English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت میں مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کی نسل کشی کا عمل شروع ہوچکا

القمر

کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید) بھارت میں مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کی نسل کشی کا عمل شروع ہو چکا ‘دھرم سنسد سے 20 مسلمانوں کے قتل عام کی اپیل کی گئی ہے‘ مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد معاشرے میں رواداری اور برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے ‘ بھارت میں حکومت مخالف مظاہرین پر ملک دشمنی کا لیبل لگانا اور جیلوں میں ڈالنا عام بات ہو گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار معروف سیا ستدان این ڈی خان، سابق سینیٹر حافظ حسین احمد،صحافی سوہنی سنگھ اوراینکر ڈاکٹر عرشی خان نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’ کیا بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کا خطرہ پیدا ہوچکا ہے؟‘‘ سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا کہ مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت میں روایات اور رواداری جیسے الفاظ ختم ہوتے جا رہے ہیں‘ وہاںکوئی شخص پبلسٹی کے لیے مسلمانوں کے خلاف بیان دیتا ہے تو اسے اہمیت دی جاتی ہے‘ گزشتہ ماہ بھارتی شہر ہردوار میں ایک ’’ہندو دھرم سنسد‘‘ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں مقررین نے ہندوؤں سے مسلمانوں کا نسلی صفایا کرنے کی اپیل کی تھی‘ اسی طرح کا ’’دھرم سنسد‘‘ آئندہ ہفتے علی گڑھ میں منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے‘ ایسی باتیں کرکے کچھ لوگ ایک خیالی خوف کا ماحول بنانا چاہتے ہیں‘ بھارت مذہبی آزادی کے شعبے میں دنیا بھر میں قائدانہ رول ادا کرنے کی پوزیشن میں تھا لیکن بھارت اب ایک ایسی ریاست بن گیا ہے جہاں اقلیتوں کو امان نصیب نہیں ہے‘ مسلم اور مسیحی ممالک سے بھارت سیکھنا چاہیے کہ مذہبی آزادی کیا ہوتی ہے اور کیسے اس کو برقرار رکھا جاتا ہے‘ بھارت میں اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے اشتعال انگیز تقاریر کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے‘ ملک میں ہزاروں فرقہ ورانہ فسادات ہوچکے ہیں اور مسلمانوں کو بعض اوقات ’’قتل عام‘‘ جیسی صورت حال تک کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم پہلی مرتبہ کسی ”دھرم سنسد‘‘ سے مسلمانوں کا نسلی صفایا کرنے کی بات کہی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر 20 لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ”ہندو راشٹر‘‘ تسلیم کرلیں گے۔ معروف سیاستدان این ڈی خان نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی نہیں بلکہ ان کا استحصال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ بھارت کی ایک ارب 30 کروڑ کی آبادی ہے‘ بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے دوران مسلمانوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا‘ شہر میرٹھ میں مسلم اقلیتی شہریوں کے خلاف خصوصی کارروائی کی گئی کیونکہ چند مقامی ہندو شخصیات کے بقول وہ مبینہ طور پر’’کورونا جہاد‘‘ کر رہے تھے‘ دیگر شہروں میں بھی مسلمانوں اور تبلیغی جماعت کو نشانہ بنایا گیا‘ اب مسکان خان کے معاملے نے تو کمال ہی کر دیا ہے‘ اگر بچی مسکان نے ہمت سے کام نہ لیا ہوتا تو درندے اس بچی کو ہلاک کر دیتے اور بھارتی حکومت صرف افسوس کا اعلان کرتی رہتی ہے‘ اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کا خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔اینکر ڈاکٹر عرشی خان نے کہا کہ بھارت کے عوام کے لیے یہ سوچنے کی بات ہے کہ یہ غنڈے جو آج حجاب کے خلاف بول رہے اور مظاہرے کر رہے ہیں ‘کیا وہ کل ہند و لڑکیوں کے کپڑوں کی حفاظت کریں گے ؟ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں مشاورتی حیثیت کی حامل امریکا کی غیر منافع بخش تنظیم ”جسٹس فار آل‘‘ کی جانب سے رواں ہفتے منعقدہ ایک ورچوئل عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر گریگوری اسٹینٹن نے کہا کہ بھارت نسل کشی کے آٹھویں مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور مسلم کمیونٹی کا مکمل صفایا صرف ایک قدم دور رہ گیا ہے‘ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایسا ہوتا ہوا دیکھ کر بہت خوش ہوں گے لیکن ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ بھارت اب دنیا کے سامنے ایک بھیانک ملک بنتا جا رہا ہے۔ صحافی سوہنی سنگھ نے کہا کہ بھارت میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ تمام اقلیتوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک روا رکھا جا رہا ہے‘ نسل کشی کا تمام اقلیتوں کو سامنا ہے لیکن مسلمانوں کی تعداد زیادہ اور پورے ملک میں بکھری ہوئی ہے اس لیے ان کے خلاف کارروائی آسان ہو جاتی ہے اور بھارت میں ایسا ہی ہو رہا ہے‘ بھارت کی جمہوریت تمام تر کمزوریوں کے باوجود پوری دنیا میں ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی تھی مگر اب لگتا ہے کہ بھارت بہت بدل گیا ہے‘ بھارت میں یہ سب کچھ اتنی تیزی سے بدل جائے گا‘ کسی کے تصور میں بھی یہ نہیں تھا‘ اقلیتوں کے خلاف ماحول، معلومات کا حق (رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ) ہونے کے باوجود عوام کو بنیادی معلومات فراہم نہ کر کے اس قانون کا ہی گلا گھونٹ دیا گیا ہے‘ حکومت مخالف مظاہرین پر ملک دشمنی کا لیبل لگانا اور مخالفین کو جیلوں میں بند کرنا تو اب عام سی بات ہو گئی ہے‘ حکومت پر تنقید کی وجہ سے صحافیوں پر بھی ملک کے ساتھ غداری کا الزام تک عاید کردیا جاتا ہے۔کشمیر کے بزرگ لیڈر سید علی گیلانی کی میت کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا گیا، وہ اس کی ایک معمولی مثال ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے