English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا معاملہ: جسٹس فائز عیسیٰ نے سماعت کیلئے تشکیل بینچ پر تحفظات کا اظہار کردیا

القمر

اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسی نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرینس کی سماعت کیلئے تشکیل دیے گئے بینچ پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کو خط لکھ کر بینچ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھا دیے۔ جسٹس عیسی کا کہنا ہے کہ صدارتی ریفرنس پر پوری قوم کی نظریں ہیں، اتنے اہم کیس کیلئے بینچ کی تشکیل سے پہلے کسی سینئر جج سے مشاورت نہیں کی گئی، جبکہ بینچ میں سینئر ججوں کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بینچ کی تشکیل سے پہلے رولز کو فالو نہیں کیا گیا، بینچ میں سینیارٹی پر چوتھے، 8 ویں اور 13 ویں نمبر پر شامل ججوں کو شامل کیا گیا، حالانکہ جہاں اہم قانونی اور آئینی سوالات ہوں وہاں سینئر ججوں کو بینچ  میں شامل ہونا چاہیے۔

جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دیا، سپریم کورٹ بار کی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ نہیں سنا جا سکتا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں سول سرونٹ کی بطور رجسٹرار سپریم کورٹ تقرری پر بھی اعتراض اٹھایا ہے، انہوں نے کہا کہ میری رائے میں رجسٹرار کی تقرری خلاف آئین ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے