English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسلام آباد ہائیکورٹ،الیکشن کمیشن کو وزیراعظم کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم

القمر

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے الیکشن کمیشن کے نوٹس کیخلاف وزیراعظم عمران خان اور اسد عمر کی درخواست پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کو وزیر اعظم کیخلاف حتمی کارروائی سے روکتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آئندہ سماعت تک نااہلی اور جرمانہ نہیں کرے گا۔اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔انہوں نے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن اس نتیجے پر کیسے پہنچا کہ آرڈیننس کا اطلاق وزیراعظم پر نہیں ہوتا ،الیکشن کمیشن وزیر اعظم کو جرمانے کررہا ہے، اگلا مرحلہ نااہلی کا ہے۔ اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کی نااہلی کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے ۔جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک ایسا کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا،روز2 ،3 نوٹس وزیراعظم کو ملتے ہیں، مینگورہ میں صبح نوٹس کرتے ہیں اور کہتے ہیں شام کو پیش ہوجائیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن آرڈیننس کو ختم کر سکتا ہے؟جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے پاس آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ۔جس پر عدالت نے پوچھا کہ اگر الیکشن کمیشن نے کوڈ آف کنڈکٹ بنایاہو توکیا آرڈیننس کے ذریعے اس کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم کا معلوم ہوتا ہے کہ وہ سوات جارہے ہیں تو الیکشن کمیشن فوری کہتا وہاں نہ جائو،الیکشن کمیشن ڈیڈی کی طرح ایکٹ کررہا ہے ،خان صاحب نہ تو سیاسی جماعت ہیں نہ امیدوار مگر انہیں صبح شام نوٹس مل رہے ہیں، ہیڈ آف گورنمنٹ کو نہیں روکا جا سکتا ،ہیڈ آف اسٹیٹ کو روکا جا سکتا۔اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کو مزید کارروائی سے عارضی طور پر روکا جائے،وزیر اعظم سیاسی سرگرمیوں میں غیر جانبدار نہیں رہ سکتا ، پارلیمانی نظام میں اسٹار پرفارمر کو کیسے الگ کیا جاسکتا ہے، ہمارے آئین کی ہر گز یہ اسکیم نہیں ہو سکتی کہ الیکشن کمیشن یقینی بنائے کہ آپ کسی گورنمنٹ اسکیم کا اعلان نہیں کر سکتے ، کوئی بھی وزیر سرکاری گاڑی استعمال نا کرے ،وزیر اعظم نے تحریری ہدایت دی تھی کہ میں اپنی جیب سے یا پارٹی اخراجات کروں گا۔اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ حکومت پاکستان کے ہیلی کاپٹر استعمال ہورہے ہیں ،حکومتی مشینری کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے یہ بات نوٹس میں لکھی ہے ،اگر الیکشن کمیشن کے پاس ایسا کوئی ثبوت ہے تو اس کے اپنے نتائج ہوتے ہیں ۔جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس میں لکھا ہے کہ ریاستی مشینری کا استعمال کیا گیا ہے ۔جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جو بھی ریاستی مشینری استعمال ہوئی اگر الیکشن کمیشن نوٹس دیتا وہ رقم واپس ہوجاتی ہے ، وزیراعظم کا کم سے کم سیکورٹی پروٹوکول بھی ضروری ہوتا ہے، دوسرے ممالک میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے کہ رقم کی ادائیگی ہوجاتی ہے۔اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے بلاول کو بھی نوٹس جاری کیا ۔جس پر اٹارنی جنرل نے الیکشن کمیشن کے وکیل کا شکریہ ادا کیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر قانونی نکات پر دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 6 اپریل تک سماعت ملتوی کر د ی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے