اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ کشمیر اور فلسطین پر مسلم ممالک ناکام ہوگئے، ہم اختلافات کا شکاراورتقسیم ہیں، حالانکہ ہم 1.5 ارب آبادی ہیں لیکن ہماری آواز کوئی نہیں سنتا، فلسطینیوں اور کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دیا گیا، کشمیریوں سے بنیادی حقوق چھین لیے گئے، غاصبانہ قبضہ ہوا لیکن مسلم دنیا خاموش رہی، دن دھاڑے فلسطینیوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی حقیقی کام نہیں ہو رہا ہے، کشمیریوں کا تشخص اور جغرافیائی ہیئت سب تبدیل کیا جارہا ہے لیکن اس پر کوئی بات نہیں ہو رہی، اگر ہم مسلم ممالک متحد ہو کر متفقہ موقف اختیار نہیں کریں گے تو کوئی ہمیں اہمیت نہیں دے گا، کوئی نہیں پوچھے گا، بنیادی ایشوز پر اوآئی سی کو متحدہ فرنٹ بناناہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کواسلام آباد میں او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے48ویں اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کسی بلاک میں جانے اور جنگ کا حصہ بننے کے بجائے متحد رہ کر امن میں شراکت دار بنیں، افغانستان کو ہر ممکن انداز میں مستحکم بنانا ہوگا اور افغان عوام کی مدد کرنا ہوگی، افغان سرزمین سے عالمی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا، مستحکم افغان حکومت ہی افغانستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتی ہے ، افغان فخر کرنے والے، اپنی آزادی اور خودمختاری کا ہر ممکن تحفظ کرنے والے لوگ ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ ہم چین اور مسلم دنیا بلاک کی حیثیت سے کیسے یوکرین، روس تنازع ختم کرا سکتے ہیں تاہم ہمیں تنازعات کا نہیں، امن کا حصہ دار بننا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کوعلم ہونا چاہیے کہ اسلام امن پسند مذہب ہے،اسلام کا دہشت گردی اورانتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں،دنیا کے ہر کونے میں مسلمانوں کو اسلاموفوبیا کے واقعات کا سامنا ہے، انتہا پسند سوچ کسی کی بھی ہوسکتی ہے مگراس کو اسلام سے کیوں جوڑا گیا؟نیوزی لینڈ میں مسجد میں بے گناہ لوگوں کومارا گیا،دنیااسلاموفوبیا کے واقعات پر خاموش رہی، مذہب کو دہشت گردی سے جوڑا گیا جو غلط تھا، نائن الیون کے بعد اسلامو فوبیا میں اضافہ ہوا، اقوام متحدہ نے 15مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دیا جس پر خوش ہوں۔ وزیر اعظم کے مطابق مسلم ممالک میں اقلیتیں قانون کے تحت مساوی شہری ہیں اور حکمران بھی قابل سزا ہیں، یورپ جا کر دیکھتا ہوں تو وہ کمال کی فلاحی ریاستیں ہیں، مغربی ممالک کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ وہاں فلاحی ریاست کا جو تصور موجود ہے وہ مسلم ممالک میں کہیں نہیں نظر آتا، افسوس ہے مسلمان خود مدینہ کی ریاست کے ماڈل سے آگاہ نہیں ہیں۔عمران خان کے بقول سربراہان مملکت اپنے آپ کو ماڈریٹ مسلمان کہلا رہے ہیں، جب آپ خودکو ماڈریٹ مسلمان کہلاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اسلام میں کہیں مسئلہ موجود ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلام سب کے لیے ایک ہی ہے، ہرمعاشرے میں جدت، انتہا پسندی، ہر طرح کے اثرات موجود ہوتے ہیں، جب تک آپ اپنی غلطیوں کا احساس نہیں کرتے آپ بہتر نہیں ہو سکتے، اسلام روشن خیال، شدت پسند، جدت پسند، انتہا پسند اسلام نہیں بلکہ صرف ایک اسلام ہے، جو محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اسلام ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ موبائل فون پر موجود جنسی مواد نسلیں تباہ کر رہا ہے، اس سے جنسی جرائم میں اضافہ ہورہا ہے ، طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، سوشل میڈیا انقلاب کے نقصانات تیزی سے معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے او آئی سی سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ نے کہا کہ مسلم امہ کے مفادات کا دفاع کرتا رہوں گا،کو درپیش متعدد چیلنجوں پر مشترکہ کوششوں سے قابو پایا جا سکتا ہے، یمن تنازع سے وہاں کے عوام بری طرح متاثر ہورہے ہیں، یمن میں خون ریزی کو فوری بند ہونا چاہیے اور مسئلے کا پْرامن اور پائیدار حل ضروری ہے۔ان کا کہنا تھاکہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت دی جائے، بھارت کا5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اقدام عالمی قوانین کے منافی ہے، او آئی سی یو این قراردادوں کے مطابق کشمیر تنازع کے حل پر زور دیتی ہے۔او آئی سی سیکرٹری جنرل نے کہاکہ فلسطین کے عوام کی نسل کشی کے اقدام اور حوثی باغیوں کی طرف شہری آبادی پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، افغان امن کے لیے عالمی برادری سے رابطے میں ہیں، افغان حکام اور عالمی پارٹنرز کے ساتھ مل کر افغان امن کی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور روہنگیا مسلمان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔حسین ابراہیم طحہ نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی میں ملوث ہے، ان کی زمینوں پر قبضہ اور مظالم کر رہا ہے، مسئلہ کشمیر طویل عرصہ سے حل سے محروم ہے، مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے زیر قبضہ علاقے متنازع ہیں، کشمیر کا حل کشمیری عوام کی مرضی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ایک استصواب رائے میں ہے۔اجلاس سے خطاب میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیرکے منصفانہ حل کے لیے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا چاہیے، عالمی قرار دادوں کے مطابق فلسطین کے مسئلے کا پْرامن حل چاہتے ہیں۔چینی وزیرخارجہ وانگ ژی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین عالمی سطح پر امن کا خواہاں ہے،چین اقوام متحدہ میں اسلامی دنیا کی حمایت نہیں بھول سکتا، فلسطینی مسلمانوں کے لیے چین کی حمایت ہمیشہ غیر متزلزل رہی،54مسلم ممالک نے ایک سڑک ایک راستہ منصوبے پر دستخط کیے، چین مسلم دنیا میں 600 منصوبوں پر 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، تہذیبوں کے مابین مذاکرات اور تصادم سے بچنے کے لیے آگے بڑھنا ہو گا۔وانگ ژی نے کہا چین اسلامی دنیا کے ساتھ مربوط تعاون کے لیے تیار ہے، علاقائی سلامتی و استحکام اور ترقی کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہیں، افغانستان میں امن، ترقی اور تعمیر نو کی ہر ممکن مدد اور تعاون کے لیے ساتھ ہیں،چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم اجلاس میں خصوصی دعوت دینے پر پاکستان کا شکرگزار ہوں۔انہوںنے مزید کہا کہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات چین کی روایات کی بنیاد ہے،تاریخ نے ثابت کیا چین مسلم دنیا کا انتہائی مخلص دوست ہے۔ قبل ازیں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے 48ویں اجلاس کے آغاز پر پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیاجس کے احترام میں ہال میں موجود تمام مندوبین اپنی نشستوں پر سے کھڑے ہوگئے۔ نائیجرکے وزیرخارجہ نے اوآئی سی وزرائے خارجہ کونسل کی چیئرمین شپ ایک سال کے لیے پاکستان کوسونپ دی۔ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں فلسطین اور کشمیر میں مظالم کی مذمت کی گئی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ او آئی سی اجلاس میں 57مسلم ممالک کے کے وزرائے خارجہ اور مبصر ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ڑی بطور خصوصی مہمان اجلاس میں شریک ہیں۔ او آئی سی غیر رکن ممالک ، اقوام متحدہ ، عرب لیگ اور گلف کوآپریشن کے سینئر نمائندگان بھی کانفرنس میں شریک ہیں۔ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی تھیم اتحاد ، انصاف اور ترقی ہے۔ اجلاس میں کشمیر، فلسطین اور اسلامو فوبیا سمیت 140 قراردادیں پیش کی جائیں گے جب کہ دہشت گردی اور تنازعات کا حل ایجنڈے میں سرفہرست ہیں۔اجلاس سے قازقستان ،نائیجریا ، مراکش، نائیجر اوردیگر ممالک کے وزرائے خارجہ اور نائب وزیراعظم نے بھی خطاب کیا۔وزرائے خارجہ اجلاس کے معزز مہمان 23 مارچ کی یوم پاکستان کی پریڈ میں بھی شرکت کریں گے۔او آئی سی اقوام متحدہ کے بعد دْنیا کی دوسری بڑی عالمی تنظیم ہے اور دنیا بھر کے 57 مسلم ممالک اس کے رکن ہیں۔ او آئی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے ہر سال اجلاس ہوتا ہے۔ پاکستان ،سعودی عرب، ترکی، افغانستان ، ایران ، انڈونیشیا ،ملائشیا،اردن، کویت ، لبنان ، لیبیا، الجزائر،چاڈ، مصر، یمن، سوڈان ،صومالیہ،فلسطین ،مراکش اور نائیجیریا بنیادی ارکان ہیں۔اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے 47 اجلاس منعقد ہوچکے ہیں اور پاکستان اس سے پہلے 1970ء، 1980ء، 1993ء اور 2007ء میں 4 بار او آئی سی اجلاسوں کی میزبانی کر چکا ہے۔
