کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) عورت مارچ پر پابندی کا مطالبہ درست ہے‘ حجاب کا تمسخر اڑانے کی اجازت نہ دی جائے‘ چند خواتین کا ٹولہ غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے پورے ملک کی خواتین کو بدنام کر رہا ہے‘ پابندی سے عورت مارچ کا مزید چرچا ہوگا‘ خواتین کو اپنی حدود کا خود خیال رکھنا چاہیے‘ خواتین کا اغوا، ریپ، جائداد اور تعلیم سے محروم رکھنا ہمارے معاشرے کا اہم المیہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور معروف نوجوان عالم دین مفتی محمد زبیر، جماعت اسلامی پاکستان خواتین ونگ کی خارجہ امور کی ڈائریکٹر، سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد کی صاحبزادی و سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ غزالہ سیفی، معروف مصنف، ڈرامہ نگار، ادیب اور ہدایتکار خلیل الرحمن قمر اور پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ، ماڈل و میک اپ آرٹسٹ نادیہ حسین خان نے جسارت کے اس سوال کے جواب میںکیا کہ ’’کیا عورت مارچ پر پابندی کا مطالبہ درست ہے؟‘‘ مفتی محمد زبیر نے کہا کہ عورت مارچ پر پابندی کا مطالبہ بالکل درست ہے‘ وفاقی وزارت مذہبی امور نور الحق قادری نے وزیراعظم پاکستان کو عورت مارچ پر مکمل پابندی عاید کرنے کے لیے جو خط لکھا ہے ‘میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں‘ ہم عورتوں کے حقوق کی پاسداری کرنے اور ان کو تمام تر حقوق دیے جانے کے مطالبات کی مکمل تائید اور غیر مشروط حمایت کرتے ہیں مگر ہم عورت مارچ کے سلوگن کے ساتھ کھڑے نہیں ہوسکتے‘ عورت مارچ میں جتنے سلوگن بھی دیے جاتے ہیں ‘ یہ اسلام، شریعت اور قرآن سے متصادم ہیں‘ سب سے بڑھ کر یہ ہماری مشرقی روایات کے بھی خلاف ہیں‘ عورت مارچ میں اس طرح کے بینرز اور پلے کارڈ آویزاں کیے جاتے ہیں کہ ’’اپنا موزا خود تلاش کر لو، اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو اپنی آنکھوں پر باندھ لو، میرا جسم میری مرضی، آج سے بارڈر پر ہم بیٹھیں گے‘ ایسے نعروں کا خواتین کے حقوق سے کیا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ عورت مارچ کا مقصد جہاں فحاشی اور بے حیائی پھیلانا ہے وہاں باقی تمام عورتوں کو بدنام کرنا ہے۔ عورتوں کے حقوق یہ ہیں کہ ان کو بطور ماں، بہن اور بیٹی وراثت میں حصہ اور تعلیمی سہولیات ملیں‘ قرآن سے شادی حرام ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں گزشتہ روز اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں شریک تھا‘ چیئرمین نے بھی یہی کہا کہ یہ تمام خواتین ہمارے مشرقی سماج کی خواتین کی نمائندگی نہیں کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عورت مارچ کے نام پر اسلامی شعائر، معاشرتی اقدار، حیا و پاکدامنی، پردہ و حجاب کا تمسخر اڑانے کی اجازت نہ دی جائے‘ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہاں کی اکثریت اصولی طور پر اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی خواہشمند ہے۔ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ پابندیاں کسی بھی نان ایشو کو ایشو بنا دیتی ہیں اور ہمارے معاشرے میں معاشرتی اقدار سے جو بھی بغاوت کرتا ہے تو اس کو پذیرائی نہیں ملتی ہے اور میرا خیال ہے کہ بہت ہی قلیل تعداد ہے اس طرح کے کام کرنے والوں کی‘ ان کی چیزوں کو معاشرے نے قبول نہیں کیا ہے‘ یہ پانچواں سال ہے خود حلقہ جماعت اسلامی نے ان ریلیونٹ ایشوز کو جو ہمارے معاشرتی اقدار سے بھی میل نہیں کھاتی ہے اس سے اعلان برأت کیا ہوا ہے‘ ہم اپنا پروایکٹو پروگرام لوگوں کے سامنے رکھیں گے اور ہم کسی بھی اشتعال انگیزی اور ردعمل کا شکار نہیں ہوں گے‘ اس لیے ہم نے کبھی بھی ان خواتین کے اوپر کوئی کمنٹ پاس نہیں کیا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی بیان بازی کی ہے‘ اس طرح کی پابندیاں ان کو زیادہ ہائی لائٹ کریں گی اس لیے اپنی اخلاقی، معاشرتی اقدار اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے ہر کسی کو مارچ کا حق ہے لیکن ہم خواتین کو اپنی حدود کا خود خیال کرنا چاہیے۔غزالہ سیفی نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کا عورت مارچ پر پابندی کے لیے لکھے جانے والا خط ان کا ذاتی موقف ہو سکتا ہے‘سب کو اپنا موقف دینے کا حق حاصل ہے لیکن میں یہ سمجھتی ہوں کہ عورت مارچ پر پابندی درست اقدام نہیں ہے‘ اس مارچ کو اچھے طریقے سے کرنے کی اجازت دینی چاہیے‘ ہمارے سماج میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے باتیں تو بہت کی جاتی ہیں مگر عملی طور پر کچھ بھی نہیں کیا جاتا ہے‘ عورت کے ساتھ خواہ وہ بہن، بیٹی، بہو یا ماں ہو‘ ہر روپ میں بدترین برتاؤ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو درپیش مسائل کو سمجھنے اور خواتین کو اس حوالے سے آگاہی دینے کے لیے عورت مارچ جیسی تقریبات کا انعقاد ضروری ہے لیکن مادر پدر آزادی کو حقوق کا نام دینا کسی طور پر درست عمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں ایک مقدس رشتہ عطا کیا ہے تاکہ عورت معاشرے میں تخریب کے بجائے تعمیر واصلاح کا فریضہ سرانجام دے سکے۔ عورت کو چاہیے کہ شرم وحیا کا پیکر بن کر تعلیمی، معاشی، اقتصادی اور معاشرتی میدان میں مردوں کا ہاتھ بٹائے تاکہ معاشرے کی ترقی میں فعال کردارادا کرسکے‘ معاشرے میں عورت کو کم تر سمجھا جاتا ہے جو سراسر ناانصافی ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو جتنے حقو ق دیے ہیں اتنے کسی اور مذہب نے نہیں دیے ہیں۔ خلیل الرحمن قمر نے کہا کہ عورت مارچ صرف چند خواتین کا ٹولہ ہے جو غیر ملکی فنڈنگ اور این جی اوز کے ذریعے پورے ملک کی خواتین کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے‘ لبرل ازم کو پاکستان میں کبھی پروان نہیں چڑھنے دیں گے‘ میرا جسم میری مرضی والی خواتین خود تو ملک سے باہر رہتی ہیں اور پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے سامنے لے آتی ہیں۔ میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والے اپنے جسم سے مکھی اڑانے کے مجاز بھی نہیں ہیں‘ اس طرح کے نعرے لگا کر یہ باعزت عورتوں کو بھی شرمندہ کر رہی ہیں۔ نادیہ حسین خان نے وفاقی وزیر نورالحق قادری کا8 مارچ کو عورت مارچ پر پابندی عاید کرنے سے متعلق وزیراعظم کو لکھے جانے والے خط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی وزیر کو 8 مارچ کے دن عورت مارچ کے انعقاد پر اعتراض ہے تو 8 مارچ کے بجائے عورت مارچ کسی اور دن رکھا جا سکتا ہے لیکن خواتین کے حقوق کے لیے عورت مارچ کا انعقاد ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں بہت کم آگاہی ہے اور خواتین پر گھریلو تشدد، ان کی زبردستی شادی کرنا اور جنسی طور پرہراساں کرنا معمول کی بات ہے‘ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین کی موجودگی ناگزیر ہے‘ آئین میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے لیکن ان قوانین کی تشریحات اور عملدرآمد کے مسائل کی وجہ سے خواتین کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے‘ اغوا، ریپ، جائداد میں حق نہ دینا اور لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا آج بھی ہمارے معاشرے کا اہم المیہ ہے۔

