امریکی صدر جو بائڈن نے روس سے یوکیرین میں یورپ کے بڑے ترین نکلئر پاور پلانٹ زاپو ریحا کے فیلڈ میں فوجی آپریشن کو روکنے اور آگ بجھانے والے عملے کو پلانٹ تک جانے کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک تحریری بیان کے مطابق جو بائیڈن نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے فون پر بات کرتے ہوئے زاپو ریحا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے مقام پر جھڑپوں کے نتیجے میں لگنے والی آگ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
بائیڈن نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ارد گرد فوجی سرگرمیاں روکے اور فائر فائٹرز اور ایمرجنسی ٹیموں کے لیے علاقے تک رسائی کو یقینی بنائے۔
اس کے علاوہ، بائیڈن نے نیوکلیئر پاور پلانٹ کے حوالے سے امریکی محکمہ توانائی کے نیوکلیئر سیفٹی کونسل اور نیشنل نیوکلیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے سربراہ کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن اور یوکرینی وزیر خارجہ دیمترو کولیبا کا ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے۔ اس بات چیت کے دوران دنیا میں یوکرین کی حمایت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور یوکرین کے لیے اضافی سیکیورٹی، اقتصادی اور انسانی امداد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
"وزیر بلنکن نے روس کے زمینی، فضائی اور سمندری حملوں میں اپنی جانیں گنوانے والوں کے لیے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکہ، یوکرین کے درد میں برابر کا شریک ہے۔”
Zaporizhia نیوکلیئر پاور پلانٹ یورپ کے سب سے بڑے اور دنیا کے 10 بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹس میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے۔
