English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومتی جماعتوں کا احتجاج دھوکا ہے،حکمران مارچ کے بجائے کارکردگی دکھائیں،سراج الحق

اسلام آباد:امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے صحافیوںکے وفد کا ملاقات کے بعد گروپ فوٹو

اسلام آباد /لاہور(نمائندگان جسارت) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومتی پارٹیاںاحتجاجی مارچ کرنے کے بجائے کارکردگی دکھائیں۔ حکومت میں ہونے کے باوجود سیاسی جماعتوں کا عوام کے حقوق کے لیے احتجاج سمجھ سے بالا ترہے، ایسا صرف پاکستان میں ہی ہوتا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے مارچز دھوکا دہی ہیں۔ احتجاجوں پر سرکاری وسائل خرچ ہورہے ہیں اور ان لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔پیکا آرڈیننس کے خلاف صحافتی تنظیموں کے احتجاج کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔ جماعت اسلامی نے 2011ء میں صحافیوں کی فلاح اورحفاظت اور میڈیا کی آزادی کے لیے 8صفات پر مشتمل بل سینیٹ میں جمع کرایا تھا ۔ جماعت اسلامی کی تجاویز میڈیا کی آزادی کی ضمانت ہیں،انہیں قانون کی شکل دے کر لاگو کیا جائے تاکہ ملک میں آزادی اظہار رائے یقینی بن سکے اور صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں احسن طریقے سے سرانجام دے سکیں ۔ جماعت اسلامی قانون کی حکمرانی چاہتی ہے ۔ عدل اور انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر ترقی ممکن نہیں ۔ ملک کے دفاع کے لیے قوم میں اتحاد واتفاق اور معاشی ترقی کا حصول اولین شرط ہے ۔ اسلامی نظام بہترین دفاع کا ذریعہ ہے ۔ملک کو سازشوں کے ذریعے کمزور کیا جارہا ہے ۔ جماعت اسلامی کو موقع ملا تو ہر شعبے کو قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں مضبوط کریں گے ۔ قوم نے تینوں بڑی جماعتوں کو آزما لیا اب جماعت اسلامی ہی واحد آپشن ہے۔ جماعت اسلامی ملک میں عوامی طاقت سے اسلامی جمہوری انقلاب لائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ امیر جماعت آج جعفرآباد میں جماعت اسلامی کے دھرنے سے خطاب کریں گے۔ اسی طرح کل سکھر میں سودی معیشت، مہنگائی، بے روزگاری ، کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی کی ایک سو ایک دھرنوں کی جاری تحریک کے سلسلے میں ہونے والے بڑے عوامی دھرنے سے بھی خطاب کریں گے۔ امیر جماعت دورہ سندھ کے دوران مختلف شمولیتی پروگراموں میں بھی شرکت کریں گے۔سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم عوام کو بلاسود قرضوں کے بہلاوے دینے کے بجائے سودی معیشت کے خاتمے کا اعلان کیوںنہیں کرتے۔ موجودہ حکومت کے دور میں ملکی قرض 51 ہزار ارب تک پہنچ گیا۔ اسلامی ممالک سے بھی 3 فیصد سے زاید شرح سود پر قرض لیا گیا۔ ملکی بجٹ کا40 سے50 فیصد سود سمیت قرض کی واپسی کی نذر ہورہا ہے۔ قومی و بین الاقوامی قرض جی ڈی پی کے90 فیصد سے تجاوز کر گیا۔ وزیراعظم مدینے کی ریاست کا نام بھی لیتے ہیں اور ڈھٹائی سے سودی سرمایہ دارانہ نظام بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کے بیانات اور اقدامات میں واضح تضاد ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2 جماعتیں احتجاج کررہی ہیں لیکن وہ ساتھ ساتھ حکومت میں بھی ہیں ۔ سندھ کے شہروں ، گھوٹھوں اور دیہات میں غربت ناچ رہی ہے۔ ملک کے کروڑوں عوام مہنگائی اور غربت کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ملک میں لاقانونیت اور کرپشن کا دور دورہ ہے۔ حکمرانوں کے احتجاج صرف اور صرف الیکشن میں قوم کو ایک دفعہ پھر بے وقوف بنانے کے لیے ہیں۔ لوگ ان کے دھوکوں سے خبردار رہیں اور انہیں انتخابات میں گھر کا راستہ دکھائیں تاکہ اسلامی اور خوشحال پاکستان کی راہ ہموار ہو۔ سراج الحق نے کہا کہ ملک پر استعماری طاقتوں اور انگریز کے وفادار راج کررہے ہیں۔ حکمران اشرافیہ کا ایجنڈا عالمی اسٹیبلشمنٹ ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی تابعداری ہے۔ وزیراعظم نے پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں نام نہاد کمی کرکے قوم کو جھوٹا بہلاوا دیا۔ وہ اپنی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کے مختلف بہانے تراش رہے ہیں۔ عوام ان حکمرانوں سے تنگ ہیں۔ پی ٹی آئی نے پونے 4 برس ضائع کیے اور معیشت سمیت ہر شعبے کو تباہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مسائل کا حل جماعت اسلامی کے پاس ہے۔ ہم اللہ کی مدد اور عوام کی طاقت سے ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔ ہمارے پاس بہترین لوگ ہیں اور پاکستان کو فلاحی اسلامی ریاست بنانے اور اداروں کو ٹھیک کرنے کا مکمل روڈ میپ ہے ، قوم ہمارا ساتھ دے اور آزمائے ہوئے لوگوں پر مزید اعتبار نہ کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے