کولمبو (انٹرنیشنل ڈیسک) سری لنکا کی حکومت نے ملک بھر میں بجلی کی روزانہ 10 گھنٹے بندش کا اعلان کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق توانائی کے بحران کے باعث لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھایا گیا ہے۔ یکم مارچ سے ملک میں روزانہ 7گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری تھی۔ ایندھن کی کمی کے باعث پیٹرول پمپوںپر طویل قطاریں معمول بن چکی ہیں۔ توانائی کے شدید بحران کی وجہ ملک میں ایندھن کی شدید قلت کے ساتھ بارش نہ ہونا بھی ہے۔ سری لنکا میں 40 فیصد بجلی آبی بجلی گھروں کی مدد سے پیدا کی جاتی ہے۔ادھر حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں زندگی بچانے والی ادویات ختم ہو رہی ہیں ۔ ضروری اشیا درآمد کرنے کے لیے درکار ڈالر کی کمی ہونے کی وجہ سے ملک طبی شعبے میں بھی سنگین بحران سے دوچار ہے۔ اسپتالوں نے بے ہوش کرنے والی اور آپریشن کے لیے ضروری ادویات کی کمی کے باعث سرجری بند کردی ہے۔ ہیلتھ ٹریڈ یونین کا کہنا ہے کہ ادویات فراہم کرنے والوں کو 6 ماہ سے ادائیگیاں بھی نہیں کی گئی ہیں۔ڈاکٹر امراض کی تشخیص کرنے سے بھی قاصر ہیں کیونکہ ان کے ٹیسٹ کے لیے درکار زیادہ تر کیمیکل اور دیگر ضروری ادویات سرکاری اسپتالوں میں دستیاب نہیں ہیں۔
