English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پارلیمنٹ لاجز میں پولیس آپریشن ، متعدد گرفتار، فضل الرحمٰن کا ملک گیر پہیہ جام کا اعلان

القمر
اسلام آباد: انصار الاسلام کے کارکنان پولیس آپریشن سے قبل جے یو آئی کے اراکین قومی اسمبلی کو سیکورٹی دینے کیلےے پارلیمنٹ لاجز میں موجود ہیں

اسلام آباد/کراچی/لاہور/کوئٹہ /پشاورت( نمائندگان جسارت +اسٹاف رپورٹر +مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد پولیس نے پارلیمنٹ لاجز میں جمعیت علمائے اسلام کے محافظ دستے انصار الاسلام کے کارکنوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کرتے ہوئے2ارکان اسمبلی سمیت متعدد افرادکوگرفتار کرلیا۔انصار الاسلام فورس کے پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہونے کے معاملے پر آئی جی اسلام آباد محمد احسن یونس نے نوٹس لیا اور ڈی چوک پر قائم ناکہ انچارج، پارلیمنٹ لاجز کے انسپکٹر انچارج اور لائن افسر کو معطل کر دیا جبکہ انصارالسالام فورس کے رضا کاروں کی بے دخلی کے لیے ڈی آئی جی آپریشن کی کمانڈ میں کارروائی عمل میں لائی گئی ۔ میڈیا کو پارلیمنٹ لاجز سے نکال دیا گیا جس کے بعد پولیس کی نفری نے صلاح الدین ایوبی کے لاج کا دروازہ توڑ کر گرفتاریاں شروع کیں۔پولیس نے گرفتار افراد کو تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کر دیا ہے، گرفتار ہونے والوں میں جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی، مولانا جمال الدین اور جے یو آئی اسلام آباد کے ترجمان مفتی عبداللہ بھی شامل ہیں۔ انصار الاسلام کے خلاف آپریشن 30 منٹ تک جاری رہا جبکہ اس دوران انصار السلام کے کئی رہنما کپڑے بدل کر لاجز سے نکل گئے۔پولیس آپریشن کے بعد پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کی مزید نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے قبل اپنے ارکان کے لاپتا کیے جانے اور سیکورٹی پر خدشات ظاہر کیے تھے جس کے بعد مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا کہ انصار الاسلام کے کارکن اپوزیشن کے تمام ارکان کو سیکورٹی فراہم کریں گے۔قبل ازیں آئی جی کی سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری اپوزیشن ارکان کی سیکورٹی کے لیے آنے والی جے یو آئی کی انصار الاسلام فورس کو ہٹانے کے لیے پہنچی تو جے یو آئی کے رکن اسمبلی صلاح الدین ایوبی اور پولیس کے درمیان تکرار ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کرگئی۔صلاح الدین ایوبی نے آئی جی سے مخاطب ہوکر کہا کہ یہ ہمارے مہمان ہیں اور قانون کے مطابق یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں، یہ غیر مسلح لوگ ہیں جن سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔اس دوران دھکم پیل ہوئی جس میں ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کا پاؤں زخمی ہوا جبکہ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ بھی زخمی ہوئے۔ بعد ازاں آئی جی نے پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے میڈیا نمائندگان کو باہر نکالنے کی ہدایت کی۔ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے جے یو آئی کے ارکان اسمبلی مولانا صلاح الدین اور مولانا جمال الدین کے کمروں کی تلاشی لی گئی جبکہ اہلکاروں نے دھکم پیل پر کامران مرتضیٰ کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔جمعیت علما ئے اسلام کے ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے ایم این اے کے کمرے سے جمال الدین سمیت 5لوگوں کو گرفتار کیا۔اراکین اسمبلی اور انصار الاسلام فورس کے محافظوں کو گرفتار کر کے لے جانے والی پولیس کی گاڑی کو پیپلزپارٹی کے اراکین قومی اسمبلی نے عمارت کے خارجی دروازے پر روک کر احتجاج کیا، جس پر پولیس گرفتار افراد کو عقبی دروازے سے لے کر روانہ ہوگئی۔نلیگ کے رکن قومی اسمبلی اور سابق اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ شیدا ٹلی کی کوئی بدمعاشی نہیں چلے گی، جب مذاکرات ہورہے تھے تو پولیس کیسے اندر داخل ہوئی، اب ہماری جنگ شروع ہوگئی اور تمام اراکین اسمبلی گرفتاری دیں گے۔آغا رفیع اللہ نے آئی جی اسلام آباد کو مخاطب کر کے کہا کہ آئی جی کا یہاں کیا کام، میری گاڑی کو کیوں روکا اور پولیس یہاں کیسے داخل ہوئی۔ انہوں نے پولیس کو پیچھے دھکیل کر رکاوٹ کو خود ہٹایا۔دریں اثنا مولانا فضل الرحمن خود گرفتاری دینے کے لیے پارلیمنٹ لاجز پہنچ گئے اور تمام کارکنان کو گرفتاری دینے کے لیے پارلیمنٹ لاجز پہنچنے کی ہدایت کی۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں انصار الاسلام فورس کی موجودگی پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے آئی جی اسلام آباد کو فوری طور پر غیر متعلقہ افراد کو لاجز سے باہر نکالنے کی ہدایت کی تھی جس پر پولیس نے ایکشن شروع کیا۔بعد ازاں مولانا فضل الرحمن نے اس واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اپنے کارکنوں کو ملک بھر سے اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جو کارکن اسلام آباد نہ پہنچ سکے وہ اپنے اپنے علاقوں میں سڑکوں کو جام کردیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے دوستوں کے ہمراہ گرفتاری پیش کروں گا، ہر پارٹی ورکر سے کہتا ہوں ہوسکے تو اسلام آباد پہنچے، اپنے اپنے شہروں میں سڑکیں بند کردیں، کاروبار بند کردیں۔فضل الرحمن نے بطور سربراہ پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سے شاہراہیں بند کرنے کی اپیل بھی کی۔ انہوںنے کہا کہ ہمارے رضاکار یہاں رضاکارانہ پہنچے، رضا کاروں کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا جس پر اعتراض کیا جاسکے، پارلیمنٹ لاجز پر حملہ کیا گیا ، دھاوا بولا گیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک کو انارکی کی طرف لے جانے سے پہلے عمران خان اور اسپیکر استعفا دیں، پولیس کے لاجز کے اندر آنے کے رولز ہیں۔ مزید برآں مولانا فضل الرحمن کی اپیل پر کراچی سمیت ملک بھر میں جے یو آئی کے کارکنوں نے احتجاجاً اہم سڑکیں بلاک کردیں جس سے ٹریفک جام ہوگیا۔ کراچی میں سپرہائی وے الآصف اسکوائر کے قریب جے یو آئی کے کارکنان کا احتجاج جاری ہے، احتجاج کے باعث ٹریفک متاثرہ ہوگیا ہے،پولیس کی جانب سے ٹریفک کو متبادل سمت موڑا جا رہا ہے۔سندھ کے شہر سکھر میں جے یو آئی کے کارکنوں نے قومی شاہراہ پنوعاقل پر دھرنا دے دیا، جے یو آئی کارکنان پریس کلب کے سامنے بھی دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔نواب شاہ میں جے یو آئی کے کارکنوں نے سکرنڈ روڈ پر دھرنا دے کر ٹریفک بلاک کردی، جیکب آباد میں بھی کارکنان کا ڈی سی چوک پر دھرناجاری ہے، میرپورخاص میں جے یو آئی کے کارکنان نے ٹول پلازہ پر احتجاج کیا جس سے ٹریفک معطل ہوگیا، ادھر مٹیاری میں بھی جے یو آئی کارکنوں کا قومی شاہراہ پردھرنا جاری ہے جس کے باعث گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ہیں۔اس کے علاوہ سوات میں جے یو آئی کے کارکنوں نے نشاط چوک مینگورہ میں مظاہرہ کیا، ادھر خضدار میں بھی جے یو آئی کے کارکنان قومی شاہراہ پر جمع ہونے لگے، مانسہرہ میں مولانا فضل الرحمن کی اپیل پر ہزارہ ایکسپریس وے پر احتجاج کیا جا رہا ہے،کارکنوں نے اچھڑیاں کے قریب ہزارہ ایکسپریس وے ٹریفک کے لیے بندکردی۔کوئٹہ میں پارٹی کارکنوں نے منان چوک پر احتجاج کیا اور ٹائر جلا کر جناح روڈ بلاک کردی، حب بائی پاس اور اوتھل کے مقام پر بھی جے یو آئی کا احتجاج جاری ہے جس سے کراچی کوئٹہ شاہراہ بند ہوگئی ہے۔ حیدرآباد میں بھی جے یو آئی کی جانب سے قاسم آباد کے قریب قومی شاہراہ پر دھرنا دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے