English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قصہ ایک خط کا

القمر
وفاقی وزیر فواد چوہدری اور اسد عمر وزیراعظم کے دھمکی آمیز خط سے متعلق اہم پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ اسد عمر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر ضرورت ہے وزیراعظم یہ دھمکی آمیز خط چیف جسٹس پاکستان کو دکھانے کے لیے تیار ہیں، ابھی یہ مراسلہ سول ملٹری قیادت کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے اور کابینہ میں بھی ہر کسی کو اس خط کا علم نہیں۔ اسدعمر نے کہا کہ مراسلے سے ظاہر ہوتا تحریک عدم اعتماد میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہے انہوں نے بتایا کہ خط میں دو ٹوک الفاظ میں لکھا گیا ہے کہ اگر وزیراعظم منصب پر رہتے ہیں تو خوفناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ منحرک ارکان کو نہیں پتہ کہ تحریک عدم اعتماد کے پیچھے کیا ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ اس مراسلے میں براہ راست نوازشریف ملوث ہیں، مراسلے میں براہ راست عدم اعتماد کا ذکر ہے، مراسلے میں براہ راست پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ذکر ہوا، مراسلے میں دو ٹوک لکھا ہےکہ عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوئی تو خطرناک نتائج ہوں گے لہٰذا بیرونی ہاتھ اور عدم اعتماد کی تحریک آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر فواد چوہدری نے کہا کہ یہ مراسلہ چیف جسٹس پاکستان کو دکھانے کی بات ہوئی ہے، چیف جسٹس کو جوڈیشل کمیشن کے لیے نہیں دکھارہے بلکہ وہ ملک کے بڑے ہیں انہیں اس لیے دکھانے کی بات ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر کاکہنا تھا کہ مراسلے میں مزید لکھا کہ اگر عمران خان پاکستان کے وزیراعظم نہ رہیں تو اچھا ہوگا۔
اسلام آباد میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں اسد عمر اور فواد چوہدری کے بیانات کا محور اس سازشی نظریہ پر تھا کہ نواز شریف لندن میں بیٹھ کر غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ سازباز کر رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ہے۔ اس موقف کا سادہ سا مقصد عوام کو گمراہ اور ارکان قومی اسمبلی کو ان کے موقف سے باز رہنے پر آمادہ کرنا ہے۔ اسد عمر کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ’پاکستانی سیاست میں غیرملکی مداخلت اور وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا گہرا تعلق ہے۔ یہ خط تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے لکھا گیا تھا‘ ۔ البتہ وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس خط کے مندرجات قانونی وجوہات کی بنا پر عام نہیں کیے جا سکتے۔ اسد عمر کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے خود یہ خط دیکھا ہے اور اس کی گواہی دے سکتے ہیں۔ ان کے بقول یہ خط اعلیٰ سول اور فوجی قیادت کے علاوہ وفاقی کابینہ کے چند ارکان کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔
اسد عمر نے دعویٰ کیا کہ ’نواز شریف اسرائیلی سفارت کاروں سے بھی ملے ہیں۔ نواز شریف جیسے لوگ جب ملک سے باہر جاتے ہیں تو وہ بین الاقوامی اسٹبلشمنٹ کے آلہ کار بن جاتے ہیں‘ ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان جمہوری تحریک کی اعلیٰ قیادت جانتی ہے کہ یہ خط کیوں کر تحریک عدم اعتماد کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ وہ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہتے رہے ہیں کہ تمام معاملات طے ہوچکے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں پتہ ہے کہ کس طرح تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بیرونی سازش کام کر رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’البتہ اپوزیشن سمیت قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کو یہ پتہ نہیں ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔ اگر انہیں اس کی خبر ہوتی تو وہ اس سازش کا حصہ نہ بنتے۔ اب ساری معلومات سامنے آنے کے بعد ارکان اسمبلی بڑی تصویر کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔
اس دوران اپوزیشن کی طرف سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلا کر اس خط کو پاکستانی عوام کے نمائندوں کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن وفاقی حکومت کے نمائندے اس مشورہ و مطالبہ کو ماننے پر تیار نہیں ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسد عمر کے ساتھ پریس کانفرنس میں لیاقت علی خان کی شہادت، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور جنرل ضیا الحق کی ایک طیارے کے حادثے میں ہلاکت کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ملک میں وزیر اعظم کو ہٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس خط میں عمران خان کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے اپنا طرز سیاست تبدیل نہ کیا تو انہیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی‘ ۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس قسم کے دھمکی آمیز مراسلات کے بارے میں واضح قواعد موجود ہیں کہ ان کے بارے میں کسے مطلع کیا جاسکتا ہے۔ یہ حساس نوعیت کے معاملات ہوتے ہیں۔
فواد چوہدری نے اس اہم قومی معاملہ پر ایک قومی اخبار کے ان بنیادی سوالوں کا جواب دینے کی بجائے اسد عمر کے ساتھ پاکستان کی تاریخ کے واقعات کو مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور سازش کے بارے میں خط کے مندرجات پر چیف جسٹس کو گواہ بنانے کا ڈرامہ رچانے کو ترجیح دی۔ اس حکومتی طرز عمل سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سازش کون کر رہا ہے یا سازش کا نام لے کر کسے گمراہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہ رویہ قومی سیاست میں ایک نئی پستی کا اشارہ ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم عدم اعتماد سے بچنے کے لئے کسی بھی بے اصولی پر آمادہ ہے۔
بدھ، 30 ستمبر 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post قصہ ایک خط کا appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے