اگر ہم کھیلوں میں بے باک اور تحقیقی انکشافات کے علمبردار کی بات کریں تو ایک ہی نام سامنے آئے گا وہ ہے 77 سالہ انڈریو جننگز، 8 جنوری 2022 کو کھیلوں کی عالمی بدعنوانی سے پردہ اٹھانے والے 25 سالہ دور کا اختتام ہوا۔ جننگز نے کھیلوں کی صحافتی کوریج کے لیے نئے اور اعلیٰ معیارقائم کیے وہ عام صحافیوں سے ہٹ کر ہجوم سے دور اور ریکارڈ یا ا سکور کی بریکنگ نیوز کے بجائے کھوجنے کو ترجیح دیتے۔ ایک کھوجی صحافی جس نے بی بی سی کے پروگرام میں کھیلوں کی بڑی تنظیموں میں بدعنوانی، اور رشوت خوری جیسے انکشافات سے شہرت پائی اور کھیلوں کے بڑے بڑے بتوں کو پاش پاش کر دیا۔ ان سے میری زندگی میں ایک اہم مگر مختصر ملاقات جنریشن فار پیس کیمپ 2009 ابو ظبی میں ہوئی جہاں کھیلوں میں بد عنوانی اور اسکے اثرات پر انکا لیکچر بھی سننے کا موقع ملا۔ میری فری لانسنگ صحافت سے وابستہ 36 سالہ دور میں اگر کھیلوں میں تماشائیوں، کھلاڑیوں سے زیادتیوں میں انکا ساتھ دینے والا ان جیسا کھوجی صحافی میں نے نہیں دیکھا۔ وہ ہوٹل کی لابی میں اردگرد جمع نوجوانوں سے چلتے چلتے ایک ہی جملہ کہہ رہے تھے، یہ کرپٹ اور بدعنوان لوگ قابل احترام نہیں اور انکی کھوج میں لگ جاؤ ورنہ یہ کھیلوں کو تباہ کر دیں گے، آپ لوگ نئی نسل ہیں اورمستقبل میں امن کھیلوں سے وابسطہ ہیں اور یہ کھیلوں کے دہشت گرد ہیں جو آپ کو بد عنوانی اور رشوت آفر کریں گے۔ انکا خاتمہ ضروری ہے۔
8جنوری 2022 کو، 78 سال کی عمر میں، اینڈریو جیننگز مختصر اور اچانک بیماری کے بعد انتقال کر گئے۔ اگر انکی موت اس صدی کے آغاز میں ہوتی تو شاید بہت سے لوگ اور کھیلوں کی بین القوامی تنظیمیں راحت اور سکون کی نیند سو رہے ہوتے لیکن جننگز کے صحافتی انداز نے کھیلوں کی تحقیقی صحافت کو ایک نیا انداز دیا جو انکی میراث بن چکی ہے۔ وہ عالمی کھیلوں میں خاموشی اور سازشوں کی دیواریں توڑنے والے پہلے تفتیشی صحافی تھے اور کھلاڑیوں، کارکنوں اور صحافیوں کی نئی نسلیں آج اس کے ورثے کی تعمیر اور کھیلوں کے سیاست دانوں اور مافیا کا احتساب کرنے میں مصروف ہیں۔ ایک غیر سمجھوتہ کرنے والا اور انتھک تفتیشی رپورٹر، وہ ہمیشہ سڑک پر ایسے دستاویزات اور حقائق کا پیچھا کرتا رہا جو کھیلوں کے کاروبار کے مشکوک پہلو کو بے نقاب کر سکتے تھے، وہ ہمیشہ ہم خیال افراد کے ساتھ تعاون پر یقین رکھتے تھے۔ وہ روایتی میڈیا پنڈتوں اور وکلا کی دلائل اور بے باکی و بے تابی سے سامنا کرتے تھے۔ ہمیشہ جنگی موڈ میں رہتے تھے۔ اینڈریو جیننگز 1990 کی دہائی کے اوائل میں اس دن سے صحافیوں کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک رول ماڈل بن گئے جب انہوں نے بین الاقوامی اولمپک تحریک کے مرکز میں بدعنوانی، لالچ اور بدانتظامی کو بے نقاب کرنا شروع کیا۔
ان کی پہلی گراؤنڈ بریکنگ کھیلوں کی کتاب “دی لارڈز آف دی رِنگز” (1992) کو شائع ہوئی، جو ویو سمسن کے ساتھ مل کر لکھی، جس میں دونوں مصنفین کو ہتک عزت کے الزام میں لوزان میں کینٹن ڈی واؤڈ کی عدالت میں پانچ دن کی معطل قید کی سزا سنائی۔ جبکہ آئی او سی نے اینڈریو جیننگز پر برسوں کے لیے آئی او سی ایونٹس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ وہ اگلی کتاب “دی نیو لارڈز آف دی رِنگز” (1996) کے ساتھ اکیلے گئے، جس نے بین الاقوامی کھیلوں کی فیڈریشنوں اور IOC میں مزید بدعنوان طریقوں کو بے نقاب کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کتابوں کی جوڑی نے کھیل کی صحافتی کوریج کے لیے بالکل نئے اور اعلیٰ معیار قائم کیے اور سالٹ لیک سٹی اسکینڈل کی وجہ سے پیدا ہونے والے عالمی غم و غصے کو ہوا دی۔ جننگز کی ان کاوشوں نے آئی او سی کے اصلاحاتی پروگرام کو جنم دیا جو جیننگز کی اگلی کتاب “دی گریٹ اولمپک سوئنڈل” میں شریک مصنف کلئیر سمبروک کے ساتھ 2000 میں شائع کی جس میں اولمپک کمیٹی کے اچھے اقدامات کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا۔ اسکے بعد جننگز نے اپنی توپوں کا رخ فیفا کی طرف موڑ دیا۔
2001میں، جیننگز، جو اب تک کھیلوں کی دنیا میں تہلکہ خیز شہرت بناچکے تھیاور فیفا کے سرکردہ رہنماؤں کی نظر میں ایک بہت ہی متنازع صحافی تھے، فیفا کی ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی اور صرف ایک سوال پوچھا: ” مسٹر بلاٹر، کیا آپ نے کبھی کوئی رشوت لی؟ سوال کا مقصد فیفا کے صدر بلاٹر کو الیکشن سے روکنے کا نہیں تھا بلکہ فیفا میں ایماندار کارکنوں اور اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ آگے آنے کا اشارہ اور دعوت تھی۔ اور اس کے چھ ہفتے بعد فیفا کے ایک اہلکار نے زیورخ میں آدھی رات کو جننگز سے ایک خفیہ ملاقات کا اہتمام کیا اور پہلے مرحلہ میں فیفا کے بڑوں کے ایسے ہوشربا رابطوں اور دستاویزات کا پہلا ہتھیار فراہم کیا جو فیفا مافیا کی تحقیق کے لئے بہت اہم ثابت ہوا۔ کھیلوں کی تاریخ میں فیفا کی دستاویزات اور ناکارہ آئی ایس ایل مارکیٹنگ کمپنی کے سوئس حکام کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات اور فیفا کی خفیہ دنیا کو بے نقاب کرنے کے لئے جننگز نے اپنی کتاب میں فیفا میں رشوت، ووٹ میں دھاندلی اور ٹکٹوں کی فروخت پراہم انکشافات کر کہ ایک بار پھر تہلکہ مچا دیا۔
‘‘FOUL! The Secret World of FIFA: Bribes, Vote-Rigging and Ticket Scandals’’ (2006).
اس کتاب کے چھپنے کے بعد جننگز کو فیفا کے ایونٹ سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا اور فیفا کی طرف سے متعدد قانونی دھمکیاں دی گئیں لیکن فیفا نے کبھی بھی اس پر مقدمہ نہیں چلایا جو اس کی سچائی کا ثبوت ہے۔ جیننگز نے ہمیشہ فیفا کے اس ردعمل کو اپنے لئے اعزاز اور اپنی ساکھ کی تعریف کے طور پر لیا۔
جننگز نے بی بی سی پر چلنے والی دستاویزی فلموں کے پروگرام “پینوراما” میں اپنی فیفا پر تحقیق پیش کی جس کا اثر بین الاقوامی طور پر ہوا اور امریکی تحقیقی ایجنسیوں نے فٹبال کے شائقین اور ٹیکس کے اداروں کے دباؤ میں جیننگز سے رابطہ کیا اور مدد مانگی اور یوں فیفا میں مجرمانہ تحقیقات کا آغاز ہوا ۔بلآخر فیفا کے صدر سیپ بلاٹر کو ریٹائر ہونا پڑا۔ بی بی سی کے پروگرام پینوراما کی آخری اور پانچویں قسط کی ریکارڈنگ کے دوران اینڈریو کو فالج کا دورا پڑا جس نے انکے کام کرنے کی صلاحیت کو روک دیا۔ یہ قسط انکی 15 سالہ تحقیق پر مبنی تھی جس میں فیفا، بلاٹر اور اپنے متعلق ڈاکومینٹری بنائی جا رہی تھی جسکا نام‘‘FIFA, SEPP BLATTER AND ME’’
1997 میں شروع ہونے والی کھیلوں میں جمہوریت کی تحریک اور اظہار رائے کی آزادی پر ہونے والی ایک منفرد اور بین الاقوامی کانفرنس کا حصہ بنے اور تقریب کے پہلے بین الاقوامی مقرر کے طور تمام ہم خیال لوگوں کو متحد ہونے پر زور دیا اور انہوں نے فوری طور پر ثقافتی اور پیشہ ورانہ طور پر ملے جلے سامعین کو کھیل میں اظہار رائے کی مزید آزادی کا مطالبہ کرنے کے لیے متحد کیا۔ وہ سات صحافتی اصولوں میں سب سے زیادہ “نیٹ ورکنگ” پر زور دیتے تھے۔ انہوں نے دنیا بھر کے متعدد محققین اور تفتیش کاروں کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا خیال تھا کے ان لوگوں کے ساتھ مشورے، معلومات اور رابطوں اور ایک دوسرے سے اشتراکی معلومات اور سخاوت سے فائدہ اٹھایا جائے اور ایک بھروسے کی فضا قائم کی جائے۔ وہ شروع سے ہی سمجھ گئے تھے کہ دنیا بھر میں نیٹ ورک بنانا ایک اسٹریٹجک صحافتی ردعمل ہے اگر آپ کھیلوں کے اعلیٰ رہنماؤں کے ذریعے قائم کردہ بند بین الاقوامی ایک اچھے پیشہ ور صحافی بننا چاہتے ہیں تو جیننگز ایک مشعل راہ ہیں۔
جننگز ہم خیال ساتھیوں پر اعتماد کرتے تھے اور خراب معیارات، کاہلی، سستی اور سوال نہ پوچھنے اور صرف پریس رلیز پر انحصار کو مجرمانہ صحافتی رپورٹنگ اورغفلت گردانتے تھے۔ وہ کھیلوں کے عہدیداروں کے ساتھ تصویر کھینچوانے اور انکی مہمان نوازی قبول کرنے والوں کو تنبیحہ کرتے اور کہتے تھے کہ جن کی رپورٹنگ کرنی ہو ایسی صورت صحافت سے انصاف ممکن نہیں اور وہ اس کو توہین سمجھتے تھے۔
کھیلوں کے اسٹیبلشمنٹ اور اس کے پیروکاروں پر ان کی بے لگام تنقید نے لامحالہ ان کے دشمنوں میں اضافہ کیا۔ درحقیقت، 1997 کے بعد انکے ناقدین انہیں خود کو فروغ دینے والا، مبالغہ آمیز، دھمکانے والا صحافی سمجھتے رہے اور یہ تک کہا گیا کہ انکی موجودگی “کھیل کی ساکھ کے لیے نقصان دہ” ہے۔ جو انہوں نے اپنی تمام زندگی میں سیکھا اسکا لب لباب یہ ہے کہ جب رپورٹرز کا ہجوم ایک سمت میں جاتا ہے – تو مخالف سمت میں جانا ہے ۔ ہجوم سے پرہیز کریں، فوری تبدیلی کی خبریں دینے والے رپورٹرز کے ہجوم سے دور رہیں، اور دور جا کر کچھ سچی کہانیاں کو تلاش کریں جب تک آپ یہ نہ سوچیں کہ آپ کچھ سچائی حاصل کر رہے ہیں جبکہ کچھ آزاد سچائیاں ہمیشہ کڑوی نہیں ہوتیں۔
وہ ہمیشہ نوجوان صحافیوں کو مشورہ دیتے کہ صرف سنی سنائی باتوں پر وقت ضائع نہ کریں بلکہ سچ کے لیے ثبوت اور دستاویزات اکٹھی کریں۔ بہت کم لوگوں نے جننگز کی باتوں پر اعتبار کیا جبکہ بین الاقوامی کھیلوں کے نمائندوں کی اکثریت نے کبھی یہ تسلیم نہ کیا کہ وہ سچا ثابت ہو گا۔ کیونکہ انھیں اپنی صفوں میں بدعنوانی اور اس کے خاتمے کی معلومات دی گئیں تھی۔ وقت کے ساتھ جیننگز کو درست قرار دیا اور ان معلومات پر پولیس اور ایجنسیز نے کھیلوں میں سنگین جرائم کا پتہ چلایا۔ 2010 سے پہلے کھیلوں کی دنیا کا مافیا خاموشی سے گھنائونے جرائم کا ارتکاب کر رہا تھا۔ صحافتی دنیا میں اس عظیم کام کو انڈریو جیننگز جیسے نڈر، بے باک آزاد اور عظیم صحافی جیسے سچے چوکیدار ہی سر انجام دے سکتے ہیں۔
پاکستان میں کھیلوں میں کرپشن، اقربا پروری، کھلاڑیوں کا استحصال عروج پر ہے ہمارے صحافتی چوکیدار نہ صرف کھیلوں کی تنظیموں کے میڈیا ایڈوائیزر اور کچھ بیرونی دوروں کے چکر میں وفاداری نبھا رہے ہیں، اب تو ایک سیلفی مافیا بھی ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ کیا کوئی انڈریو جیننگز کی مشعل روشن کرے گا؟ نڈر، بے باک اور کھوجی صحافت کے علمبردار سر جیننگز کو سلام۔
