حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہاکہ بیروز گاری ،مہنگائی سماجی نظام تباہ کردیا، جماعت اسلامی بدامنی، کرپشن ، آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف سراپا احتجاج ہے ، بلدیاتی انتخابات میں بھر پور حصہ لیں گے وہ جماعت اسلامی حیدرآباد کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے، لیاقت بلوچ کی زیر صدارت اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال پر غور کے علاوہ آئندہ بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اجلاس میں امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد عقیل احمد خان، ڈپٹی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی سندھ حافظ طاہر مجید، نائب امیر عبدالقیوم شیخ، سردار زبیر خادم حسین سولنگی، جنرل سیکرٹری ظہیر الدین شیخ سمیت سیاسی کمیٹی کے ذمے داران شریک تھے۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، بے روزگاری سماجی نظام کو تباہ و برباد کر رہی ہے،جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی، کارکنان انتخابات کی تیاری کریں۔انھوں نے کہا کہ گھر دینے کا دعدہ کرنے والی حکومت نے 50ہزار خاندانوں سے گھر اور روز گار چھین کر انہیں بے یار و مدد گار چھوڑ دیا ہے،کہ حکومت اپنے وعدوں سے برعکس چل رہی ہے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں،بجلی،گیس اور پانی کے بل آسمان سے باتیں کر رہے ہیں،گیس کی لوڈشیڈنگ اور ایل این جی خریدنے میں تاخیر سے صنعتوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، ووٹ لیکر اقتدار کے مزے لینے کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب سندھ حکومت عوام کی فلاح و بہبود کیلیے کام کرے دوسری صورت میں آئندہ الیکشن میں انہیں ووٹ نہیں ملے گا۔علاوہ ازیںملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ،طاہر مجید راجپوت اور عقیل احمد خان پر مشتمل ایک وفد نے ملی یکجہتی کونسل و جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر سے ان کے دفتر رکن الاسلام میں ملاقات کی ۔ دونوں رہنماؤں نے ملک کی صورتحال اور ملی یکجہتی کونسل کے امور پر گفتگو کرتے ہوئے میاںچنوں واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے میاں چنوں واقعہ میں عوام میں عدم برداشت اور تشددکی لہرپائی گئی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے ملی یکجہتی کونسل میں شامل جماعتوں کے قائدین ،علماء مشائخ خطبا کو چاہیے کہ وہ اپنے خطابات ،واعظ اور جلسوں میں عوام کی رہنمائی کریں اور انہیں بتائیں کہ اسلام کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتاکہ کسی پر الزام لگا کر بغیر تصدیق ،بغیر عدالتی فیصلہ اور بغیرجرم ثابت ہوئے خود سزادنیا شروع کردیں ۔
