پاکستان مسلم لیگ ن بھی چوہدری پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے پر تیار ہوگئی، رہنما ن لیگ رانا ثناء نے انہیں وزارت اعلیٰ کی کرسی دینے کی تائید کردی۔ جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء نے کہا کہ میرے خیال میں موجودہ حکومت سےجان چھڑانے کیلیے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ مسلم لیگ ق کو دیا جانا ممکن ہے۔رانا ثناء نے کہا کہ پرویزالہٰی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانا ممکن ہے، لیکن حتمی فیصلہ پارٹی قیادت ہی کرے گی۔واضح رہے کہ اس سے پہلے خبر آئی تھی کہ تحریک عدم اعتماد کی حمایت کے لیے چوہدری برادران نے پیپلز پارٹی سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ مانگی تھی۔ تاہم آصف زرداری کیساتھ ہونے والی اہم ملاقات میں آصف زرداری نے پرویز الہیٰ کو گارنٹی دی کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ آپ کی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کے بارے میں مسلم لیگ ن کی قیادت کو بھی باور کرا دیا ہے۔
مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام تینوں جماعتیں ق لیگ کو وزارت اعلیٰ دینے پر راضی ہو چکی ہیں۔ گذشتہ رات پرویز الہی اور زرداری کی ملاقات میں تمام معاملات طے ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ چودھری پرویز الہیٰ نے زرداری کو اپنا ضامن بناتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں ن لیگ کی گارنٹی دیں کیونکہ ہم آپ کے کہنے پر آ رہے ہیں۔ اس پر آصف زرداری نے ناصرف انھیں گارنٹی دی بلکہ کہا کہ وزارت اعلیٰ آپ کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ مونس الہیٰ کا جھکائو عمران خان کی جانب ہے۔ لیکن پرویز الہیٰ سمیت دیگر ق لیگی قیادت اپوزیشن کی طرف ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کسی حکومتی شخص کا فون تک نہیں اٹھا رہے ہیں۔
وقار ستی کا کہنا تھا کہ حکومتی کیمپ سے یہ بات باہر آئی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد سے پہلے کوئی نیا بجٹ آ جائے کیونکہ آئین میں یہ چیز درج ہے کہ جب بجٹ پیش ہو جاتا ہے اور اس پر بحث مکمل نہیں ہوتی، اس طرح کی کوئی تحریک پیش نہیں کی جا سکے گی۔ یہ معاملہ اپوزیشن کے دماغ میں ہے، اس لئے اس پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔درحقیقت عمران خان کی سیاست کی بنیاد ہی Divide and rule پر تھی۔ جو تقسیم کرکے اقتدار چلا رہے تھے جب انہوں نے یہ کام کرنا بند کر دیا تو تمام سیاستدان ایک ہو گئے۔
وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری بڑے کھلاڑی آصف علی زرداری کو سونپ دی گئی ہے جو حکومتی ارکان اور اتحادیوں سے معاملات طے کر رہے ہیں۔ آصف علی زرداری وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے خدو خال تیار کر رہے ہیں۔ شنید ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے کھیل میں اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہو گئی ہے۔ آئی ایس آئی کے ملازمین کو سختی سے ملکی سیاست سے دور رہنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے اپنے ادارہ کے ملازمین پر واضح کر دیا ہے کہ ملکی سیاست میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
متحدہ اپوزیشن کا ایک غیر معمولی اجلاس شہباز شریف کی رہائش گاہ پر منعقد ہو چکا ہے جس میں مولانا فضل الرحمنٰ اور آصف علی زرداری نے شرکت کی ہے۔ اجلاس میں تحریک عدم اعتماد اور آئندہ سیٹ اپ پر مشاورت کی گئی ہے۔ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تاریخ کا فیصلہ نواز شریف اور فضل الرحمٰن کی مشاورت سے ہو گا۔ اپوزیشن جماعتوں کے پاس اپنے ارکان کے دستخط پہلے سے موجود ہونے کے باوجود از سر نو تحریک عدم اعتماد کے لئے اپنے ارکان قومی اسمبلی سے دستخط کروانے شروع کر دیے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے 24 حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمن شہباز شریف سے ملاقات کے لئے ماڈل ٹاؤن گئے ہیں۔ جے یو آئی کے وفد میں اکرم درانی، مولانا اسعد محمود اور مولانا امجد سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔ تھوڑی دیر بعد آصف علی زرداری بھی اپنے وفد کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے۔ ان کے وفد میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو، سید یوسف رضا گیلانی، پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔ ملاقات میں پہلے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے شہباز شریف اور آصف علی زرداری سے مشاورت کے بعد چوہدری برادران سے ان کی رہائش گاہ پر جاکر تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کی اور انہیں اپوزیشن کے فیصلوں بارے اعتماد میں لیا، چوہدری برادران نے حسب معمول تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بعض نکات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور مولانا فضل الرحمن نے ان تحفظات کو دور کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی اور کہا کہ آپ کے تمام تحفظات آصف زرداری دور کرائیں گے۔
پیپلز پارٹی نے وزیراعظم سے پہلے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد لانے کی تجویز بھی پیش کی ہے اور کہا ہے کہ اس میں کامیابی کی صورت میں ہمارا ہدف اور بھی آسان ہو جائے گا۔ اگر وزیر اعظم کے خلاف اعتماد کے ووٹ کا بھی معاملہ ہوا تو بھی اسپیکر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے حکومت کے 10 سے 15 ناراض ارکان کے استعفوں کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومتی ناراض ارکان استعفے دے دیں تو حکومت سادہ اکثریت کھو دے گی۔ اپوزیشن عدم اعتماد کی بجائے وزیراعظم سے اعتماد کے ووٹ کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ اگر اسپیکر نے ان ناراض حکومتی ارکان کے استعفے قبول ہی نہ کیے تو حکمت عملی کی کامیابی میں رکاوٹ ڈالی جا سکتی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھی بول اٹھے ہیں اور کہا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے نام پر خرید و فروخت جاری ہے۔ نواز شریف نے خرید و فروخت کی ذمہ داری آصف زرداری کو دی ہے۔ سیاست میں خرید و فروخت کا بازار شروع ہوا تو جھاڑو پھر جائے گا۔ اپوزیشن اپنی سیاسی قبر کھودنے جا رہی ہے۔ عمران خان کو پتا ہے۔ کس وقت کیا فیصلہ کرنا ہے۔ عمران خان ایسا سیاسی ڈرون ماریں گے کہ یہ سب کچھ نیست و نابود ہو جائے گا۔ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد عمران خان مزید مضبوط ہوں گے۔ تحریک عدم اعتماد ڈھیلی ڈھالی سی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ سپیکر کے خلاف پہلے آئے گی۔ کوئی پنجا باور مرکز کی بات کرتا ہے۔ خریدوفروخت کا بازار گرم کرنے والے غور سے سن لیں کہ عمران خان ترپ کا تاش کھیلے گا، انہوں نے اپنے روایتی انداز میں کہا ہے کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف چلے ہوئے کارتوس ہیں۔ ان کے نصیب میں شرارتیں کرنا تو موجود ہے۔ عمران خان کو جہانگیر ترین سے بات کرنی چاہیے، پاکستان کے ادارے واضح طور پر نیوٹرل ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کے دورہ روس کے دوران تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپوزیشن کی سرگرمیاں عروج پر تھیں وہ اپنے تین روزہ دورہ کے بعد وطن واپس آ گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد کو غیر موثر بنانے کے حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں جس تحریک عدم اعتماد کے خوف سے گھبرا کر قومی اسمبلی ہی تحلیل کر دیتے ہیں۔
پیر، 28 فروری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post کیا پنجاب کی وزارت اعلٰی کا ہما پرویز الٰہی کے سر بیٹھ سکتا ہے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.
