اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) قومی اسمبلی کے اسپیکر نے اتوار کو تحریک عدم اعتماد سے متعلق اجلاس ہفتے اور اتوار کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ اسیپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے شرکت کی، اس بیٹھک میں تحریک عدم اعتماد اور قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق اراکین نے قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتے اور اتوار کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جس میں تحریک عدم اعتماد پر بحث کی جائے گی۔علاوہ ازیںوزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابراعوان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں بہت بڑے پیمانے پر باہر کا پیسہ استعمال ہورہا ہے،خریدے ہوئے اراکین کو کہا جارہا ہے الیکشن کمیشن نااہلی کا فیصلہ چھ مہینے میں کرے گا،ہماری تیاری مکمل ہے ہم سرپرائز دیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ آج ڈالرز اور پاؤنڈز چلائے جارہے ہیں ،وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کو ہدایات بھیجی ہیں کہ پی ٹی آئی کے اراکین ووٹنگ میں نہیں جائیں گے، خریدے ہوئے اراکین کو کہا جارہا ہے الیکشن کمیشن نااہلی کا فیصلہ چھ مہینے میں کرے گا، ان کو کہا گیا کہ نااہلی کچھ عرصے کی ہوگی، ہماری تیاری مکمل ہے ہم سرپرائز دیں گے۔ بابراعوان نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے سامنے وہ مراسلہ رکھنے کے سامنے تیار ہیں جو وزیراعظم نے جلسے میں لہرایا اس حوالے سے اسد عمر اور فواد چودھری نے پریس کانفرنس کی۔ جس دن مراسلہ منظر عام پر آگیا اس کے بعد پی ڈی ایم قیادت کو منہ چھپاتے کی جگہ نہیں ملے گی ،آخری پانچ اوورز 31 کے بعد شروع ہوں گے جس میں بہت سرپرائز ہوں گے۔
