English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مغرب اور مشرق کے درمیان کشیدگی سے عالمی امن کو خطرہ ہے، وزیر خارجہ

القمر

اسلام آباد : وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا، مغرب اور مشرق کے درمیان کشیدگی سے عالمی امن کو خطرہ ہے،یمن سے لیکر شام تک مسلم ممالک کو تنازعات کا سامنا ہے ، جس سے دنیا کو اس وقت ہنگامہ خیز صورتحال کا سامنا ہے ، فلسطین کے عوام کو ان کا حق نہیں دیاجارہا ہے،مسلمان ممالک میں بیرونی مداخلت جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اوآئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس سے خطاب میں پاکستان میں تمام وزرائے خارجہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا اوآئی سی دنیا بھر میں 2بلین مسلمانوں کی نمائندگی کرتاہے، بطوررکن پاکستان مسلم ممالک کےدرمیان رواداری کو فروغ دےرہے ہیں ،اوآئی سی مسلم امہ کی مشترکہ آواز ہے، یہ مسلم ممالک کےدرمیان اتحاد اور یکجہتی کیلئے کام کررہی ہے،پاکستان اوآئی سی کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مغرب اور مشرق کے درمیان کشیدگی سے عالمی امن کو خطرہ ہے، یمن سے لیکر شام تک مسلم ممالک کو تنازعات کا سامنا ہے ، جس سے دنیا کو اس وقت ہنگامہ خیز صورتحال کا سامنا ہے ، فلسطین کے عوام کو ان کا حق نہیں دیاجارہا ہے،مسلمان ممالک میں بیرونی مداخلت جاری ہے۔

وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ تنازعات کے باعث ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے ، مقبوضہ کشمیر میں کشمیری حق خود ارادیت کی جنگ لڑرہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں خونریزی جاری ہے، آرایس ایس نظریے سے متاثر بھارتی حکومت کشمیریوں پر مظالم کررہی ہے،9 لاکھ بھارتی فوجی کئی دہائیوں سے کشمیر میں مظالم ڈھا رہے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کی طرح کشمیر میں آبادی کا تنازسب بدلنے کی کوشش ہورہی ہے، پاکستان اور بھارت کےدرمیان مسئلہ کشمیر واحد تنازع ہے، بھارت میں ہندوتوا سوچ کے باعث مسلمان بھی مشکلات کا شکار ہیں ،ہندو توا کنٹرول کے تحت بھارت کے مسلمانوں کو خطرہ ہے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا اسلاموفوبیا کے واقعات سے دنیا بھر کےمسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے ، اوآئی سی سے اسلاموفوبیا کے خاتمے میں مؤثر حکمت عملی وضع کی جاسکے گی، اوآئی سی سے مطالبہ ہے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کیلئے فریم ورک تیار کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں کرپشن، اثاثوں کی غیرقانونی منتقلی اہم مسئلہ ہے ، مسلم ممالک میں معاشی ناانصافی کے باعث لوگ مشکلات سے دوچار ہیں، مالیاتی بحران سے نمٹنے کیلئے مسلم ممالک میں مضبوط تعلقات کااہم کردار ہوسکتا ہے، پسماندگی ،غربت اور کرپشن معاشرے کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے خطاب میں کہا افغانستان کی صورتحال سے متعلق توجہ دلانا چاہتا ہوں، افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنا ہماری اولین ترجیح ہے ، افغانستان میں ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروپوں سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی کی ضرورت ہے اورافغانستان میں امن ، بحالی اور ترقی مغرب کیلئے بھی سود مند ہےافغانستان کی معیشت کی بہتری کے لیے اقدام کرنا ہو گاافغان حکومت کو داعش،ٹی ٹی پی اور دیگردہشت گرد گروپس کے لیے اقدام کرنا ہو ں گے افغانستان کے لیے ہم نے نمایندہ خصوصی مقرر کیا ۔

وزیرخارجہ نےکہا کہ یو این نے ہماری آواز پر 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کا دن مقرر کیا اسلاموفوبیا کیخلاف 15مارچ کا دن منانے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اسلاموفوبیا کیخلاف قرارداد کی منظوری کیلئے اہم کردار ادا کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی سطح پر مہنگائی بڑھنےسے تمام ممالک پر اثر پڑا ، موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہیں، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔

انھوں نے بتایا کہ مسلم ممالک مہاجرین کی سب سے زیادہ میزبانی کررہا ہے ، دنیا میں دوتہائی مہاجرین کا تعلق 5مسلمان ملکوں سے ہے۔

 شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اوآئی سی سے مطالبہ ہے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کیلئے فریم ورک تیار کیا جائے ، اوآئی سی سے اسلاموفوبیا کے خاتمے میں مؤثر حکمت عملی وضع کی جاسکے گی، اوآئی سی مسلم امہ کی مشترکہ آواز ہے، یہ مسلم ممالک کےدرمیان اتحاد اور یکجہتی کیلئے کام کررہی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے