ڈاکٹر مہمت اُچار کے طبّی مشوروں پر مبنی پروگرام چشمہ شفاء کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔
آج ہم صحت کے جس مسئلے اور اس کے علاج کے بارے میں آپ کے ساتھ بات کریں گے وہ ہے پیٹ میں "گیسٹرک درد اور اس کا قدرتی علاج”۔
نظام ہضم میں بعض منفی وجوہات کی وجہ سے گیس کا درد وقتاً فوقتاً ہم سب کے لئے مسئلہ بن جاتا ہے۔
گیسٹرک درد کیوں ہوتا ہے؟
- کسی خوردنی چیز کے مقابل جسم کے عدم تحمل یا الرجی کی وجہ سے
- لمبے عرصے تک بیٹھے رہنے سے
- ہوا نگلنے سے
- ایسی خوردنی اشیاء کے استعمال سے جن کے استعمال کی آخری تاریخ گزر چکی ہو
- بہت زیادہ لیف والی خوراکوں کے وافر استعمال سے
- کھانے کو چبائے بغیر نگلنے
- انتڑیوں کے مسائل
- جسم کے لمبے عرصے تک ٹھنڈ میں رہنے خاص طور پر پیروں اور پیٹ کو ٹھنڈ لگنے سے
- بہت زیادہ دودھ پینے سے
- گیس والے اور میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال سے اور
- نقصان دہ عادات کی وجہ سے گیسٹرک درد کا سامنا ہو سکتا ہے۔
گیس کی درد کے قدرتی طریقہ ہائے علاج کے لئے ہماری تجاویز کچھ اس طرح ہیں۔
- ادرک
ادرک گیس کے درد کو کم کرنے ، خاص طور پر گیس کی وجہ سے پیٹ کے درد کو ختم کرنے کے لئے نہایت موئثر چیز ہے۔ لیکن اس کا زیادہ استعمال معدے میں تکلیف کا سبب بن سکتا ہے لہٰذا اسے استعمال کرتے ہوئے احتیاط برتنا ضروری ہے۔
استعمال کا طریقہ نوٹ فرما لیں۔
ادرک کو چھیلیں اور باریک باریک کاشوں میں کاٹ کر کپ میں ڈالیں۔ اس کے اوپر گرم پانی ڈال کر دم دے دیں اور چند منٹ بعد اس چائے کو پی لیں۔ دم بہت زیادہ لمبا نہ ہو اس کے علاوہ خیال رہے کہ اُبلتا پانی ادرک کے غذائی اجزاء کو ختم کر دیتا ہے لہٰذا پانی کو اُبال آنے سے پہلے چُولہے سے اتار لیں ۔ ادرک کی چائے میں لیموں کی کاش بھی ڈالی جا سکتی ہے۔
- زیرہ
گرم پانی میں ایک چُٹکی زیرے کی ڈالیں اور 10 منٹ کے لئے دم آنے دیں ۔بعد میں پانی کو چھان کر پی لیں۔
- سرکہ
نیم گرم پانی میں ایک کھانے کا چمچ سیب کا سرکہ ملا کر پئیں۔ یہ بھی گیس کے درد سے نجات دے سکتا ہے۔
- سونف
سونف کے چند دانے منہ میں رکھیں اور اچھی طرح چبا کر نگل لیں یا پھر چائے کی شکل میں بھی سونف کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔
- دار چینی
درد میں افاقہ دینے کی خصوصیت کی وجہ سے دارچینی گیس کے پیدا کردہ درد کو ختم کرنے میں بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔ دارچینی کو بھی بالکل ادرک کی طرح چائے کی شکل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دارچینی کی چائے دارچینی پاوڈر سے بھی تیار کی جا سکتی ہے اور ثابت داراچینی سے بھی۔ ثابت دارچینی کو استعمال سے پہلے دھو کر چند چھوٹے ٹکڑوں میں توڑ لیں۔ ان ٹکڑوں پر اُبلتا ہوا پانی ڈال کر 10 منٹ کے لئے دم پر چھوڑ دیں۔ احتیاط کریں دارچینی کو پانی کے ساتھ ابالنے سے گریز کریں کیوں کہ پانی کے ساتھ اُبالنے سے دار چینی میں شامل وٹامن اور لذت دونوں میں کمی آ جاتی ہے۔
اگر دارچینی پاوڈر کا استعمال کرنا ہو تو ایک کپ پانی میں ایک چوتھا ئی چھوٹا چمچ دارچینی پاوڈر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چائے میں شہد بھی ملایا جا سکتا ہے۔
- کاربونیٹ
ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک یا پھر آدھا چائے کا چمچ کاربونیٹ حل کر کے پیا جا سکتا ہے۔
- گرم پانی کی بوتل سے ٹکور
پیٹ میں جس جگہ درد ہو وہاں گرم پانی کی بوتل رکھ کر تقریباً 5 منٹ تک ٹکور کریں۔
- ورزش
کمر کے بل لیٹ کر ٹانگوں کو گھٹنوں سے کھڑی شکل میں لائیں اور پیٹ کی طرف کھینچیں۔
- گیسٹرک درد میں ڈیزی کے پھولوں، پودینے اور الائیچی کی چائے کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پیٹ میں جمع گیس سے نجات کے لئے بعض دیگر تجاویز کچھ اس طرح ہیں۔
کھانے کی مقدار میں کمی کرنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ کھانے کو چھوٹے نوالوں کی شکل میں اور اچھی طرح چبا کر کھایا جائے۔ نوالوں کو اچھی طرح چبا کر کھانا، کھانے کے ساتھ ہوا نگلنے میں بھی کمی کرے گا۔ یہ جاننے کے لئے کہ کونسی خوراک زیادہ گیس کا سبب بنتی ہے جو بھی کھانا کھایا جائے اسے نوٹ کر لیا جائے۔
کثرت سے چیونگم چبانے، مشروبات پینے کے لئے پائپ کا استعمال کرنے۔ کھانے کے دوران باتیں کرنے یا پھر عجلت میں کھانا کھانے سے ہوا نگلنے کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے جو گیس پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
قبض بھی پیٹ پھولنے اور گیس بھرنے کا سبب بنتی ہے لہٰذا قبض سے بچنے کے لئے وافر مقدار میں پانی کا استعمال اور جسمانی حرکت مفید ثابت ہوتی ہے۔
پروبائیوٹک سپلیمنٹس انتڑیوں میں بیکٹریا کی صورتحال کو بہتر کرنے کی وجہ سے گیس اور پیٹ کے پھولنے کی شکایت کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
