English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ محفوظ

القمر

اسلام آباد: مقامی عدالت نے نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا جو 24  فروری کو سنایا جائے گا۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج عطا ربانی نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت مرکزی ملزم ظاہرجعفر کو کمرہ عدالت میں دیگر ملزمان کے ہمراہ پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران مدعی کے وکیل نے حتمی دلائل دیے جب کہ گزشتہ سماعت میں تمام ملزمان کے وکلاء نے حتمی دلائل مکمل کرلیے تھے۔

مدعی کے وکیل نثار اصغر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی میں ظاہر جعفر زبردستی نور مقدم کو کمرے میں لے کر جاتا ہے، 2 بج کر46 منٹ پر نور مقدم اور ظاہر جعفر دوبارہ باہر جاتے ہیں اور 2 بجکر 52 منٹ پر واپس آتے ہیں، 2 بجکر41 منٹ پر پہلی دفعہ نور مقدم باہر نکلی لیکن چوکیدار نے دروازہ بند کردیا، 20 جولائی کو 7 بج کر12  منٹ پر نور مقدم نے پہلی منزل سے چھلانگ لگائی۔

مقدمے کے مدعی شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور ایڈوکیٹ نے اپنے دلائل میں کہا کہ نور مقدم قتل کیس میں ڈی وی آر، سی ڈی آر، فارنزک اور ڈی این اے پرمبنی ٹھوس شواہد ہیں، نورمقدم قتل کیس میں تمام شواہد سائنسی بنیادپر شامل کیے گئے  ہیں، ملزمان کے خلاف پراسیکیوشن نے کیس ثابت کردیا ہے، عدالت ملزمان کو سخت سے سخت سزا دے۔

مدعی مقدمہ کے وکیل شاہ خاور کے دلائل ختم ہونے پر پراسیکیوٹر رانا حسن عباس نے حتمی دلائل کا آغاز کیا۔

پراسیکیوٹر راناحسن نے کہا کہ ڈی وی آر میں سب کچھ نظر آرہا ہے کہ کون پہلے آیا اور کون بعد میں، نکل گلووز پر نورمقدم کا خون لگا ہوا ہے ، ثابت ہوتاہے نورمقدم کو قتل سے قبل ٹارچر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک باپ کی کیاحالت ہوگی جب وہ اپنی بیٹی کی سربریدہ لاش دیکھےگا، سب سے بڑا ثبوت ہے کہ ظاہرجعفر جائے وقوعہ سے گرفتار ہوا، ڈی وی آر کو مستند قرار دیا گیا اور آخری ثبوت کے طور پر لیا گیا ہے، مرکزی ملزم ظاہر جعفر جائے وقوعہ سے آلہ قتل کے ساتھ گرفتار ہوا، اس کے کپڑوں پر خون لگا تھا اس کے بعد کوئی شک نہیں رہ جاتا جب کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات مانی گئی ہے کہ نور مقدم کا قتل ہوچکا تھا۔

بعد ازاں عدالت  نے تمام فریقین کے دلائل سننے کےبعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو 24 فروری کو سنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 20 جولائی کو تھانہ کوہسار کی حدود ایف سیون فور میں 28 سالہ لڑکی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے