لاہور(نمائندہ جسارت) لاہور کی بینکنگ کورٹ نے شوگر ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے کیس میں مسلم لیگ (ن) کے صدراورقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز پر فرد جرم 10مارچ تک موخرکر دی۔ پیر کو شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف شوگر ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے کیس کی سماعت ہوئی۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان نے عدالت کے روبرو پیش ہوکر حاضری مکمل کرائی۔ ملزمان کے وکلا نے استدعا کی کہ عدالت میں وکلا کی ہڑتال ہے، دلائل نہیں دے سکتے۔ حمزہ شہباز کی جانب سے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وکالت نامہ جمع کرا دیا۔ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو صاف کاپیاں فراہم کر دی ہیں، ملزمان بلاوجہ کیس التوا کا شکار کر رہے ہیں، قانون میں لکھا ہوا ہے کہ جب کاپیاں فراہم کر دی جائیں تو ملزمان پر فرد جرم عاید کی جائے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت کو اب لانگ مارچ اور دھرنے نظر آرہے ہیں، ذاتی انا کی وجہ سے ایف آئی اے نے دوبارہ یہ کیس تیار کیا۔ اس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ انا کا مسئلہ نہیں بلکہ قانون کہتا ہے کہ جلدی ٹرائل کیا جائے۔ عدالت نے لیگی رہنمائوں کی عبوری ضمانت میں 10مارچ تک توسیع کر دی۔علاوہ ازیںایف آئی اے نے شہباز شریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کی درخواست دائر کردی۔ ایف آئی اے کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیاگیا کہ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے،ایف آئی اے نے ضمنی چالان جمع کرا دیا ہے تاحال فرف جرم عاید نہیں ہوئی، مقدمے میں نامزد ملزمان کی جانب سے مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ فرد جرم عاید کرنے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے۔
