English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بی اے پی نے کے پی کی صوبائی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا

القمر

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) نے خیبر پختونخوا (کے پی) کی صوبائی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔

بلوچستان عوام پارٹی کے صوبائی رکن اسمبلی بلاول آفریدی نے ویڈیو بیان میں خبیرپختونخوا کی صوبائی حکومت سے علیحدگی کے فیصلے کا اعلان کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی نے ہم سے کیا ہوا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ہم سے مشاورت نہیں کی جاتی، فنڈز کی تقسیم کے بارے میں بھی ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے 110 ارب روپے میں سے ہمیں کچھ نہیں دیا گیا، کے پی حکومت نے ہمیں کبھی مشاورتی عمل میں شامل نہیں کیا، قبائلی اضلاع سے منتخب ارکان کو بھی فیصلوں میں اعتماد میں نہیں لیا جاتا جو بڑی زیادتی ہے۔

بلاول آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے لوگوں کو 25 ہزار نوکریاں دینے کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا جس کے بعد ہم نے صوبائی حکومت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے، فنڈز پی ٹی آئی ارکان کو دیے جا رہے ہیں اور ہم بی اے پی کی سینئر لیڈرشپ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

بلاول آفریدی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے فنڈز سمیت ہمارے کسی مطالبے کو سنجیدگی سے نہیں سنا۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین کی تعداد 4 ہے اور بلاول آفریدی اپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے، فنڈز پی ٹی آئی ارکان کو دیے جا رہے ہیں، فنڈز کی تقسیم اور ان کا استعمال صرف دو تین لوگوں کے کہنے کے مطابق کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ کے پی اسمبلی میں بی اے پی کے چار قانون ساز ہیں جن میں بلاول آفریدی بھی شامل ہیں، بلاول آفریدی اور دو دیگر ارکان عباس الرحمٰن اور شفیق آفریدی، نئے ضم شدہ اضلاع کے انتخابات کے دوران ایم پی اے کے طور پر منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا تھا اور بعد میں بی اے پی میں شامل ہو گئے تھے۔

بی اے پی کی رکن بصیرت خان خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئی تھیں۔

واضح رہے کہ بی اے پی کی خیبر پختونخوا حکومت سے علیحدگی کی یہ پیشرفت ملک میں اس وقت سامنے آئی ہے جبکہ حکومت اور اپوزیشن وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے اتحادیوں کی حمایت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ اس ہفتے کے شروع میں، وزیراعظم عمران نے 2018 میں اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار پارلیمنٹ لاجز کا دورہ کیا تھا اور پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں – بی اے پی اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس – کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی تھیں۔

اس میٹنگ کے دوران، بی اے پی کے رہنماؤں نے متعدد امور پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور وزیر اعظم سے کہا تھا کہ وہ "تصادم کی سیاست” کا راستہ نہ اپنائیں اور ساتھ ہی ساتھ 27 مارچ کو اپنی پارٹی کا پاور شو نہ کریں۔

بی اے پی کے رہنما خالد مگسی نے ملاقات کے بعد بتایا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم سے اپنے تحفظات اور مسائل پر بات کی ہے۔

خالد مگسی نے کہا تھا کہ ہم نے وزیر اعظم کو اپنے تحفظات اور مسائل پیش کیے ہیں جن کا ہمیں گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران سامنا رہا ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ 27 مارچ کو جلسہ عام میں نہ جائیں کیونکہ اس سے ملک میں خونی سیاست اور افراتفری پھیل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی نے اس اہم وقت میں کبھی بھی بی اے پی کی حمایت نہیں کی جب بلوچستان میں پارٹی دو گروپوں میں تقسیم ہوئی اور نظر انداز صوبے کی ترقی کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

خالد مگسی نے کہا تھا کہ بی اے پی نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت حکمران اتحاد کے ساتھ تین سال سے زیادہ عرصہ گزارا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب ہم اپوزیشن کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ بلوچستان کی بہتری کے لیے کیا آپشن دے گی۔

بی اے پی رہنما نے یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ وہ سیاسی منظر نامے میں گجرات کے چوہدریوں (مسلم لیگ ق کے رہنماؤں) کے رویے کو بھی دیکھ رہے ہیں۔

"خالد مگسی نے مزید کہا تھا کہ ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور ہم جلد ہی اپنا فیصلہ کریں گے کہ آیا حکمران اتحاد پر قائم رہنا ہے یا اسے چھوڑنا ہے۔

منبع: ڈان نیوز

The post بی اے پی نے کے پی کی صوبائی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے