English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا  مودی کی مذہبی بنیاد پرستی پرمبنی سیاسی حکمت عملی الٹ پڑ رہی ہے ؟شفقنا بین الاقوامی

القمر
گاؤ ماتا کی حفاظت سے لے کر مسلم شہریت کے خلاف متنازعہ قانون تک بی جے پی کی ہندو قوم پرست وفاقی حکومت کو کئی محاذوں پر نقصان کا سامنا کر  پڑ رہا ہے۔ مذ ہبی بنیادوں پر بنائی گئی داخلہ پالیسیوں کا اثر،جن کی باگ ڈور ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں ہے ، الٹا پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ ہندوستان کے تین حصوں میں ، کم از کم تین مواقع پر ھندوتوا کی ہمہ گیرپالیسیا ں نافذکر کےسیاسی مقاصد حاصل کرنےکے تجربات کا الٹا ردعمل ہوا ہے۔ اس کا تازہ ترین مظاہرہ گزشتہ ہفتے ،انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی شمالی ریاست اتر پردیش میں ہفت مرحلہ انتخابی عمل کےدوران دیکھنے میں آیا ہے۔، جہاں ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ پچاس لاکھ ھے۔
اتر پردیش کے دارالخلافہ لکھنؤ سے آگے بارہ بنکی کے کسانوں نےقریبی قصبوں اور دیہاتوں سے آوارہ مویشیوں کو اکٹھا کیا   اور انھیں یو پی کے وزیر اعلٰی یوگی ادتیا  ناتھ کے عوامی اجتماع کے قریب لا کے چھوڑ دیا ۔ یہ وہی ادتیا ناتھ ہیں جوہندوتوا کے علامتی  زعفرانی رنگ کےلباس میں ملبوس تھے اور وہ مسلمانوں کی خلاف  متنازعہ بیانات دینے کے لیے مشہور ہیں۔ اس عمل کی طاقت  کا  اتنا اثر ضرور ہوا کہ چیف منسٹر صاحب وزیراعظم  مودی کے ” ایک نیا  نظام ” کےوعدوں کو دہرانے پر مجبور ہو گئے جس میں بقول مودی غریب کسان ان جانوروں کاجو ، دودھ نہیں دیتے، گوبر بیچ کر پیسے کما سکتے ہیں ۔ کسان ، جن  میں ہندو غالب تعداد میں ہیں ، یہ دلیل دیتے ہیں کہ  فصلیں کھانےوالے آورہ مویشی ان  کی روز ی پر برا اثر ڈالتے ہیں ۔انڈیا میں شہ  سرخیوں میں شائع ہونے والی اس خبر میں کسانوں نےچیف منسٹر ادتیا ناتھ کو اس مصیبت کا زمہ دار ٹھرایا ہے۔
مویشیوں ،خصوصا” گائے کو ہندوستان میں مقدس جانور سمجھا  جاتا ہے ۔ ادتیا  ناتھ جوکہ ہندوستانی مندروں کے مہا پجاری ہیں نے 2017 میں اقتدار میں آنے کے فورا” بعد تمام  غیر قانونی مذبحہ خانوں پر پابندی لگادی تھی ۔ان مذبحہ خانوں کو زیادہ تر مسلمان اور نچلی زات کےہندو چلاتے تھے۔ تقریبا’ پانچ سو کےقریب مذبحہ خانوں کو غیر قانونی قرار دےکر بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے لاکھوں کارکن بےروزگار ہو گئے  تھے۔اقلیتی آبادی کے روزگار چھن جانے کی خبریں بہت کم سامنے لائی گئیں حتٰی کہ کسانوں کی جانب سے  آورہ مویشیوں کی تعداد میں اضافے کی شکایات سامنے آنے لگیں۔ ان مویشیوں کو پہلے مذبحہ خانوں والے لے جاتےتھے۔ کسانوں کی کسی نے نہ سنی حتٰی کہ وہ مذکورہ بالا اقدام کرنے پر مجبور ہو گئے۔
چند  گھنٹوں  کے اندر ہی  وزیراعظم نے  کسانوں کے مسئلے کےحل کا وعدہ کیا  جو انہیں آوارہ مویشیوں کی وجہ سے درپیش تھا۔ اور چیف منسٹر نے کہا کہ  آوارہ  مویشیو ں کے لیے بڑے بڑے باڑے بنائےجائیں گے جہاں ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کو ماہانہ اخراجات دیےجائیں گے۔

