لاہور (نمائندہ جسارت) مجلس احرار اسلام پاکستان اور تحریک تحفظ ختم بنوت کے رہنماؤں، علما کرام، خطبا عظام اور مبلغین نے گزشتہ روز اپنے اپنے خطبات جمعۃالمبارک اور بیانات میں کہا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ایمان کی بنیاد ہے۔ اگر عقیدہ ختم نبوت محفوظ نہیں تو اسلام کی عمارت بھی محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد امت کا مرکزی نقطہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہے اور مجلس احرار اسلام کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نقطہ پر برصغیر کے مسلمانوں کو جمع کیا۔ مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ ،قاری محمد یوسف احرار،مولانا سید عطا اللہ شاہ ثالث بخاری ، مولاناسید عطا المنان بخاری، مولانا محمد مغیرہ ، مولانا تنویر الحسن احرار،قاری محمد ضیا اللہ ہاشمی، قاری محمد قاسم بلوچ، مولانا محمد سرفراز معاویہ، مولانا محمد الطاف معاویہ اور دیگر احرار رہنمائوں اور خطبا عظام نے مختلف مقامات پر جمعۃ المبارک کے خطبات اور بیانات میں کہا ہے کہ عقیدۃ ختم نبوت کا تحفظ اور ناموس رسالتﷺ کے لیے اپنی صلاحیتوں کو وقف کرنا صحابہ کرامؓ کی سنت ہے، عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کرنے والا براہ راست جناب حضورنبی کریمﷺ کی ذات اقدس کا چوکیدار ہے۔ خطبا احرار نے کہا کہ رد قادیانیت کے محاذپر سب سے پہلے مجلس احرار اسلام نے برصغیر کے تمام علماء کرام کو ایک پیج پر جمع کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی قیادت میں دس ہزار مسلمانوں نے لاہور کے چوک و چوراہوں بالخصوص مال روڈ پرمارچ 1953میں عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ سب سے زیادہ گولی 5اور6مارچ کو چلی۔ انہوں نے کہا کہ نسل نو کے عقائد کے تحفظ کے لیے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت سے نئی نسل کوروشناس کرانا اور قادیانیوں کے کفریہ عقائد کے بارے اگاہی مہم چلانا ہماری ذمہ داری ہے اسی سلسلہ میں مارچ کے پورے مہینہ میں شہدائے ختم نبوت مارچ 1953کی یاد میں ملک کے مختلف مقامات پر شہدائے ختم نبوت کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا۔مجلس احرار اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے بتایاہے کہ 4مارچ جمعۃالمبارک ’’یوم شہدائے ختم نبوت‘‘ کے نام سے منایا جائے گا۔علاوہ ازیں لاہورکے سیکرٹری اطلاعات محمد عامر اعوان نے بتایا ہے کہ3مارچ بروز جمعرات بعد نماز مغرب دفتر احرار لاہور میں مجلس احرار اسلام لاہور کے زیر اہتمام ہونے والی عظیم الشان ’’سالانہ شہدائے ختم نبوت کانفرنس‘‘ کی تیاریاں اور مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ رہنماؤں اور علماء کرام سے رابطے جاری و ساری ہیں ۔
