہ علی گڑھ میں کالج کے باہر اسکارف پر پابندی کا نوٹس بھی لگ گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹک میں مسلم طالبات بدستور سراپا احتجاج ہیں، حجاب پر پابندی کے خلاف مختلف علاقوں میں مظاہرہ کیا گیا، یونیورسٹی میں داخلے سے روکنے پر طالبات سڑکوں پر آگئیں اور نعرہ تکبیر بلند کرتی رہیں، شدید احتجاج کے بعد طالبات کو حجاب کے ساتھ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت مل گئی لیکن پرائمری اسکول کی بچیوں کو اسکارف پہننے پر سکول میں داخلے سے روک دیا گیا۔کرناٹک کو دیکھا دیکھی دیگر بھارتی ریاستوں میں بھی حجاب کے خلاف مہم زور پکڑنے لگی۔
