English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ، ویلتھ پاک

پاکستان کے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں،پاکستان میں 174گیگا واٹ بجلی ہوا سے پیدا کرنے کی صلاحیت ہے،پاکستان کی ونڈ انرجی کی صلاحیت سامنے آنا شروع ہو گئی ہے،حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2030تک 6فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے پیدا کی جائے،حکومت کی پالیسوں کی وجہ سے پاکستان ہوا سے بجلی پیداکرنے والے عالمی رہنما وں میں شامل ہوجائے گا،صوبہ سندھ میں جھمپیر گھارو ونڈ کوریڈور، 180 کلومیٹر(110میل) پر پھیلا ہوا علاقہ ہے اور یہ ہوا کی طاقت سے 11,000میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق قدرتی وسائل کی کمی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب نے دنیا بھر کے منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کو توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔وافر مقدار میں دستیاب متبادل توانائی کے بڑے ذرائع ہوا، شمسی، بایوماس، ہائیڈرو پاور اور جیوتھرمل ہیں۔ ان صاف اورسر سبز توانائی کے ذرائع میں سے، ڈنمارک، سپین، جرمنی، امریکہ، چین اور بھارت جیسے کئی ممالک میں ہوا کو بجلی کی پیداوار کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے کئی دہائیوں سے بجلی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔اس کے دیہی علاقوں کی اکثریت بجلی تک رسائی سے محروم ہے اور یہاں تک کہ قومی گرڈ سے منسلک شہر وں کو بھی طویل گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔ یہاں تک کہ مقامی اور درآمد شدہ نا قابل تجدید وسائل کا بڑے پیمانے پر استعمال بھی اب ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی لگتا ہیں۔تاہم،توانائی کی ضرورت کو وافر دستیاب قابل تجدید وسائل جیسے ہوا، شمسی اور بایوماس انرجی کے استعمال سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ ان میں ہوا سے سب سے زیادہ توانائی پیداکرنے کی صلاحیت ہے ۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر الٹرنیٹو انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ (AEDB)محمد یاسین کاکہناتھاکہ پاکستان ماحول دوست قابل تجدید توانائی کی پیداوار اور قومی گرڈ کے ساتھ اس کے انضمام پر بہت زیادہ توجہ دے رہا ہے۔بورڈ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کررہاہے ۔ صوبہ کے پی کے ، پنجاب اور سندھ میں بالترتیب مائیکرو ہائیڈرو ڈیم، سولر اور ونڈ پاور پلانٹس کی تعمیر اسی کا نتیجہ ہے۔اس وقت پاکستان میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت 287میگاواٹ ہے، جب کہ 306میگاواٹ کے ونڈ پاور منصوبے بنانے اور منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔ تاہم، پاکستان میں تقریبا 174 گیگا واٹ کی ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ہوا سے بجلی پیداکرنے کے استعداد کار کو بروئے کار لانے اور ان میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے مختلف مراعات دی ہیں ، جن میں پرکشش ٹیرف کی قیمت، سستے نرخوں پر زمین کی دستیابی، بجلی کی خریداری کی ضمانت ، سامان کی درآمدپر زیرو ریٹیڈ ڈیوٹی ور آمدنی اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ شامل ہیں۔سال 2020میں الٹرنیٹو انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ( AEDB)نے مجموعی طور پر 500MWسے زیادہ پر مشتمل ہواسے بجلی بنانے کے 11منصوبوں کی منظوری دی۔ یہ منصوبہ اپنے مقر ر وقت میں مکمل ہوجائیں گے ۔حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2030تک 6فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے پیدا کی جائے، اس میں پن بجلی کو چھوڑ کر آنے والے سالوں میں، شمسی اور ہوا سب سے اہم ذرائع ہوں گے، حکومت نے متبادل توانائی کے ترقیاتی بورڈ(اے ای ڈی بی)کو سال 2030تک قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز کے ذریعے کل قومی بجلی کی پیداوار کا 6 فیصد بنانے کا کام سونپا ہے۔حکومت کے آنے والے منصوبوں اور وژنری پالیسیوں سے توقع ہے کہ پاکستان ہوا سے توانائی پیداکرنے والے ممالک میں عالمی رہنما وں میں شامل ہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہوا اور شمسی آلات کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے، حکومت مینوفیکچررز کے لیے پانچ سال کی ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز دے رہی ہے۔ اس سے قابل تجدید توانائی کاحصہ نمایاں طور پر بڑھائے گا، رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔ جھمپیر گھارو کوریڈور پاکستان کی ونڈ انرجی میں ترقی کی بڑی کامیابی ہے۔ زیادہ تر ونڈ پلانٹ کی تنصیبات سے یہ خطہ اب ونڈ انرجی مارکیٹ کی ترقی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ صوبہ سندھ میں جھمپیر گھارو ونڈ کوریڈور، 180 کلومیٹر(110میل) پر پھیلا ہوا علاقہ ہے اور یہ ہوا کی طاقت سے 11,000میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان میں ونڈ انرجی کی مارکیٹ 2020-2025 تک 5%سے زیادہ بڑھنے کی توقع ہے۔ویلتھ پاک کے مطابق حکومت کی معاون پالیسیا ں قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداور میں اضافے میں اہم کردار ادا کریں گیں۔قابل تجدید ٹیکنالوجیز کی کم ہوتی قیمتیں ایندھن کے ذرائع بجلی پیداکرنے کے ساتھ مسابقتی ہوتی جا رہی ہیں۔ قابل تجدید ذرائع پر اضافی سبسڈی قابل تجدید مارکیٹ کو مزید آگے بڑھا رہی ہے۔دوسری طرف، فوسل فیول پر مبنی بجلی کی پیداوار پر بہت زیادہ انحصار، پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بہت کم ترقی اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے محدود بجلی کی صلاحیت کی وجہ سے اس کی ترقی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے