مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکومت نے مشرقی بیت المقدس کے قصبے بیت صفافا میں غفعات ہمتوس نامی غیر قانونی بستی میں آباد کار وں کے لیے 2500 مکانات پر مشتمل ایک نیا محلہ تعمیر کرنے کے لیے فلسطینیوں کی املاک مسمار کرنا شروع کردیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ کارروائی کے دوران آثارِ قدیمہ بھی دریافت ہوئے ، جن پر اسرائیلی ماہرین نے قبضہ کر لیا ہے۔ قابض اسرائیلی حکام نے غیر منقولہ جائداد کے قانون کا سہارا لیتے ہوئے فلسطینی پناہ گزینوں کی جائداد اور وسیع رقبے پر قبضہ کرنا شروع کر رکھا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس کی عرب اسٹڈیز سوسائٹی کے ترجمان خلیل طفکجی نے بیت صفافا میں آباد کاری کے نئے منصوبے کو قابض حکومت کی بڑی کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آباد کاروں کی جانب سے حالیہ کارروائی کے بعد یہ مقبوضہ علاقہ دوسری بستیوں میں شامل ہو جائے گا ، جو بیت صفا فاکو پہلے ہی گھیرے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے منصوبے کے تحت بیت المقدس میں فلسطینی محلوں کے اندر آباد کاروں کے لیے مزید سڑکیں اور چوکیاں تعمیر کی منظوری ملنے کا بھی امکان ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ یہ منصوبہ ان 5 بڑے منصوبوں کا حصہ ہے ، جن کی منظوری رواں سال کے آغاز میں دی گئی تھی۔ صہیونی ریاست کی جانب سے منظور کیے گئے آبادکاری سے متعلق منصوبوں کے تحت مقبوضہ بیت المقدس میں 3ہزار 557 محلوں کی تعمیر کی جائے گی،جب کہ سڑکیں اور فوجی چوکیاں بنائی جائیں گی۔
The post بیت المقدس میں 2500مکانات کی تعمیر کے لیے فلسطینیوں کی املاک مسمار appeared first on Daily Jasarat News.
