اسلام آباد‘لاہور(آن لائن+صباح نیوز) تحریک عدم اعتماد پر ڈیڈلاک کے معاملے پر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کے درمیان ایک بار پھر ٹیلیفونک رابطہ ہواہے۔ مولانا فضل الرحمن نے عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں سے شرائط نہ رکھنے پر زور دیا جبکہ نوازشریف نے عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے(ن) لیگ کے موقف سے آگاہ کیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر ڈیڈ لاک کی وجہ سے پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی میں بات چیت رک گئی تھی لیکن ایک بار پھر مو لانا فضل الرحمن اورنوازشریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہو ا جس میں دونوں رہنمائوں نے آپس میں بات چیت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔دونوں رہنمائوں کے درمیان ہونے والے ٹیلی فونک رابطے میں نواز شریف نے عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے( ن) لیگ کے موقف سے آگاہ کیا تاہم اپوزیشن کی کمیٹی بھی مرکز یا پنجاب میں عدم اعتماد کے بارے میںابھی فیصلہ نہ کرسکی۔ فضل الرحمن نے عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں سے شرائط نہ رکھنے پر زور دیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ( ن) لیگ بلدیاتی انتخابات کو سامنے رکھتے ہوئے پرویز الٰہی کے بارے میں فیصلہ کرے گی،(ن) لیگ نے پرویز الٰہی کے معاملے پر لچک دکھانے سے انکارکردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ بنائے جانے کی صورت میں باقی ماندہ مدت پوری کرنے پر بضدہیں،2روزقبل آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن میں بھی رابط ہوا تھا، ڈیڈلاک کی وجہ سے عدم اعتماد کی تحاریک جمع کرانے کا کام بھی رک گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف نے پہلے خود دوبارہ مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ارکان کی حمایت کی صورت میں عدم اعتماد کی کیا حیثیت ہوگی اپوزیشن کے آئینی اور قانونی ماہرین سے تجاویز مانگ لی گئیں۔علاوہ ازیںمولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہواجس میں انہوں نے عدم اعتماد کے حوالے سے قانونی اور آئینی معاملات پر رائے لینے پر اتفاق کیا ۔ پیر کو مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، دونوں رہنمائوں کے درمیان حکومت مخالف تحریک عدم اعتماد اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں رہنمائوں نے حکومت مخالف تحریک میں تیزی لانے پر مشاورت کی جبکہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے قانونی اور آئینی معاملات پر بھی رائے لینے پر اتفاق ہوا۔شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمن کو بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل سے ہونے والی ملاقات پر اعتماد میں لیا۔ادھرایک نجی ٹی وی کے مطابق اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے مارچ کے پہلے ہفتے میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے درخواست جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اپوزیشن نے قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی حکمت عملی طے کرلی۔ اسپیکرقومی اسمبلی سے اجلاس فوری طور پر بلانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر بڑی ملاقات رواں ہفتے متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی3 بڑی جماعتوں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام کے قائدین میں اہم سیاسی بیٹھک پر اتفاق ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن، آصف علی زرداری اور شہباز شریف کی رواں ہفتے لاہور میں ملاقات کا امکان ہے۔تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بنائی گئی اپوزیشن کی کمیٹی اس ہفتے اپنی رپورٹ پیش کرے گی ،جس کی سفارشات کی روشنی میں تینوں قائدین آئندہ کی حکمت عملی پر غور کریں گے۔ اس اہم سیاسی ملاقات میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تاریخ کے حوالے سے مشاورت ہوگی ۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی تینوں بڑی جماعتیں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں بننے والی مخلوط یا ایک پارٹی حکومت کے دوران معیشت پر مشترکہ قومی اتفاق رائے پر بات ہوگی۔
