اسلا م آباد(صباح نیوز)وزیراعظم عمران خان نے وزرا کو آل از ویل کا پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ترجمانوں کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کے علاوہ وزیراعظم، وزرا اور حکومتی شخصیات کی کردارکشی کی مہم پر گفتگو کی گئی اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے مہم میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں حکومت کی کردارکشی کی مہم میں ملوث عناصر کیخلاف پاکستان اور برطانیہ میں مقدمات درج کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیراعظم نے بھی کارروائی کے لیے گرین سگنل دے دیا،اس حوالے سے حکومت پاکستان اور برطانیہ میں مقدمات دائر کرے گی، حکومتی شخصیات یا متعلقہ وزرا قانونی کارروائی کا آغاز کریں گے۔ملکی سیاسی صورتحال پر وزیراعظم نے ترجمانوں کو آل از ویل کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، اب اپوزیشن سے بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی نہ گھبرائے۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بعض وفاقی وزرا کی ٹاک شوزمیں عدم شرکت کا نوٹس لیتے ہوئے وزرا کو ہدایت کی وہ ٹاک شوز میں جاکر حکومتی پالیسیوں کا دفاع کریں جب کہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے وزرا کی تعریف بھی کی۔علاوہ ازیںوزیراعظم عمران خان نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے رجسٹرڈ فری لانسرز کے لیے ٹیکس صفر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس شعبے کو مراعات دے رہے ہیں اور اگلے چند سالوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی 50ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔اسلام آباد میں قومی ای تجارت پورٹل کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے حکومت میں آنے کے بعد جو جملہ سب سے زیادہ استعمال کیا وہ تھا گھبرانا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم حکومت میں آئے تو حالات بہت برے اور ملک دیوالیہ ہو چکا تھا لہٰذا مجھے اپنی کابینہ کو کہنا پڑتا تھا کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے اور آج میں اپوزیشن کو کہتا ہوں کہ گھبرانا نہیں ہے،جب دورہ ویسٹ انڈیز پر جاتے تھے تو ٹیم کو کہتا تھا کہ گھبرانا نہیں ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) کی نئی تعینات ہونے والی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین ایم رسل نے پیر کو ملاقات کی اور پاکستان میں یونیسیف کے پروگرام اور افغانستان میں انسانی ہمدردی سے متعلق اقدامات کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے حکومت اور یونیسیف کے درمیان تعاون کو سراہا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے حکومت کے کلیدی اقدامات اور کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے جامع اقدامات پر روشنی ڈالی۔وزیر اعظم نے انہیں ملک میں بچوں کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے حکومت کے ترجیحی اقدامات سے آگاہ کیا، جن میں اسکول نہ جانے والے بچوں کے داخلوں میں اضافہ، حفاظتی ٹیکوں کے پروگراموں میں وسعت ، بچوں میں غذائی قلت کو دور کرنے اور سرکاری تعلیمی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ وزیراعظم نے افغانستان میں انسانی اور معاشی بحران کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کے بارے میں بھی بتایا۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر متعلقہ فریقین کی امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے پاکستان کی جانب سے قائم کردہ انسانی ہمدردی کی راہداری کا حوالہ دیا۔ وزیراعظم عمران خان سے ترکی کے مذہبی امور کی پریذیڈنسی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباس نے پیر کو ملاقات کی۔ وزیراعظم نے ملاقات میں ترکی میں منظم ادارہ جاتی تعلیمی نظام کے شعبہ میں بہترین اقدامات اور معلومات کے تبادلے کے لیے دوطرفہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا ۔ وزیراعظم عمران خان سے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے ملاقات کی۔ پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورت حال اور وفاقی حکومت کی جانب سے دیے گئے شمالی و جنوبی بلوچستان کی ترقی کے پیکیجز کے تحت جاری مختلف ترقیاتی اسکیموں کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر اعظم نے بلوچستان کی تعمیر و ترقی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کی یقین دبانی کرائی۔
