دہشت گرد تنظیم وائے پی جی /پی کے کے کی شام میں دہشت گرد ی پھیلانے کی حکمتِ عملی اور شام کے دہشت گردی کے مرکز کی ماہیت اختیار کرنا باعثِ توجہ ہے۔ سال 2015 سے ترکی کے سلامتی کے نظریے میں ایک نئے مقام کی ماہیت اختیار کے نتیجے میں اندرونِ ملک حرکات و سکنات کی قابلیت کو کھونے والی اور سال 2018 سے ترک مسلح افواج کی شمالی عراق کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی حکمت عملی کے دائرہ عمل میں اپنے وجود کے ایک بڑے حصے کو شام سے منسلک کرنے والی دہشت گرد تنظیم کا اس ملک میں وجود تین بڑی عسکری کاروائیوں کے باوجود تا حال برقرار ہے۔
خارجہ پالیسی تحقیق دان جان اجون کا اس موضوع پر جائزہ ۔۔۔
گزشتہ ہفتے وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ترکی کے لیے بنیادی دہشت گرد ی خطرات اندرون ِ ملک بتدریج اپنا وجود کھونے کی حد تک کم ہو چکے ہیں اور اس کے بر عکس یہ شام میں بلند ہوتے جا رہے ہیں۔ انہی اعداد و شمار کےمطابق سال کے آغاز سے ابتک 316 دہشت گردوں کو بے بس کیا جا چکا ہے، جن میں سے 276 شام کے عسکری کاروائی علاقے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس طرح دہشت گردوں کے 86 فیصد کو شام میں بے بس کیا گیا ہے۔ اس اعلان کے دورانیہ 10 تا 17 فروری کے درمیان محض شام میں 69 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں سات کو عراق کے فیلڈ میں ناکارہ بنایا گیا ہے۔ اس طرح شام کی حدود کے اندر جہنم واصل کیے جانے والے دہشت گردوں کی شرح 90 فیصد سے زائد ہے۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترکی نے پی کے کے / وائے پی جی کے خلاف اندرون ِ ملک جنگ میں اہم سطح کی پیش رفت حاصل کی ہے۔ علاوہ ازیں یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ دہشت گردی کے خطرات کا بیرونی حمایت اور تعاون حاصل ہونے والے مقامات میں زیادہ تر وجود پایا جاتا ہے۔ اس بنا پر ترکی کے عراق میں جاری فوجی آپریشن کے علاوہ سال 2016 سے ابتک جاری شام میں فوجی کاروائیاں اس کے حق بجانب ہونے کا واضح مظہر ہیں۔
پی کے کے / وائے پی جی اور داعش دہشت گرد تنظیموں کو ہدف بنانے والی تین مختلف عسکری کاروائیوں کے باوجود شام میں دہشت گرد تنظیم پی کے کے کا مکمل طور پر خاتمہ نہ ہونے کی حقیقت بھی عیاں ہے۔ حتی یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ تنظیم نے مالی تعاون، کارکنان اور لاجسٹک کی طرح کے معاملات کے اعتبار سے شام کو عراق کے ہمراہ دوبارہ سے اپنا مرکز بنا لیا ہے۔ امریکہ اور بعض اوقات روس کا بھی تعاون حاصل ہونے والی تنظیم کے علاقائی اور عوامی انتظامیہ کے معاملات میں بھی تجربات کو بالائے طاق رکھنے سے کہا جا سکتا ہے کہ ترکی کی سال 2015 سے ابتک اپنائی گئی ’دہشت گردی کے ذرائعوں کا قلع قمع‘ حکمت عملی کے دائرہ کار میں عراق سمیت شام میں بھی پی کے کے /وائے پی جی کی علاقے میں حاکمیت کو ختم کرنے والے اقدامات کو اٹھانا لازم و ملزوم بن چکا ہے۔ خاصکر دہشت گرد تنظیم کی ترکی کی حمایت یافتہ شام عبوری حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں شہریوں کے بر خلاف دہشت گرد کاروائیوں کو بھاری فضائی بمباری کے ذریعے سزا دینے کی ضرورت قدرے ہنگامی اور لازمی ہے۔
