English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ق لیگ کو وزارت اعلیٰ دینا مریم کو پسند نہیں تھا، اسی لئے عمران خان سے جا ملے، چودھری پرویز الٰہی

القمر

چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ مریم نواز شریف کو پسند نہیں تھا کہ مسلم لیگ ق کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دی جائے جبکہ نواز شریف نے بھی اس معاملے کو ویٹو کر دیا تھا۔ اسی لئے عمران خان سے جا ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس لئے شہباز شریف کی جانب سے کھانے کی دعوت پر نہیں گئے، کیونکہ انہوں نے جن کیساتھ آن بورڈ ہونا تھا، وہ نہیں تھے۔ شہباز شریف کی اہمیت اپنی جبکہ لیکن وہ اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے ویٹو کو بدل نہیں سکے۔

مسلم لیگ ق کے صدر نے بڑا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ دوسروں کی بدقسمتی اور ان کی خوش قسمتی ہے کہ انھیں چیزوں کا علم ہو جاتا ہے۔ یہ علم بھی ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) حکومت کیساتھ آن بورڈ ہے۔

یہ اہم باتیں انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ”کیپیٹل ٹاک” میں گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ جن کو آن بورڈ ہونا چاہیے تھا وہ شہبازشریف سے آن بورڈ نہیں تھے، اب وہ لوگ میٹر کرتے ہیں مثال کے طور پر مریم بی بی کو پسند نہیں تھا، وہ گروپ محسوس کرتا تھا کہ ہم سات دس سیٹوں والوں کو کیوں سارا کچھ ہی دے دیں؟

خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کرلی۔ اس حوالے سے آج سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ق لیگ والے رات 12 بجے مبارکباد دینے آتے ہیں ، صبح کہیں اور چلے جاتے ہیں۔

کیپیٹل ٹاک میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ طارق بشیر چیمہ پہلے مشاورت میں شامل تھے، تاہم بعد میں انھیں یہ چیز پسند نہیں آئی اور کہا کہ میں نے پی ٹی آئی کو ووٹ نہیں دینا، آپ کی وجہ سے ساڑھے تین سال گزارا کیا ہے اور وہ اپنی بات پر قائم ہیں۔

جہانگیر ترین گروپ سے متعلق پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین سے کل فون پر میری بات ہوئی، معاملات طے پا گئے ہیں۔ مونس الٰہی لندن گئے تو جہانگیر ترین کے بیٹے نے بات کرائی لیکن ملاقات نہیں ہوئی۔ جہانگیر ترین لیزر تھراپی کرا رہے تھے، اس لئے ملاقات نہیں ہو سکی لیکن ان کے بندے آگئے تھے۔ چودھری پرویز الٰہی نے بتایا کہ جہانگیر ترین گروپ کل ملاقات کیلئے آ رہا ہے جبکہ آج بھی ان کے لوگ آئے ہوئے تھے۔

ایم کیو ایم سے متعلق معاملات پر انہوں نے بتایا کہ میں نے وزیراعظم کو کہا ہے کہ متحدہ کو گورنرشپ اور وزارت بحری امور دیں، انہوں نے کہا کہ ہم کر رہے ہیں۔ پرویز خٹک سے رابطہ ہوا انھوں نے کہا کہ ادھر ہی بیٹھا ہوا ہوں، ایم کیو ایم آن بورڈ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تحریک انصاف کے ساتھ سنجیدہ پیشکش چل رہی تھی۔ وزیراعظم عمران نے خود فون کیا کہ انتظار کر رہا ہوں آ جائیں۔ پھر ہم بنی گالہ گئے۔ آج پھر عمران خان سے ملاقات کی جس میں انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں آپ کا ہماری جماعت میں اچھا رسپانس آیا۔

چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ جو شریف فیملی کے لوگ میٹر کرتے ہیں، شہباز شریف کا اپنا ایک سٹیٹس ہے لیکن وہ اپنے بھائی کے ویٹو کا رخ نہیں موڑ سکے، ان کے بیٹے سلیمان کی جانب سے خصوصی میسج آیا تھا۔

ان کا کہنا تھاکہ ان کی بدقسمتی اور ہماری خوش قسمتی کہ ہمیں چیزوں کو علم ہو جاتا ہے۔ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ ہمارا ٹائم پیریڈ وہ تین سے 4 مہینے کا ہے، اس سے زیادہ نہیں اور یہ طے ہے۔

ق لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ہماری ایک پوری تاریخ ہے۔ 3 دفعہ ہمارے ساتھ پہلے بھی یہی ہوا تھا۔ ہم ان کے ساتھ بڑے ہی محتاط طریقے سے چلتے ہیں۔ زرداری نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ نہیں بناتے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ن لیگ والے ہمیں بھی مطمئن کر رہے تھے اور آصف زرداری کو بھی، انھوں نے نیا آغاز کیا تھا تو سوچا کہ اور بڑا وفد بنا کر بھیجتے ہیں،اور وہ جا کر ان کو کہیں کہ میاں صاحب کا بھی اوکے آگیا اور سارے معاملات ٹھیک کرلیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے