English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پیکا قانون کے پس پردہ مذموم مقاصد ہیں ، جھوٹے وعدے کرنیوالوں کیخلاف بھی قانون لانا چاہیے تھا

کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری) پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) ترمیمی آرڈیننس صحافیوں کی آواز کو دبانے کے لیے لایا گیا ہے،پیکا ترمیمی آرڈیننس بنیادی انسانی حقوق کو سلب کرنا ہیں،حکومت پیکا ترمیمی آرڈیننس لا کر اپنے مذموم مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے، جھوٹی خبر دینے والوں کو سزا دینے کا قانون لانے والوں کو جھوٹے وعدے اور اعلان کرنے والے حکمرانوں کے خلاف بھی قانون لانا چاہیے تھا،پیکا قانون پاکستانی صحافیوں کو خوفزدہ کرنے اور خاموش کرانے کا ذریعہ ہے،موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کو بند کیا جا رہا ہے، صحافیوں پر غیر اعلانیہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ملک میں آزادی اظہار کا قتل ملک میں جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے، پیکا ترامیم کا بنیادی مقصد ملک میں اظہار رائے کے آزادی پر گھیرا مزید تنگ کیا جا سکے، پیکا آرڈیننس آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے مترادف ہے،لوگوں کے بنیادی حقوق پر ایک حملہ ہے،یہ ایک آمرانہ قانون ہے۔ ان خیالات کا اظہار پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) ترمیمی آرڈیننس 2022 کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے والے سینئر قانون دان چودھری محمد سعید ظفر ایڈووکیٹ ، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکرٹری جنرل سہیل افضل،صحافتی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی سربرا ہ و ڈائریکٹر صدف خان اورڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی سربراہ نگہت داد نے جسارت کی جانب سے پوچھے گئے سوال : کیا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) کا قانون آزادی رائے پر حملہ ہے؟ کے جواب میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ چودھری محمد سعید ظفر ایڈوکیٹ نے کہا کہ ترمیمی آرڈیننس بنیادی انسانی حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہے،حکومت اپنے مذموم مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے، پارلیمنٹ کی موجودگی میں آرڈیننس غیر آئینی ہے۔ انھوں نے ہتک عزت کے قانون کو قابل دست درازی قانون بنانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہتک عزت سے متعلق اپنے فوجداری قوانین مزید ظالمانہ کر دیے ہیں، جن کے تحت ’نیچرل پرسن‘ تعریف کو بڑھا کر ’آل پرسنز‘ تک وسیع کر دیا گیا ہے جبکہ سزا2سال سے بڑھا کر 5 سال کردی گئی ہے اور اسے قابل دست درازی اور ناقابل ضمانت جرم قرار دیا ہے۔ اس قانون سازی نے قابل ضمانت قانون کو ناقابل ضمانت بنادیا ہے، اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص مدعی بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس قانون کے زریعے اپنے غیر قانونی کاموں کو قانونی تحفظ دینا چاہتی ہیں۔اس قوانین کے تحت مقدمات قائم کرنے کے لیے عدالتی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔ پیکا قانون کے تحت عام لوگوں کی آواز کو دبانا غیر جمہوری عمل اور عام شہری کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔حکومت ایسی قانون سازی نہ کرے جس کا کل وہ خود شکار بنیں۔ ناز بلوچ نے کہا کہ جھوٹی خبر دینے والوں کو سزا دینے کا قانون لانے والوں کو جھوٹے وعدے اور اعلان کرنے والے حکمرانوں کے خلاف بھی قانون لانا چاہیے تھا،پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پارلیمنٹ پر یقین نہیں رکھتی ہیں، حکومت پیکا ترمیمی آرڈیننس لا کر اپنے مذموم مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیکا آرڈیننس فیک نیوز کو روکنے کے لئے ہے تو اس میں فیک نیوز کی تشریح کیوں نہیں کی گئی ہے ؟ اس حکومت کا کاروبار آرڈیننس پر ہی چل رہا ہے، ساڑھے تین سال میں 70 سے زاید آرڈیننس جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ فیک نیوز اور گالم گلوچ تحریک انصاف کی طرف سے آتی ہیں، حکومت پر تنقید ریاست پر تنقید نہیں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سابقہ حکومت پیکا کا قانون منظور کرنے جا رہی تھی تب حزب اختلاف میں پی ٹی آئی خود اس کے مخالف تھی۔اب پی ٹی آئی بھی قانون میں تبدیلی کر کے وہی غلطی دہرا رہی ہے‘ پیکا ایکٹ میں ترامیم قومی مباحثے کو روک رہی ہیں اور پارلیمنٹ کو قانون سازی کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔سہیل افضل نے کہا کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے لایا گیا ہے حکومت نے اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کو نظر انداز کیا اور تنقیدی اور تعمیری آوازوں کو دبانے کے لیے صدارتی آرڈیننس جاری کیا ہے،پیکا قانون پاکستانی صحافیوں کو خوفزدہ کرنے اور خاموش کرانے کا ذریعہ ہے،موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کو بند کیا جا رہا ہے، صحافیوں پر غیر اعلانیہ پابندیاں عائد ہیں۔ملک میں آزادی اظہار کا قتل ملک میں جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے ۔انہوں نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ پیکا کو نافذ کرنے سے باز رہے بصورت دیگر صحافی برادری کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا،پیکا قوانین میڈیا اور مخالفین کو ہراساں کرنے کیلیے ہیں اور یہ اپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے ایسے اقدامات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیکا جیسے قوانین کے خلاف صحافیوں تنظیموں کے ساتھ مل کر ہر فورم پر چیلنج کریں گے۔صدف خان نے کہا کہ پیکا کے ذریعے اظہار رائے پرجو قانونی پابندیاں ہیں اس کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے ، جس سے آزادی اظہار رائے کی فضا متاثر ہوسکتی ہے ۔یہ ایک ایسا قانون ہے جس کا براہ راست تعلق آئینی اور انسانی حقوق سے ہے، جس کا اطلاق سیاسی گفتگو اور تنقید پر بھی ہوتا ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم باقاعدہ پارلیمانی طریقہ کار ہی سے ہونی چاہیے تھی اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے یہ ترمیم کرنا، جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیکا ترامیم کا بنیادی مقصد یہی نظر آتا ہے کہ ملک میں اظہار رائے کے آزادی پر گھیرا مزید تنگ کیا جا سکے۔نگہت داد نے کہا کہ پیکا آرڈیننس آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے مترادف ہے،لوگوں کے بنیادی حقوق پر ایک حملہ ہے،یہ ایک آمرانہ قانون ہے جس کی ہر طرف سے مخالفت کی جارہی ہے، آپ جمہوریت میں آمریت تو نہیں رکھ سکتے ہیں،آپ آزادی اظہار رائے کے بغیر جمہوریت کا تصور نہیں کر سکتے ہیں۔ اگر آپ سوشل میڈیا پر پابندی لگائیں گے، تو ملک میں افواہوں کا طوفان آئے گا جس سے ملک کو نقصان ہوگا۔نگہت داد نے مطالبہ کیا کہ حکومت اگر سنجیدہ ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال نہ ہو تو آرڈیننس کو واپس لے اور مکمل مشاورت کے بعد اس میں ترمیم کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے