English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکہ کی چین سے تجارتی جنگ سے افراط زر ختم نہیں ہوسکتی: شفقنا بین الاقوامی

القمر
پس منظر
صدر ٹرمپ  نے 2018 کے آغاز میں سولر پینل ، واشنگ مشینز، الیومینیم اور سٹیل پر محصول عائد کر کے تجارتی جنگ شروع کی ۔ اگرچہ محصول صرف چینی مصنوعات پر ہی عائد نہیں  کیا گیا، بلکہ اس کی بڑی وجہ ٹرمپ کا یہ پختہ  یقین تھا کہ امریکی معیشت کو چین کے بد دیانتی پر مبنی کاروباری سرگرمیوں سے نقصان ہو رہا ہے، جس میں کرنسی کی قدر میں ردوبدل ، انٹلکچوئل پراپرٹی حقوق کی چوری، ٹیکنالوجی کی جبری منتقلی اور سبسڈی والےکم قیمت سامان کی امریکی مارکیٹ میں  ڈمپنگ شامل ہیں۔اس کےبارے میں بہت سے لوگوں کا  خیا ل تھاکہ اس طرح یہ تجارتی جنگ، امریکی فرموں کی جانب سےمصنوعات کی تیاری کا کام واپس امریکہ میں لے آنےاور چین کے ساتھ روز افزوں تجارتی خسارے کو کم کرتے ہوئے  امریکی معیشت کو مضبوط کرے گی۔
اس کے جواب میں چین نے امریکی سامان پر محصول لگا دیا  اور اس اینٹ کے جواب پتھر جیسی مثال کے مزیدپانچ ادوار، اور کئی مصنوعات پر محصولات میں اضافے لگا کر دہرائے  گئے ۔ دونوں ملکوں نے جنوری 2020 میں اس کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے پر اتفاق کرلیا جب چین نے وعدہ کیا کہ بعض مصنوعات پرمحصول کی کمی کے بدلے وہ مزید سامان  اور  خدمات امریکہ سے خریدے گا۔
جب 2021 کو ٹرمپ رخصت ہوا تو  محصول کی اوسط ہر ایک پر 20.7 فی صدتھی اور یہ 66.4فی صد چینی درآمدات کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔ صدر بائیڈن نے ایسا  کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ تجارتی جنگ کسی بھی وقت ختم کرنے کا ارادہ  رکھتا  ہے۔
تجارتی جنگ کئی لحاظ سے ناکامی سےدوچارہوئی۔ ابتدا میں اس نے امریکی سٹیل اور ایلومینیم کے شعبے میں کچھ نوکریاں پیدا کیں۔ بہرحال ، اس کے  لیے صارفین کو ، سٹیل انڈسٹری کی ہر نوکری  کے لیے جو پیدا کی گئی یا  بچائی  گئی کی خاطر تقریبا”سالانہ 900،000 ڈالر ادا کرنے پڑے  اوریہ ایک اوسط سٹیل ورکر کی تنخواہ کا  13 گنا بنتا ہے۔ ( یعنی چین کی سستی سٹیل سے امریکی ملکی سٹیل کی پیداوار   اس قدر مہنگی پڑی)-اور پھر کرونا وبا کے دوران  یہ ملازمتیں بھی غائب ہو گئیں۔ باقی ماندہ دنیا کی  سٹیل کی زائد  پیداواری صلاحیت یو –ایس کی سٹیل انڈسٹری کی پیداواری صلاحیت سے  چھ گنا زیادہ  ہے ۔ لہٰذا محصولات کے زریعے انڈسٹری میں  دوبارہ جان ڈالنے کی جنگ ہمیشہ مشکل ثابت ہوئی۔
ٹیرف ، امریکہ کے تجارتی خسارے کو بہتر  بنانے میں بھی ناکام ثابت ہوا ہے،  جس   میں 2021 میں آٹھ سو انسٹھ اعشاریہ  ایک ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ ہو ا ہے۔ چین کے ساتھ ہمارا تجارتی خسارہ چودہ اعشاریہ پانچ فی صد اضافے کےساتھ تین سو پچپن ارب ڈالر تک بڑھ گیا ہے۔ یہ چینی سامان پر ہمارے بڑھتے ہوئے انحصار  کی بھی  عکاسی کرتا ہے اور اس بات کو ثبوت ہے کہ چین اپنے 2020 کے وعدے کا پاس کرنے میں ناکا م ہوا ہے جس کی رو سے اسے 2017  کی سطح کےمقابلے میں 200 ڈالر کے اضافی امریکی سامان کو خریدنا تھا۔۔
تجارتی جنگ نے امریکی صارفین کو بھی نقصان پہنچایا ۔ ماہرین معاشیات ، زیادہ تر معاملات میں   یہ سمجھتے ہیں کہ بڑی اقوام کی جانب سے عائد کیا گیا محصول قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتاہے –وہ فرمیں جو محصول لگانےوالے ملکوں کو سامان بھیجنے کی خواہش  رکھتی ہیں اپنی قیمتوں میں کمی کردیتی  ہیں اور اس  بوجھ میں وہ صارفین کو حصے دار بناتی ہیں۔محصولات کو صارفین کی جانب منتقل کر دیا جاتا ہے اور حقیقی اوسط آمدن کسی حد تک چین اور امریکہ دونوں میں کم ہو جاتی ہے۔
تمام  ترحاصلات کےساتھ ، تجارتی جنگ کا افراط زر میں کردار محدود ہے
گزشتہ سال افراط زر میں سات اعشاریہ پانچ فی صد اضافہ ہوا ہے : چالیس سالوں میں یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔ تجارتی جنگ کی خامیاں اسے افراط زر کےلیے ایک آسان قربانی کا بکرا بناتی ہیں۔ لیکن  ٹیرف افراط زر کا  بڑا محرک نہیں ہیں  اور  انہیں منسوخ کرنے سے افراط زر میں سستی آنے کا بہت کم امکان ہے۔
افراط زر میں تیزی مارچ ، 2021 میں آئی تھی یعنی تجارتی جنگ شروع  ہونے کے تین سال بعد۔ یہ وقفہ ہمیں دکھاتا  ہے کہ  افراط زر کے لیے ٹیرف کو مورد الزام ٹھہرانا  کیسے اصل نقطے کو فراموش کر دینے کے مترادف ہے۔ محصول شدہ سامان  جیسا  کہ سولر پینل اور ہاٹ رولڈ  بینڈ سٹیل ہیں کی قیمتیں   2019 میں گر گئی تھیں  اور  یہ اس  سے پہلے ہوا جب وبا نے افراط زر کے بڑھنے کے حالات پیدا کر دیے تھے۔
بہر حال وہ لوگ جو تجارتی جنگ کو قیمتیں بڑھنے کا سبب قرار دیتے ہیں مکمل غلط بھی نہیں ہیں۔ یو –ایس کی ٹیر ف اور کسٹم ڈیوٹیز 2016 کے آخری تین مہینوں ، اور 2021 کے چھٹے سے نویں مہینے کے درمیان انچاس اعشاریہ سات ارب ڈالر کی بڑھوتری کے ساتھ پچاسی اعشاریہ سات ارب ڈالر تک پہنچ گئیں تھیں۔ یہ اضافہ امریکی صارفین کےزاتی اخراجات پر خرچ ہونے والے سولہ  کھرب ڈالرز کے صفر اعشاریہ تین فی صد کی  نمائندگی کرتا ہے۔ محصولات کی منسوخی ، کم سے کم  کنزیومر پرائس میں یک وقتی   کمی مہیا کر دے گی۔ لیکن  بالٹی کے اندر یہ محاوراتی کمی افراط زر کی بڑھتی لہر کو روکنے میں بہت کم کردار ادا کرے گی۔
نتیجہ
اگر ٹیرف افراط زر کا  بنیادی محرک ہے تو یہ ایک سادہ سی مشکل ہے۔ لیکن ا فراط زر ہر چیز کی قیمت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے  نہ کہ صرف اس سامان کا جس پر محصول وصول کی جاتا ہے۔ ٹیرف کو منسوخ کر دینے سے بہت تھوڑا سا ریلیف  ملے گالیکن اس کا خوراک ، ہاؤسنگ اور  ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کم کرنے سے کوئی تعلق نہیں  ہو گا۔ ان اشیا کی قیمتیں امریکیوں کی روزمرہ کی زندگی پر ، تجارتی جنگ کے محصول زدہ سامان کی نسبت زیادہ اثر ڈالتی ہیں۔
ہفتہ، 19 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur. Shafaqna.com

The post امریکہ کی چین سے تجارتی جنگ سے افراط زر ختم نہیں ہوسکتی: شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے