لاہور: حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق نے دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پنجاب میں تبدیلی کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ق کی جانب سے حکومت میں رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے اپوزیشن اور حکومتی اتحادیوں کے ساتھ طویل مشاورتی عمل ہوا۔ جس کے بعد مسلم لیگ (ق) نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پنجاب میں تبدیلی کے لئے تیار ہیں، تاہم اس حوالے سے 48 گھنٹوں میں فیصلہ کریں گے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزیر اسد عمر اور پرویز خٹک نے مسلم لیگ (ق) کے طارق بشیر چیمہ اور مونس الہی سے مذاکرات کے کئی دور کئے، اور وفاقی وزرا کی کمیٹی نے مسلم لیگ (ق) کو پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے بتایا ہے، لیکن یہ تبدیلی کب ہوگی اس حوالے سے وفاقی کمیٹی نے فوری تاریخ دینے سے انکار کردیا ہے، البتہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ وفاق میں عدم اعتماد کے بعد پنجاب کا فیصلہ ہوگا۔
دوسری جانب ق لیگ کے طارق بشیر چیمہ نے بھی اس حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کمیٹی کے وزرا نے کہا کہ مبارک ہو مبارک ہو۔ جس پر ہم نے کہا کہ کس بات کی مبارک؟، تو حکومتی کمیٹی کے وزرا نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی تبدیلی پر متفق ہوگئے ہیں، اور جب ہم نے پوچھا کہ کب تک ہوگا، تو انہوں ںے جواب دیا کہ وفاق کی عدم اعتماد گزر جائے۔
طارق بشیر چیمہ نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت نے ہمیں بچہ سمجھا ہے، ہم کیسے یقین کرلیں کہ وفاق میں عدم اعتماد کے بعد حکومت اپنے وعدے پر کیا فیصلہ کرتی ہے، اپوزیشن کی جانب سے ہمیں وزیر اعلٰی کی پیشکش ہے، لیکن حکومت کی طرف سے لولی پاپ ہے، وزیر اعظم کو چیزوں کو سنجیدہ لینا چاہیے، انہوں نے اس معاملے پر انڈر 16 ٹیم میدان میں اتاری ہوئی ہے۔
طارق بشیر چیمہ نے مزید کہا کہ ہمیں اگلے 48 گھنٹوں میں فیصلہ کرنا ہے، پارٹی میں حتمی فیصلے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے.
وفاقی وزرا کی ٹیم نے ق لیگ کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے وزیراعظم کو آگاہ کردیا ہے، جس کے بعد حکومت کا ق لیگ سے مزید کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
