کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ شہر میں مسلح ڈکیتیوں ،لوٹ مار اور اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا خاتمہ اور شہریوں کے تحفظ کے مسائل زبانی دعوئوں سے نہیں عملی اقدامات سے حل ہوں گے ، سندھ حکومت ، محکمہ پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کراچی کے عوام کا تحفظ یقینی بنائیں ، مسلح ڈکیتیوں ، لوٹ مار ، چھینا جھپٹی سے عوام کونجات دلائیں ، سینئر صحافی اطہر متین سمیت مسلح ڈکیتیوں میں جان سے جانے والے تمام افراد کے قاتلوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے ،کراچی میں موجود رینجرز کے اختیارات اور ذمے داریاں بھی واضح کی جائیں ، سرکاری پروٹوکول پر تعینات نفری عوام کے تحفظ اور جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے کے لیے لگائی جائے ، کراچی جیسے بڑے شہر میں محکمہ پولیس کو بھی میٹرو پولیٹن حکومت کے ماتحت ہونا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری کراچی منعم ظفر خان ، صدر پبلک ایڈ کمیٹی سیف الدین ایڈووکیٹ ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر بھی موجود تھے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ سندھ کابینہ میں جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق بلدیاتی قانون میں ترامیم اور اس کی توثیق کا خیر مقدم کرتے ہیں ، یہ ترامیم جماعت اسلامی کے تاریخی 29روزہ کراچی دھرنے اور زبردست عوامی احتجاج اور دبائو کے باعث ممکن ہوئیں جن پر ہم اہل کراچی کو بھی مبارکباد دیتے ہیں ، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ رواں سال اب تک مسلح ڈکیتی کی وارداتوں میں 14قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع سندھ حکومت ، محکمہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے لمحہ فکر اور ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ، جماعت اسلامی لسانیت اور عصبیت کی سیاست مسترد کرتی ہے لیکن جب کراچی میں اعلیٰ پولیس افسران اور اہلکار یہاں کے رہائشی نہیں ہوں گے تو مسائل تو ضرور پیدا ہوں گے ، اگر کراچی میں پولیس افسران کی تعداد اور اس کا تناسب سامنے رکھا جائے تو حیران کن صورتحال سامنے آتی ہے ، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جرائم اور پولیس کا تعلق اتنا گہرا ہے کہ اگر کوئی بھی شہری اپنے گھر کے سامنے کنواں تک کھدوانا شروع کرے تو کئی پولیس موبائل آجاتی ہیں اور وہ لوگوں سے جو کچھ کہتے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اس لیے اگر شہر میں جرائم پیشہ عناصر سرگرم ہیں اور منشیات کے اڈے چل رہے ہیں ، چوری چھپے گٹکا مل رہا ہے تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ یہ پولیس کے علم میں نہ ہو۔ منشیات کے اڈے ، زمینوں پر قبضے ، مسلح ڈکیتی ، لوٹ مار پولیس کی مرضی کے بغیر کیسے ہو جاتی ہے ، کراچی کے شہری رینجرزسے بھی سوال کرتے ہیں کہ جب کوئی کرمنل کسی شہری کو لوٹ رہا ہو یا فائرنگ کر رہا ہو تو رینجرز کیا کرے گی ؟ اس وقت کیا کام اور ذمے داری کیا بنتی ہے ؟ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صورتحال یہ ہے کہ کراچی میں اس وقت پولیس کی نفری 37ہزار بتائی جاتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق آدھی سے زیادہ نفری وہ کام کر رہی ہے جس کا تعلق امن و امان کے قیام سے نہیں ہے ، یہ وزیر اعلیٰ ، وزرا ایم این اے ، ایم پی اے ، ان کی فیملیز اور ان کے پسند کے لوگوں کے پروٹوکول پر تعینات ہے ، 5ہزار کی نفری پر مشتمل ایک الگ فورس بنائی گئی ہے اس کا تعلق بھی عوام کے جان و مال کے تحفظ سے نہیں ہے اور یہ بھی محض سیاسی بنیاد پر استعمال ہوتی ہے ، اس کی مراعات بھی زیادہ ہیں اور ڈیوٹی بھی کم ہے ، عام پولیس والے کی ڈیوٹی 12گھنٹے ہے اور کوئی ایمرجنسی ہو تو 24گھنٹے ہو جاتی ہے ، جب ایک ہی محکمے کے اندر اس طرح کی صورتحال ہوگی تو پولیس میں اصلاحات کیسے ممکن ہو سکتی ہیں ، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لوٹ مار کی صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ اب مسلح ڈاکو بھی ناکے لگا کر شہریوں لولوٹتے ہیں ، کورنگی کازوے کی حالیہ واردات میں مسلح افراد نے ناکہ لگا کر 100سے زاید افراد کو لوٹا یہ کورنگی ، لانڈھی ، انڈسٹریل ایریا پاکستان کی ایکسپورٹ کی 30فیصد ایکسپورٹ کرتا ہے ، کراچی پورے صوبے اور ملک کو چلاتا ہے لیکن یہاں کے عوام ، تاجر و صنعتکاروں کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک میں ہم نے امن و امان اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمیشہ آواز اُٹھائی ہے اور ہم آج بھی اس اہم اور سلگتے مسئلے پر کراچی کے عوام کی ترجمانی کر رہے ہیں ، ہم کراچی سے ووٹ لے کر حکومت اور اقتدار میں آنے والی حکمران پارٹیوں سے بھی کہتے ہیں کہ زبانی جمع خرچ اور صرف بیانات کے بجائے حقیقی مسائل پر بات کی جائے اور اس صورتحال کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جائے ۔
