اسلام آباد ( آن لائن+صباح نیوز )چودھری برادران میں بھی اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ چودھری شجاعت حسین نے گھر پر ہونے کے باوجود حکومتی وفد سے ملاقات نہیں کی۔ شجاعت حسین حکومت کے ساتھ مزید چلنے کو تیار نہیں، سالک حسین، حسین الٰہی نے بھی حکومت کے ساتھ چلنے سے انکار کردیا۔ ذرائع کے مطابق شجاعت حسین نے پرویز الٰہی کے حکومتی پیشکش قبول کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جب کہ وفاقی وزیر مونس الٰہی عمران خان کا ساتھ دینے کے لیے بضد ہیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق مونس الٰہی چودھری شجاعت حسین کو اپنی بات پر قائل نہ کرسکے ۔ علاوہ ازیں ق لیگ کے سینئر رہنماطارق بشیر چیمہ نے وفاقی کابینہ سے استعفا دے دیا ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وزارت سے استعفا دے دیا ہے، عمران خان کے خلاف ووٹ دوں گا، انہوں نے کہا کہ میں نے ضمیر کی آواز کے مطابق کوشش کی ہے فیصلہ کروں۔ان کا کہنا تھاکہ بہت بہتر انداز میں معاملات حل ہوسکتے تھے لیکن وزیراعظم نے بہت سارا وقت ضائع کردیا۔ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے کہا کہ چودھری شجاعت میرے لیڈر اور صدر ہیں انہوں نے مستعفی ہونے کی اجازت دی ہے۔
