English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد پیش،اجلاس جمعرات تک ملتوی

اسلام آباد: وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کیلیے بلائے گئے قومی اسمبلی اجلاس کے موقع پر شہباز شریف اور بلاول زرداری خوشگوار موڈ میں دکھائی دے رہے ہیں
اسلام آباد: وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کیلیے بلائے گئے قومی اسمبلی اجلاس کے موقع پر شہباز شریف اور بلاول زرداری خوشگوار موڈ میں دکھائی دے رہے ہیں

اسلام آباد( نمائندہ جسارت) اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش کردی ۔قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت ایک گھنٹہ تاخیر سے سہ پہر 4 بچے شروع ہوا جس میں ڈپٹی اسپیکر نے وقفہ سوالات کو معطل کردیا۔اپوزیشن کے زیادہ تر اراکین مقررہ وقت پر اسمبلی ہال پہنچ چکے تھے۔ دوسری جانب حکومتی بینچز پرآخری وقت تک اکا دکا اراکین ہی نظر آئے۔اجلاس شروع ہونے سے چند منٹ قبل تحریک انصاف کے ارکان ہال پہنچے مگر ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔اجلاس میں اتحادی جماعتوں ق لیگ ،ایم کیوایم اور پی ٹی آئی کے منحرف اراکین میں سے کوئی موجود نہیں تھا۔ جنوبی وزیرستان سے رکن اسمبلی علی وزیر کے پروڈکشن آڈر جاری نہ ہونے پر ان کی نشست پر احتجاجی طور پر ان کی تصویر رکھی گئی۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری اکھٹے اجلاس میں پہنچے جبکہ آصف علی زرداری بعد میں اجلاس میں آئے ،شازین بگٹی بھی اپوزیشن کے ساتھ ایوان میں موجود رہے اور اپوزیشن نے ان کی آمد پر ان کا خیر مقدم کیا۔ اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے 2 بل پیش کیے جس پر اپوزیشن نے احتجاج بھی کیا تاہم ڈپٹی اسپیکر نے فوری طور پر اگلا ایجنڈا آئٹم جو کہ تحریک عدم اعتماد تھا، پیش کرنے کی اجازت دی۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو وزارت عظمی سے ہٹانے کے لیے تحریک پیش کی۔قواعد کے مطابق تحریک پیش ہونے کے بعد اس کی منظوری کے لیے گنتی کی گئی۔ حزب اختلاف کے بینچز پر اراکین کھڑے ہوئے اور اس دوران حکومتی اراکین نے شدید نعرے بازی کی۔ ڈپٹی اسپیکر اسمبلی ہال میں خاموش رہنے کا کہتے رہے تاہم نعروں کا سلسلہ جاری رہا۔ گنتی مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے بتایا کہ 161 اراکین اسمبلی نے تحریک کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا ہے۔اس لیے تحریک پر ووٹنگ کے لیے پیش کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔خیال رہے کہ قواعد کے مطابق تحریک کی منظوری کے لیے کم از کم 20فیصد یعنی 68 اراکین کی حمایت ضروری ہے۔شہباز شریف نے عدم اعتماد کی تحریک کا متن پڑھ کر سنایا۔انہوں نے کہا کہ ’اس ایوان کی رائے ہے کہ عمران خان وزیرِ اعظم قومی اسمبلی کے اراکین کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں لہٰذا انہیں عہدے پر فائز نہیں رہنا چاہیے۔ تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس 31 مارچ تک ملتوی کر دیا۔تحریک پر بحث جمعرات کو ہو گی۔ خیال رہے کہ اس تحریک پر 3دن کے بعد اور 7دن کے اندر ووٹنگ کرانا لازم ہے۔اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن کے اراکین اپوزیشن لیڈر کے ساتھ فوٹو بنواتے رہے ،اجلاس میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی مہمانوں کی گیلری میںموجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے