English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تجزیہ 25

القمر

دہشت گرد تنظیم   وائے پی جی /پی کے کے کی   شام    میں دہشت گرد ی پھیلانے کی حکمتِ عملی اور  شام  کے  دہشت گردی  کے مرکز کی ماہیت اختیار کرنا  باعثِ توجہ ہے۔ سال 2015 سے ترکی کے  سلامتی  کے نظریے میں ایک  نئے مقام    کی ماہیت  اختیار کے نتیجے میں  اندرونِ ملک  حرکات و سکنات کی  قابلیت کو کھونے  والی اور سال 2018 سے  ترک مسلح افواج کی شمالی عراق کو دہشت گردی سے پاک کرنے  کی حکمت عملی  کے دائرہ عمل میں  اپنے وجود کے ایک بڑے حصے  کو شام سے منسلک  کرنے والی دہشت گرد تنظیم  کا اس ملک میں وجود  تین بڑی عسکری کاروائیوں کے باوجود   تا حال برقرار ہے۔

خارجہ پالیسی تحقیق دان جان اجون کا اس موضوع پر جائزہ ۔۔۔

گزشتہ ہفتے وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ   اعداد و شمار کے مطابق   ترکی  کے لیے بنیادی  دہشت گرد  ی خطرات اندرون ِ ملک بتدریج اپنا وجود  کھونے کی حد تک کم ہو  چکے ہیں اور  اس کے بر عکس   یہ شام میں  بلند  ہوتے جا رہے ہیں۔  انہی اعداد و شمار کےمطابق  سال کے آغاز سے ابتک 316 دہشت گردوں کو  بے بس کیا جا چکا ہے، جن میں سے 276 شام کے عسکری کاروائی علاقے میں  ہلاک ہوئے  ہیں۔  اس طرح دہشت گردوں کے 86 فیصد کو شام میں بے بس کیا گیا ہے۔  اس اعلان کے   دورانیہ 10 تا 17 فروری  کے درمیان محض  شام میں  69 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں  سات  کو عراق  کے فیلڈ میں   ناکارہ بنایا گیا ہے۔  اس طرح   شام  کی حدود کے اندر  جہنم واصل کیے جانے والے  دہشت گردوں   کی شرح 90 فیصد  سے زائد ہے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ   ترکی نے   پی کے کے / وائے پی جی کے  خلاف اندرون ِ ملک جنگ میں  اہم سطح کی پیش رفت حاصل کی ہے۔ علاوہ ازیں  یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ دہشت  گردی کے خطرات کا بیرونی حمایت    اور تعاون حاصل ہونے والے مقامات میں  زیادہ تر وجود پایا جاتا ہے۔  اس بنا پر ترکی   کے عراق میں جاری  فوجی آپریشن  کے علاوہ   سال 2016 سے ابتک جاری  شام میں   فوجی کاروائیاں اس کے حق بجانب ہونے کا واضح مظہر ہیں۔

پی کے کے / وائے پی جی اور داعش دہشت گرد تنظیموں  کو ہدف بنانے والی تین مختلف عسکری کاروائیوں کے باوجود  شام میں  دہشت گرد تنظیم  پی کے کے    کا مکمل طور پر خاتمہ نہ ہونے کی حقیقت  بھی عیاں ہے۔  حتی یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ تنظیم نے مالی تعاون،   کارکنان اور لاجسٹک  کی طرح کے معاملات کے اعتبار سے  شام  کو  عراق  کے ہمراہ دوبارہ سے   اپنا مرکز بنا لیا ہے۔  امریکہ اور بعض اوقات  روس کا  بھی تعاون  حاصل ہونے  والی تنظیم  کے علاقائی اور عوامی  انتظامیہ کے معاملات میں  بھی تجربات کو بالائے طاق رکھنے سے   کہا جا سکتا ہے کہ ترکی کی سال 2015 سے  ابتک   اپنائی گئی ’دہشت گردی کے ذرائعوں کا قلع قمع‘ حکمت عملی  کے دائرہ کار میں عراق سمیت شام  میں بھی  پی کے کے /وائے پی جی  کی علاقے  میں حاکمیت کو  ختم کرنے والے اقدامات  کو اٹھانا  لازم   و ملزوم بن چکا ہے۔ خاصکر    دہشت گرد تنظیم کی ترکی کی حمایت یافتہ شام عبوری حکومت کے زیر کنٹرول  علاقوں میں  شہریوں کے  بر خلاف دہشت گرد کاروائیوں  کو بھاری فضائی بمباری  کے ذریعے  سزا دینے کی ضرورت قدرے  ہنگامی اور لازمی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے