English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

روس کا شہریوں کے انخلا کیلئے یوکرین میں جزوی جنگ بندی کا اعلان

ماسکو: روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ روس نے یوکرین کے شہر ماریوپول اور وولونواخا سے انسانی بنیادوں پر راہداریاں کھولنے کی اجازت دینے کے لیے جزوی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسیوں نے روسی وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا کہ روس نے جنگ بندی کی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری کھولنے کا اعلان کیا تاکہ شہریوں کو ماریوپول اور وولونواخا سے نکلنے کی اجازت دی جا سکے۔سٹی ہال نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بحیرہ ازوف پر واقع تقریبا ساڑھے 4 لاکھ افراد پر مشتمل جنوبی شہر ماریوپول میں 9 بجے انخلا شروع کر دیا جائے گا، شہر سے نجی ٹرانسپورٹ کے ذریعے بےدخلی ممکن ہوگی۔

اعلان میں کہا گیا کہ شہر چھوڑنے والے تمام ڈرائیوروں سے ایک بہت بڑی درخواست ہے کہ شہری آبادی کے انخلا میں زیادہ سے زیادہ تعاون کریں، لوگوں کو اپنے ساتھ لے جائیں، جہاں تک ممکن ہو گاڑیاں بھرلیں۔اعلان میں کہا گیا ہے کہ انخلا کا عمل کئی دنوں تک جاری رہے گا تاکہ پوری شہری آبادی کو شہر سے باہر جانے کا موقع ملے۔بیان میں شہر کے حکام نے نجی گاڑیوں میں جانے والے رہائشیوں کو بتایا کہ انخلا کے راستوں سے نکلنا سختی سے ممنوع ہے۔پیغام میں کہا گیا کہ میونسپل بسیں بھی شہر کے 3 مقامات سے لوگوں کو نکلنے میں مدد کے لیے روانہ ہو رہی ہیں۔

یوکرین کی نائب وزیر اعظم ارینا ویریشچک نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ شہر سے تقریبا 2 لاکھ افراد کو نکالے جانے کی امید ہے۔انہوں نے لکھا کہ مزید 15 ہزار افراد کو وولونواخا سے لایا جائے گا جو کہ 20 ہزار افراد پر مشتمل ایک قصبہ ہے جو علیحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول ڈونیٹسک سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک علاقائی مرکز ہے۔بیان میں میئر وادیم بویچینکو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں ہے، لیکن جیسا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے ماریوپول اس شہر کی گلیاں یا گھر نہیں اس کی آبادی کا نام ہے، یہ آپ اور میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روسی فوجوں کے شہر کو گھیرے میں لے چکی ہیں، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ رہائشیوں کو، یعنی آپ کو اور مجھے ماریوپول کو بحفاظت چھوڑنے کی اجازت دی جائے۔دریں اثنا روس نے فیس بک اور کچھ دیگر ویب سائٹس کو بلاک کر دیا اور ایک قانون پاس کیا جس کے تحت ماسکو کو صحافت کے خلاف کریک ڈان کرنے کے لیے بہت زیادہ طاقت دی گئی، جس کے ذریعے بی بی سی، بلومبرگ اور دیگر غیر ملکی میڈیا کو ملک میں رپورٹنگ معطل کرنے پر مجبور کیا گیا۔یوکرین میں ہفتہ کودسویں روز بھی جنگ جاری رہی جب روسی فوجیوں نے شہروں کا محاصرہ کیا اور بمباری کی۔لڑائی نے 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں اور پابندیوں کے ایک سلسلے کو جنم دیا جو ماسکو کو تیزی سے تنہا کر رہا ہے، مغرب میں ایک وسیع عالمی تنازعہ کا خدشہ پیدا ہوا ہے جس کے بارے میں کئی دہائیوں سے سوچا بھی نہیں گیا۔

ماسکو کا کہنا ہے کہ اس کا حملہ ان افراد کو پکڑنے کے لیے ایک خصوصی آپریشن ہے جنہیں وہ خطرناک قوم پرست سمجھتا ہے، جبکہ اس نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔یوکرین کی خصوصی مواصلات اور معلومات کے تحفظ کی ریاستی سروس کا کہنا ہے کہ روسی افواج نے کریمیا تک زمینی راستہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ یوکرین کے دوسرے بڑے شہر کیف اور خارکیف کو گھیرے میں لینے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کی۔یوکرین کے دارالحکومت کے باہر کئی دنوں سے رکے ہوئے ایک روسی بکتر بند قافلے کی راہ میں موجود کیف، شہر کے مرکز میں دھماکوں کی آوازوں کے ساتھ ایک نئے حملے کی زد میں آیا۔

یوکرین کے میڈیا آٹ لیٹ سسپائلن نے کیف سے تقریبا 300 کلومیٹر مشرق میں واقع سومی میں موجود حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہر کی سڑکوں پر لڑائی کا خطرہ ہے اور رہائشیوں کو پناہ گاہوں میں رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔روسی افواج نے جنوب مشرقی بندرگاہی شہر ماریوپول کو بھی گھیرے میں لے کر گولہ باری کی، شہر کے میئر ویدم بوئیچنکو کے مطابق پانی، گرمی یا بجلی نہیں ہے اور کھانا ختم ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم صرف تباہ ہو رہے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے