درگئی ( آن لائن +صباح نیوز+وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ضمیر بیج کر حکومت بچانے پر لعنت بھیجتا ہوں، عوام کا پیسا دے کر حکومت بچانی ہے تو اس سے بہتر ہے حکومت چلی جائے۔ ملاکنڈ کے علاقے درگئی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈاکو اور چور پیسوں کے ذریعے ہماری ایم این ایز کو خریدنے کی کوشش کررہے ہیں، عوام، عدلیہ اور الیکشن کمیشن سب کے سامنے یہ سب کچھ ہورہا ہے، اپنی قوم سے کہتا ہوں کہ ابفیصلہ کن وقت آگیا،آپ کہاں کھڑے ہیں؟وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس اس وقت دو راستے ہیں کہ چوروں اور ڈاکوؤں کا ساتھ دیں یا ان کی طرف جائیں جو 25 سال سے کرپشن کے خلاف بات کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لوٹے اور ضمیر فروش میں فرق ہے، ایک لوٹا ہے جو کسی اور طرف چلا جائے جب کہ دوسرا وہ ہے جو پیسوں کی خاطر اپنا ضمیر اور دین فروخت کردے، جو ایم این ایز غلطی کر بیٹھے واپس آجائیں، معاف کردوں گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب سندھ ہاؤس میں نوٹوں کی بوریاں لائی جائیں اور برائی سب کے سامنے آجائے تو اللہ کا حکم ہے کہ برائی کے خلاف اور اچھائی کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ، یہ نہیں کہا کہ نیوٹرل رہو، 3غلاموں نے باہرکے لوگوں کے پاؤں پکڑکر سازش کی، تینوں غلام میری بات سن لو ، تم میچ بری طرح ہارنے والے ہو ، 1992 ء کا ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے آسٹریلیا جانے سے قبل میں کہتا تھا کہ ورلڈ کپ ہم جیتیں گے، میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ میچ بھی ہم جیتیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ والوں تم نے آصف زرداری کو 2 بار جیل میں ڈالا، ن لیگ والوں تم نے اپنے دور میں آصف زرداری پر کرپشن کے کیس بنائے، شہباز شریف نے پیٹ پھاڑ کر زرداری کا پیسا نکالنا تھا وہ چوری کا تھا ناں!عمران خان نے کہا کہ یہ تینوں ملک سے وہ کرنے جارہے ہیں جو دشمن بھی نہیں کرتا، آپ جتنا کہیں ضمیر جاگ گیا ،لوگوں نہیں مانیں گے، چھانگا مانگا کے دن چلے گئے ہیں، یہ وہ پاکستان ہے جس کے عوام میں شعور آچکا ہے،مجھ سے کہا گیا کہ ایم این ایز کو خرید کر واپس لے آئیں، میں نے کہا مجھے آخرت کی فکر ہے، منحرف ارکان سے کہہ رہا ہوں کہ اپنے بچوں کی خاطر یہ غلطی نہ کرنا۔عمران خان نے کہا کہ یہ اس ملک کی اخلاقیات تباہ کرنے جارہے ہیں، جب قوم کی اخلاقیات ختم ہوتی ہے تو قوم محنت کرنا چھوڑ دیتی ہے، پارٹی کا سربراہ باپ کی طرح ہوتا ہے میں آپ کی بھلائی کی بات کر رہا ہوں، آج کل سوشل میڈیا بہت مضبوط ہے، آپ کا شادیوں میں جانا مشکل ہوجائے گا، آپ کے بچوں سے لوگ شادیاں نہیں کریں گے، ہمارا کوئی بھی اہم این اے چوروں کو ووٹ دے گا اس کا مطلب آپ نے پیسے لیے، لوگوں کے خریدنے کے لیے یہ سندھ کی حکومت کا پیسا استعمال کر رہے ہیں، جس نے ووٹ بیچا اس کے ساتھ ضمیر فروش لگ جائے گا، نہ میں کسی کے سامنے جھکا نہ قوم کو جھکنے دوں گا۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ کسی سفیر کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے ملک کی خارجہ پالیسی پر بات کرے، یورپی یونین کے سفیروں نے پروٹوکول کے خلاف بات کی اور مطالبہ کیا کہ روس کے خلاف بیان دیں، میں نے ان سے صحیح پوچھا کہ کیا آپ نے بھارت سے یہی مطالبہ کیا؟ ان کی جان جاتی ہے بھارت سے ایسا کہتے ہوئے، بھارت نے ہمیشہ آزاد خارجہ پالیسی رکھی، امریکی پابندیوں کے باوجود روس سے تیل منگوا رہا ہے، ہم کوئی ان کے غلام ہیں کہ ہمیں کہاجائے کہ کسی کے خلاف بیان دیں! میں نے یورپ کو کہا تھا کہ امن میں آپ کے ساتھ ہوں جنگ میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اوپرگئیں ،ہم نے 10 روپے فی لیٹرکم کی، ہمارا پیٹرول آج دبئی سے سستا ہے ، 5روپے فی یونٹ بجلی سستی کی، 10 روپے پیٹرول اور فضل الرحمن کو کم کیا، کسی حکومت نے وہ کام نہیں کیے جو ہم نے کیے۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم نے سعودی اخبار میں لکھا ہے کہ اسلامی ممالک غیرملکی مداخلت کو روک کر علاقائی سالمیت کا تحفظ کرنا ہوگا، اسلامی ممالک کو نئی حقیقتوں کے ساتھ انفرادی اور اجتماعی مفادات کو پورا کرنا ہوگا، اسلامی ممالک کو اپنے اصولوں پر قائم رہنا ہوگا، اسلامی ممالک کو بڑی طاقتوں کی دشمنیوں میں شریک ہونے سے بچنا ہوگا۔ عمران خان کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کا مطلب اتحاد، انصاف اور ترقی ہے۔
