English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی میں ڈکیتیاں و قتل غارت ،جماعت اسلامی کراچی کا 40 تھانوں پر احتجاج کا اعلان

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن شہر کی موجودہ صورتحال ، عوامی رابطہ مہم اور حقوق کراچی کارواں کے حوالے سے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بدھ کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم ، مسلح ڈکیتی ،لوٹ مار کی وارداتوں میں معصوم لوگوں کے قتل ،سندھ حکومت و پولیس کی نااہلی اورمجرموں کی سرپرستی کے خلاف اتوار6مارچ کو شہر کے 40سے زاید تھانوں کے باہر احتجاجی مظاہروں اور حق دو کراچی کومہم کے سلسلے میں 20مارچ کو شہر میں’’حقوق کراچی کارواں ‘‘ کا اعلان کردیا اور کہاکہ امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تومسلح ڈکیتیوں کے خلاف احتجاج کے اگلے مرحلے میں کراچی کے تمام پولیس اسٹیشنز ،ایس ایس پی اور ڈی آئی جی آفسز اور آخر میں آئی جی آفس کے باہر بھی احتجاج کیا جائے گا جبکہ شہر بھر میں جاری رابطہ عوام مہم مزید تیزی اور جوش وخروش کے ساتھ جار ی رکھی جائے گی،5لاکھ گھروں سے رابطہ کیا جاچکا ہے ، عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے ، رابطہ عوام مہم کو مزید وسعت دی جائے گی ، اسٹریٹ کرائمز کے شکار اور پولیس کے عدم تعاون کے باعث پریشان حال شہریوں کی معاونت کے لیے جماعت اسلامی کے ضلعی دفاتر اور مرکزی آفس ادارہ نورحق میں لیگل ایڈ سیل قائم کیے جارہے ہیں ۔ا س موقع پر نائب امرا کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، انجینئر سلیم اظہر ،سیکرٹری کراچی منعم ظفر خان اورسیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ شہر میں لا اینڈ آرڈر کی بدترین صورتحال ہے ایک جانب صوبائی حکومت اور پیپلزپارٹی لانگ مارچ کررہی ہے دوسری جانب ان کے اقتدار کے سائے تلے نوجوان ڈکیتوں کے ہاتھوں قتل ہورہے ہیں ،صرف فروری کے مہینے میں4 ہزار وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں ،ڈاکو کھلے عام لوٹ مار کررہے ہیں لیکن کوئی بھی انہیں پکڑنے والا نہیں ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ،آبادیوں میں منشیات کے اڈے ،لوٹ مار کی وارداتیں ہورہی ہیں جو پولیس کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان مہنگائی ختم کرنے کی بات کررہے ہیں وہ بتائیں کہ بجلی کے اصل ٹیرف میں کتنی کمی کررہے ہیں ؟جبکہ کے الیکٹرک نے فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر 2روپے 90پیسے اضافے کا اعلان کردیا ہے ،کے الیکٹرک ،وفاقی حکومت اور نیپرا کی سرپرستی سے اہل کراچی سے لوٹ مار کررہی ہے ،کوئی اس سے پوچھنے والا نہیں ۔ اخبارات کے مطابق وزیر اعظم کے 650ارب روپے کے پیکج کے اشتہارات شائع ہوئے ہیں ہم پوچھتے ہیں کہ 1100ارب روپے کے پیکج میں باقی حصہ کہاں ہے؟وزیر اعظم اعلانات کے بجائے پیکجز کے بارے میں متعین طور پر بتائیں ،ابھی موسم گرما کا آغاز ہی ہے کہ شہر میں پانی کی قلت شروع ہوگئی ہے ، رمضان المبارک کی آمد ہے اس وقت تک پانی کی کمی کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے ، K4منصوبہ 650ملین گیلن کا تھا پی ٹی آئی کی حکومت نے کم کرکے260ملین گیلن کردیا اور اب اطلاعات مل رہی ہیں کہ مزید کمی کرکے اپنے دور حکومت میں پروجیکٹ مکمل کرنے کا کریڈٹ لینے کے لیے 130ملین گیلن پانی کی فراہمی کا منصوبہ بنایا جارہا ہے اس طرح کے طریقوں سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس بڑے منصوبے کا کیا حال ہوگا ؟وفاق اور صوبہ مل کر کراچی کے ساتھ جعل سازی کررہے ہیں ،وزیر اعلیٰ سندھ جماعت اسلامی کے دفتر آئے تھے انہوں نے اعلان کیا تھا کہ کراچی کو 65کروڑ گیلن پانی ملنا چاہیے ، ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی ذمے داری پوری کرتے ہوئے اعلان پر عملدرآمد کرائیں اور اس قسم کے تاثر کو ختم کرائیں کہ پیپلزپارٹی کراچی کے شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتی ہے ،یہاں کے لوگوں کو صوبے کا حصہ نہیں سمجھتی ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ ماس ٹرانزٹ پروگرام پر عمل نہیں ہورہا جبکہ کراچی سرکلر ریلوے جس کا وزیر اعظم نے 3 ماہ قبل افتتاح کیا تھا اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے ،بات صرف اعلانات ،جعلی افتتاح تک ہی محدود ہے اس طرح کب تک کراچی کے عوام کو بے وقوف بنایا جاتا رہے گا۔ہم حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ اب اس شہر سے کھلواڑ ختم ہونا چاہیے ،ہم نے بلدیاتی مسائل کے حل کراچی کے میئر اور شہری اداروں کو بااختیار بنانے اور وسائل کے لیے طویل دھرنا دے کر سندھ حکومت سے بہت سے مطالبات منظور کرائے باقی مطالبات کے لیے مذاکرات جاری ہیں لیکن ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ تعلیم اور صحت کے شعبے اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں ایجنڈے میں شامل کیے جائیں اور یہ محکمے فوری بلدیہ کو واپس کیے جائیں ، کراچی کے بڑے مسائل میں ایک مسئلہ مردم شماری بھی ہے ،پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے جعلی مردم شماری کی منظوری دے دی ،اب آئندہ مردم شماری کے لیے بھی سابق فراڈ طریقہ استعمال کر کے کراچی کی آبادی کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جو جہاں رہتا ہے اسے وہیں کا شہری تصور کیا جائے اور اسی حساب سے وسائل دیے جائیں اور اسی تناسب سے اسمبلیوں میں نمائندگی دی جائے ۔حافظ نعیم الرحمن نے اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کی جانب سے لانگ مارچ،تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ یہ جماعتیں عوام کے اہم مسائل پر بات کرنے کے بجائے اسے نان ایشو پر الجھارہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے