2008 میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کہ جس میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے کے الزام میں 38 مشتبہ افراد کو سزائے موت سنا دی گئی۔
عدالت میں جج نے 38 ملزمان کو قتل، ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش اور غیر قانونی ہتھیار رکھنے کے جرم میں سزائے موت صادر کی۔
مقدمے میں 11 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جب کہ 28 افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا۔
ہندوستان میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ہی مقدمے میں اتنے زیادہ ملزمان کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔
اس فیصلے کی اعلیٰ عدالت سے منظوری لازمی ہے۔
احمد آباد شہر میں، جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تنازعات کے دوران 2002 میں وسیع پیمانے کی تشدد آمیز کاروائیاں ہوئی تھیں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔
26 جولائی 2008 کو شہر کے مختلف علاقوں میں بم حملوں میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔جس کی ذمہد اری ایک مقامی دہشت گرد گروپ نے قبول کی تھی۔
ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی، جو اس وقت صوبہ گجرات کے وزیرِ اعلی تھے پر پر تشدد واقعات پر آنکھیں بند رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