شہریت کے قانون کا نقصان

فروری کے اسی ہفتے میں بی جے پی  کے زیر حکومت ایک  دوسری مشرقی ریاست، آسام میں  مذہبی بنیادوں پر اٹھائے گئےایک اور   اقدام کو خطرہ لاحق ہو گیا۔”آل آسام سٹوڈنٹس یونین- ((AASU’ جو طلبا  کی ایک مؤثر تنظیم ہے ، کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ  2019 میں پاس کئے گئے ‘ شہریت قانون کو اگر نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو و ہ شدید مذاحمت کریں گے۔اے –اے-ایس –یو پہلے بھی اس قانون کی مخالفت کر چکی ہے لیکن ہوم منسٹر امیت شاہ کے ایک بیان کے بعد یہ شدید رد عمل سامنے آ گیا۔آسام کے قوم پرست ،غیر قانونی پناہ گزینوں  کو مذہبی بنیادوں  پر تقسیم کرنے کے خلاف ہیں۔   اور اے اے ایس یو کے صدر دیپانکاکمار ناتھ نے خبر دار کیا ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ عدالت  اور آسام کی  گلیوںمیں ، دونوں جگہ اس کے خلاف لڑیں گے۔  اس کی  پشت پناہی میں سول سوسائٹی کے گروپس اور آسام کی قانونی جماعتیں کھڑی ہیں۔بہت  جلد ،اور یقینا’ 2024 کے انتخابات کے بعد نہیں اس قانون کے خالق  امیت  شاہ کو  اس قانون کے بارے میں کوئی  فیصلہ کرنا پڑےگا۔

مسئلہ کشمیر

مذہبی   بنیادوں  پر پالیسی سازی کے عمل کا تیسرا اظہار انتہائی شمال میں واقع  ہندوستانی ریاست کے زیر انتظام کشمیر  کو اس کی خصوصی حیثیت سے محروم کر دینے کی صور ت  میں سامنے آیا۔ مسلم اکثریتی ریاست جموں اور کشمیر کو انڈین آئین کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کے تحت خصوصی  حیثیت حاصل  تھی  جسے 5 اگست 2019 کو منسوخ کر دیا گیا۔یہ فیصلہ ،امیت شاہ کے الفاظ میں :آزادی کے بعد ہونے والی غلطی  کی تصحیح ہے”۔ اس فیصلےکےزریعے راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے دیرینہ مطالبے کو پور  ا کر دیا گا۔ اس کے ساتھ ہی امیت شاہ نے دعویٰ کیا کہ نہ  صرف کشمیر بلکہ پاکستانی مقبو ضہ کشمیر ( ا میت شاہ کو الفاظ میں ) اور اکسائی چین بھی ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہیں ۔ سہ اتصالی اکسائی چین ، ایک 60،000 مربع کلومیٹر کا بنجر سطح مرتفع ہے۔ جو انڈیا کی طرف سے شمال مشرقی لداخ اور  چین کی جا نب سے مغربی تبت اور جنوبی زن جیانگ کے درمیان ہے،  برطانوی حکام کی انیسویں صدی کی  کاہلانہ  سرحدی نشان بندی کے نتیجے میں ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ انڈیا کے اس یک طرفہ دعوے پر ماہرین  کے اعتراضات موجود ہیں۔
انڈیا کے اس دعوے کے ننیجے میں چین اور انڈین  فورسزکے درمیان دست بہ دست لڑائی کا سبب بن گیا  جس میںجون 2020  میں  کم از کم 20 ہندوستانی اور  غیر اعلان شدہ تعداد میں کچھ چینی سباہی مارے گئے۔ یہ انڈیا  اور چین کے تعلقات میںسردمہری کا  ایک نیا آغاز تھا جس کے نتیجے میں لداخ – تبت سرحد  پر غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی گئی۔ ایک بین الاقوامی جیو پولیٹیکل  اور مسئلہ کشمیر کے ماہر سمانترا بوس کے مطابق، "چین  مسئلہ کشمیر کو  ایک ناقابل توجہ پس منظر سے نکا ل کر ایک مرکزی  سٹیج تک لےآیا ہے۔ اور  شملہ معاہدے کےحاصلات کو چاہےجزوی طور پر ہی سہی اس نے منسوخ کر دیا ہے۔ ایسا اس لیے ہو ا کہ یہ  مسئلہ اب واضح طور پر علاقائی جیو پولیٹکل لحاظ سے سہ فریقی مسئلہ بن چکا ہے "۔
اتوار، 6 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کیا  مودی کی مذہبی بنیاد پرستی پرمبنی سیاسی حکمت عملی الٹ پڑ رہی ہے ؟شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے