English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ہم کب بدلیں گے؟

القمر

تحریر : محمد امنان

ماحولیاتی آلودگی کے باعث کرہ ارض پہ تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اقوام عالم پریشان ہیں کہ چند سو سال بعد شاید یہ زمین زندگی کے لیے موزوں نہ رہے اس سلسلے میں عالمی ماحولیاتی ادارے تمام ممالک کو خبردار کرتے ہوئے اقدامات کرنے پر زور دے رہے ہیں روئے زمین پر پانی کی کمی اور سخت ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے

ایک ریسرچ کے مطابق تو معاملے کی سنگینی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ آئندہ کچھ سالوں میں زیادہ آبادی والے ریجنز میں شدید قحط دیکھنے میں نظر آ سکتا ہے دوسری جانب معمول سے زیادہ بارشیں بھی حالات کو مزید مشکل بنانے میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں

وطن عزیز میں موسم سرما اختتام پذیر ہونے کو ہے اور گرمی کی آمد سے قبل ہی موسم کا انداز جارحانہ ہے محکمہ موسمیات بھی اس بارے میں خبردار کر چکا ہے کہ رواں سال ایک تو گرمی معمول سے زیادہ ہو گی دوسری جانب مارچ کے آخری ہفتوں میں سورج معمول سے زیادہ چمکے گا شہر اقتدار میں 13 مارچ کے بعد سے موسم یکدم تبدیل ہو گیا ہے سخت گرمی نے شروع کے ایام میں ہی توبہ کرا دی ہے ابھی تو سارا سیزن باقی ہے

موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان نے بلین ٹری سونامی، کلین گرین پنجاب کے نام سے منصوبوں کا آغاز کیا کئی ایک شہروں میں ہزاروں لاکھوں درخت بھی لگائے گئے مگر یہ کارروائی شاید زبانی جمع خرچ اور صرف مشہوری کے لیے ڈالی گئی تھی

ان درختوں کا کیا ہوا؟وہ سب یا تو مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث زندگی شروع نہ کر سکے یا موسم کت سخت مزاج کے باعث جل گئے یا متعلقہ اداروں اور خاص طور پہ ضلعی اداروں کی بے حسی کی نظر ہو گئے منصوبہ بلاشبہ آنے والی نسلوں کے آرام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے میں مددگار ہے مگر کیا کیجئے کہ یہاں تبدیلی والوں نے بھی بس لیبل تبدیل کیا ہے کام انکے بھی گذشتہ حکومتوں سے ہیں

اصل مدعا جو اس ساری صورتحال کے لکھنے کا باعث ہے وہ یہ کہ ملک کے تیسرا بڑے اور صنعتی شہر میں ضلعی انتظامیہ ہی عمران خان کے ویژن کو ناکام کرنے اور شہریوں کی اذیت کا باعث بن رہی ہے آپکا سوال ہو گا کہ وہ کیسے؟ تو جناب شہری آبادیوں میں قائم کارخانے ، فیکٹریاں اور صنعتی یونٹ لالچی اور انسان دشمن تاجروں کی ضد کے باعث ہزاروں لاکھوں نفوس پر مشتمل علاقوں کے بیچ و بیچ پوری آب و تاب سے قائم ہیں

زگ زیگ ٹیکنالوجی کے سرکاری حکمنامے اور جرمانوں نے بھی لالچی تاجروں کا کچھ نہیں بگاڑا تو دوسری جانب ڈپٹی کمشنر اعر کمشنر بھی ان کے سامنے یا تو بے بس ہیں یا پھر انہیں اس سب سے دلچسپی نہیں

اگر کسی کو شک ہو تو طارق آباد نامی علاقے کا ویڈیو ثبوت خدمت میں پیش کر سکتا ہوں یہ علاقہ شہر کے پرانے محلوں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں آبادی بھی بے شمار ہے اسکے باوجود زہر اگلتی فیکٹریوں کی چمنیاں اور یونٹس سے نکلتا کیمیکل زدہ پانی شہریوں کی جان کو آرہا ہے

اس سب میں کہیں نا کہیں تو علاقہ مکین بھی ملوث ہیں کہ خود کے لیے آواز اٹھانا تو درکنار اب اس سب کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ شاید حسیات جواب دے گئی ہیں

ارباب اختیارات اور حکومتی نمائندوں سمیت ہر اس شخص سے گذارش ہے کہ اگر آپ واقعی ماحولیاتی آلودگی سے لڑنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنا کام ایمانداری سے کرنا شروع کیجئے اور بجائے دعووں کے عملی اقدامات کیجئے

فیصل آباد شہر میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی شرح ملک کے تمام شہروں سے زیادہ ہے اسکی وجہ کیمیکل ملا پانی اور آلودگی ہے جن علاقوں میں فیکٹریاں یا ڈائنگ یونٹ قائم ہیں وہاں تو سانس اور جلد کی بیماریوں کے مریض بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں

اب لکھنے لکھانے سے کوئی فرق پڑنے والا تو ہے نہیں لیکن کم از کم اس جانب توجہ دلا کر ہم اپنا کردار نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں باقی اللہ کی امان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے